ملزم چھڑانے کیلئے،100سے زائد خواتین کا پولیس پارٹی پر حملہ ،پتھروں کی بارش کانسٹیبل جاں بحق

    ملزم چھڑانے کیلئے،100سے زائد خواتین کا پولیس پارٹی پر حملہ ،پتھروں کی ...

خانیوال (نمائندہ پاکستان ) خانیوال پولیس کا ایک نوجوان قانون کے لیے اپنی جان کی قربانی کر گیا۔ہیڈ کانسٹیبل زوار سیال (بقیہ نمبر24صفحہ12پر )

نے پولیس ٹیم کے ہمراہ قتل او رڈکیتی کی سو سے زائد وارداتوں میں ملوث 2 حقیقی ڈاکوو¿بھائیوں جاناں اوڈھ اور شاناں اوڈھ کی گرفتاری کے لیے بستی اوڈھ پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ شاناں موقع پر موجود نہیں تھا ۔ ملزم کو چھڑانے کے لیے بستی اوڈھ کی سو کے لگ بھگ خواتین نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا ۔ انہو ںنے بدنام زمانہ اشتہاری جاناںاوڈھ کو پولیس حراست سے چھڑانے کی کوشش کی شدید پتھراو¿ کے باوجود پولیس ٹیم نے ملزم نہیں بھاگنے دیا جبکہ لاٹھی چارج او رشلینگ کے استعمال سے بھی گریز کیا اس دوران ہیڈ کانسٹیبل زوار سیال کے سینہ پر بھی بھاری پتھر لگا مگر اس نے چوٹ کھانے کے باوجود ملزم کی ہتھکڑی نہیں چھوڑی او رملزم کو تھانہ کہنہ کی حوالات میں بند کر دیا اس دوران کانسٹیبل کو سینہ میں شدید درد محسوس ہوا جہاں اس نے اپنے نذعی بیان میں بتایا کہ خواتین کی طرف سے پتھراو¿ کے نتیجہ میں اسے چوٹ آئی ہے تاہم ہسپتال جانے سے پہلے ہیڈ کانسٹیبل دم توڑ گیا واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس اور لواحقین سوگ میں ڈوب گئے خانیوال کے اٹھارہ پولیس اسٹیشنوں پر لگے پرچم سوگ میں سرنگوں کر دیئے شہید کو پورے اعزار کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا ذرائع کے مطابق پہلی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی جائے گئی جہاں پر پولیس آفسران او رجوان شریک ہونگے ڈی پی او خانیوال اسد سرفراز خان نے کہا کہ کاروائی پوسٹ ماٹم رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی پاکستان او رعوام کے لیے پولیس نے زازوال قربیاں دیں ہیں میں خو داس مقدمہ میں مدعی ہوں گا شہید کی فیملی کو تنہا نہیں چھوڑوں گا انصا ف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ جبکہ شہید کانسٹیبل کی شادی کے تین سال بعد گھر میں خوشی کی امید ننھے مہمان کی دنیا میں آنے سے پہلے والد کا سایہ اٹھ گیا ۔ اگلے ماہ ولادت متوقع تھی ذرائع کے مطابق شہید کانسٹبیل زوار کی شادی کے تین سال بعد اللہ نے اسے نئی امید دیکھا دی تھی مگر یہ خوشی اس کے نصیب میں نہیں تھی ۔

کانسٹیبل

مزید : ملتان صفحہ آخر