مہشور کتابوں کے مقبول پبلشر : ملک مقبول احمد ، مقبول خدا ہوگئے

مہشور کتابوں کے مقبول پبلشر : ملک مقبول احمد ، مقبول خدا ہوگئے

عزم و ہمت، سعی پیہم، امانت اور دیانت کی یہ کہانی آج سے 89 سال پہلے 22 جنوری 1930ءکو سیالکوٹ کے ایک گاﺅں سے شروع ہوتی ہے حاجی ملک لال دین کے گھر میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے رسمی تعلیم تو بہت کم پائی لیکن اس نے اپنی خداداد صلاحیت اور استعداد کے باعث اپنی شخصیت کو یوں نکھارا کہ اہل علم و ادب میں مقبول ہو گیا۔ آج دنیا اس شخص کو ملک مقبول احمد کے نام سے جانتی ہے۔ گھر والے انہیں پٹواری بنانا چاہتے تھے۔ پٹوار سکول میں داخلہ بھی مل گیا تھا لیکن ملک مقبول احمد کے ذہن رسا نے جان لیا تھا کہ یہ ان کی منزل کا راستہ نہیں۔ شعر و ادب سے چونکہ فطری لگاﺅ تھا، چنانچہ درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ اس پیشے نے ان کی علمی اور ادبی پیاس مزید بڑھا دی۔ اقبال اور دیگر شاعروں کی شاعری کے پہلے ہی سے دیوانے تھے اب یہ دیوانگی مزید بڑھ گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ”چودھویں صدی“ کے نام سے ایک ادبی جریدہ نکالنے کا ارادہ کیا۔ رسالے کی اشاعت کا کام لاہور میں ممکن تھا چنانچہ ملک مقبول ا حمد لاہور آ گئے اور شاہ عالم مارکیٹ میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا اور رسالے کا دفتر بنایا۔ یہ 1957ءاور 1958ءکے درمیان کی بات ہے۔ اسی دفتر سے انہوں نے مقبول اکیڈمی کی اشاعتی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا۔ شروع میں انہوں نے تیرتھ رام فیروز پوری کے کچھ ناول اور احسان دانش کی شاعری کی کتابیں چھاپیں لیکن اس میں انہیں خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا چنانچہ انہوں نے ساری کتابیں ردی میں تول کر فروخت کیں۔ کتابوں کی اشاعت میں نقصان اٹھایا تو انہوں نے اپنے رسالے ”چودھویں صدی“ پر توجہ دینا شروع کی۔ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے مطابق اس وقت اس رسالے کی اشاعت آٹھ ہزار تھی اور محکمہ اطلاعات کے افسر اور ممتاز شاعر شان الحق حقی کے دستخطوں کے ساتھ اس رسالے کو سرکاری اشتہارات کا اہل قرار دیا گیا۔ اخباری کاغذ کا کوٹہ بھی منظور ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ ایک رسالے کے لئے سرکاری اشتہار اور کاغذ کا کوٹہ کسی انعام سے کم نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود ”چودھویں صدی“ جلد ہی بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک اور رسالہ ”نئے زاویئے“ شروع کیا۔ یہ کچھ زیادہ عرصہ چلتا رہا۔

اگر چہ ملک مقبول احمد کا کتابیں چھاپنے کا تجربہ کچھ اچھا نہ رہا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ نہوں نے مقبول اکیڈمی کے تحت ایسی کتابیں چھاپنے کا فیصلہ کیا جن کی لوگوں میں ڈیمانڈ تھی۔ جنہیں وہ پڑھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ اس زمانے کے مقبول ادیب رئیس احمد جعفری سے ملے۔ انہوں نے انہیں اپنے دو ناولوں کے مسودے دے دیئے۔ ملک صاحب نے یہ دونوں ناول چھاپے قیمت کم رکھی تھی اس لئے جلد ہی فروخت ہو گئے۔ یوں مقبول اکیڈمی کو پہلی کامیابی ملی اس کے بعد انہوں نے رئیس احمد جعفری سے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ” انڈیا ونز فریڈم“ کا ترجمہ کروایا یہ کتاب انہوں نے ” آزادی ہند“ کے نام سے چھاپی اس کتاب نے مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا اور ہر طرف مقبول اکیڈمی کا شہرہ ہو گیا۔ اس ترجمے کی مقبولیت کا سبب یہ تھا کہ اس میں رئیس احمد جعفری نے مولانا ابوالکلام آزاد کے بہت سے سوالات کے جوابات بھی دے دیئے تھے۔

