نواب ٹاؤن،پولیس6ماہ بعد بھی ڈکیتی کی واردات کا سراغ لگانے میں ناکام

نواب ٹاؤن،پولیس6ماہ بعد بھی ڈکیتی کی واردات کا سراغ لگانے میں ناکام

لاہور (کرائم رپورٹر) نواب ٹاؤن پولیس 6 ماہ گزرنے کے باوجود آل پاکستان ٹیچرز فیڈریشن کے چیئرمین اعظم بٹ کے گھر ہونے والی 18 لاکھ روپے کی واردات کا سراغ لگانے میں ناکام رہی جس پر انویسٹی گیشن بورڈ نے مقدمے کی تفتیش سی آئی اے سٹاف لاہور کے سپرد کر دی ہے۔ اعظم بٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 25 جنوری کو میرے گھر B 385 پی سی ایس آئی آر سوسائٹی میں واقع میرے گھر میں چوری کی سنگین واردات ہوئی میں اپنے بچوں اور ان کی فیملیوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہوں۔ میری بیگم نے طلائی زیورات، کرنسی اٹھارہ لاکھ مالیت پرائز بانڈ اور دیگر قیمتی اشیاء کچن کی دراز میں رکھے ہوئے تھے یہ کچن ہمارے زیر استعمال نہیں ہے اچانک کچن سے کچھ جلنے کی بدبو آئی ہم نے جا کر دیکھا تو آگ لگی ہوئی تھی اور ہماری دو ملازمائیں شازیہ اور رخسانہ بھی وہاں موجود تھیں، آگ بجھانے کے بعد ہم نے قیمتی سامان دیکھا تو وہ غائب تھا، تلاش کے بعد زیورات، کرنسی اور پرائز بانڈ کی تھیلیاں گھر کے ساتھ خالی پلاٹ سے ملیں شک گزرنے پر ہم نے کام والیوں کو نواب ٹاؤن پولیس کے حوالے کر دیا پولیس نے مقدمہ تو درج کیا لیکن آج تک تفتیشی افسر نے موقع بھی ملاحظہ نہ کیا۔ اعظم بٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان نے اس سال 15 لاکھ روپیہ ٹیکس اور 3 لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں دیئے تھے لیکن مذکورہ ادارے ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور واردات کے بعد بھی ملزموں کی گرفتاری کے لئے کچھ نہیں کیا گیا اس لئے ہم حق بجانب ہیں کہ اپنا ادا کردہ ٹیکس اور ڈیم فنڈ کی واپسی کا مطالبہ کریں۔ اعظم بٹ نے اپنی درخواست کی کاپیاں وزیر اعظم سے سی سی پی او لاہور تک سب کو ارسال کی ہیں جبکہ انویسٹی گیشن بورڈ نے تفتیش تبدیل کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں۔

مزید : علاقائی