انہی دنوں انہیں مزدور شاعر احسان دانش نے بتایا کہ ان کے پاس فرانس کے نام ور صاحبِ قلم گستاﺅلی بان کی کتاب ” تمدن عرب“کا نسخہ موجود ہے۔ ملک صاحب نے پانچ سو روپے کی خطیر رقم ادا کر کے ان سے یہ کتاب خرید لی اور بھاری سرمایہ کاری کر کے یہ ضخیم اور باتصویر کتاب چھاپ ڈالی ” سیرتِ ابنِ ہشام“ بھی چھاپی۔ یوں ملک صاحب مذہبی کتابیں چھاپ کر خوب کما رہے تھے۔ دولت بھی اور عزت بھی۔ محمد سعید کے تاریخی ناول بھی انہوں نے چھاپے۔ خواتین کی مقبول ناول نگار رضیہ بٹ کے ناول بھی انہوں نے تسلسل کے ساتھ چھاپے۔

ملک مقبول احمد سے میری پہلی ملاقات نہایت حیران کن ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے ملک صاحب کی ایک کتاب ” شناسا ادبی چہرے“ لا کر دی۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس میں جہاں بہت سے دوسرے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کے قلمی خاکے تھے، وہاں میرا خاکہ بھی شامل تھا۔ مزید حیران کن بات یہ تھی کہ اس میں درج میرے بارے میں تقریباً ساری معلومات درست تھیں۔ حالانکہ میں ان سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔ ان کی یہ کتاب دیکھ کر اور اپنا خاکہ پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ملک صاحب اپنے گرد و پیش سے بے خبر نہیں رہتے تھے۔ وہ تمام اہل قلم کے علمی و ادبی کارناموں سے آگاہ تھے۔ پھر میں اپنے اسی دوست کی معرفت ملک صاحب کی لوہاری دروازے کے عین سامنے واقع قدیمی دکان مقبول اکیڈمی پہنچ گیا۔ نہایت شفقت سے ملے۔ چائے پلائی۔ اپنی کئی کتابیں تحفتاً عنایت کیں۔ باتوں باتوں میں، میں نے انہیں بتایا کہ میری بیگم صاحبہ رضیہ بٹ کا کوئی ناول پڑھنا چاہتی ہیں تو انہوں نے اپنے دیرینہ ملازم محمد عزرم سے کہہ کر رضیہ بٹ کے لکھے ہوئے پندرہ بیس ناول منگوائے اور میرے حوالے کر دیئے۔ اس شان دار ملاقات کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ ہی چل نکلا۔ میں جب کبھی لوہاری سے گزرتا اور ملک صاحب دکان میں بیٹھے دکھائی دے جاتے تو میں ان کے سامنے جا دھمکتا۔ ٹی پیک والی چائے بھی مل جاتی اور دو چار کتابیں بھی مل جاتیں۔ ملک صاب کا معمول تھا کہ ہر تہوار کے موقع پر اپنے گھر کے لینڈ لائن نمبر سے مجھے فون کرتے۔ میری اور میرے اہل خانہ کی خیریت دریافت کرتے اور فون بند کر دیتے۔ مجھے ہر دفعہ شرمندگی اٹھانا پڑتی کہ پہل انہوں نے کیوں کی؟ بعد میں مجھے ان کے ملازم محمد عزرم نے بتایا کہ ملک صاحب نے اپنے دوستوں کے فون نمبر دو الگ الگ ڈائریوں میں لکھ رکھے تھے۔ ایک ڈائری دفتر میں رکھی رہتی اور دوسری گھر میں جب ان کا دل چاہتا، دوستوں کو فون کرتے، ان کی خیریت دریافت کرتے۔ عزرم نے یہ بھی بتایا کہ کئی لوگ ملک صاحب کے پاس آتے ،ادھار لے جاتے اور غائب ہو جاتے۔ جب میں انہیں ادھار کے بارے میں یاد دلواتا تو کہتے: ” کوئی بات نہیں یار! اس کی کوئی ضرورت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے اس کی مشکل آسان کر دی۔ انہی لوگوں کی برکت سے تو مجھے سب کچھ مل رہا ہے۔“

ملک صاحب کا یہ درویشانہ رویہ آخر تک قائم رہا۔ انہوں نے طویل عمر پائی لیکن زندگی کے آخری دنوں تک لوہاری میں واقع دکان پر آتے رہے۔ خود چل کر آتے۔ خود جاتے۔ کبھی کسی سہارے کے طلب گار نہ ہوئے۔ بس انتقال سے چند روز قبل انہوں نے دکان پر آنا چھوڑا۔ 22 مئی 2019ءکو وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔

ملک صاحب غالباً واحد ناشر کتب تھے جنہوں نے آپ بیتی کی شکل میں اپنے تجربات لکھے۔ ان کی یہ آپ بیتی ” سفر جاری ہے“ کے نام سے چھپی۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے پوتے بابر مقبول کے اصرار پر لکھی تھی۔ ملک صاحب خود بھی اس کتاب میں ایک بچے کی طرح زندگی کو حیرت سے دیکھتے نظر آتے ہیں۔ کبھی وہ سکول سے فرار کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کبھی کسی شخص کے بلا وجہ تھپڑ مارنے پر حیران نظر آتے ہیں۔ ان کی کتاب ” شناسا ادبی چہرے“ بعد میں ”150 مشاہیر ادب “ کے نام سے ان کے انتقال سے چند روز پہلے ہی چھپ کر منظر عام پر آئی جس میں احسان دانش، احمد عقیل روبی، اسرار زیدی، اظہر جاوید، اعزاز احمد اذر، افتخار مجاز، انوار فیروز، انور سدید، اے حمید، بانو قدسیہ، بشیر موجد، پر تو روہیلہ، حامد علی خاں، حفیظ تائب، حمید اختر، رحمن مذنب، رئیس احمد جعفری، ساغر صدیقی، ستار طاہر، ڈاکٹر سلیم اختر، علی سفیان آفاقی، سید قاسم محمود، محشر بدایونی، محمد منشا یاد، مرزا خلیل احمد بیگ، مسکین حجازی، وزیر آغا، وحید قریشی کے علاوہ اسلم انصاری، اختر شمار، اعتبار ساجد، امجد اسلام امجد، امجد پرویز، امینہ عنبرین، انوار قمر، ایم آر شاہد، باقی احمد پوری، تحسین فراقی، تنویر حسین، تنویر ظہور، جان کاشمیری، جبار مرزا، حسن عسکری کاظمی، خالد یزدانی، خواجہ محمد زکریا، رشید امجد، زاہد حسین انجم، زاہد منیر عامر، سرفراز سید، سعید بدر، سلمیٰ اعوان، شاہد علی خان، شبہ طراز، ڈاکٹر صفدر محمود، ڈاکٹر طارق عزیز، طاہر تونسوی، ظفر سپل، ظفر علی راجا، عائشہ مسعود، عبدالستار عاصم، عبدالکریم خالد، عذرا اصغر، علی محمد خان، عمران نقوی، عمرانہ مشتاق مانی، قائم نقوی، کیول دھیر، مجیب الرحمن شامی، محمد اجمل نیازی، محمد آصف بھلی، محیط اسماعیل، مقصود احمد چغتائی، منور عثمانی، ناصر بشیر، ناصر نقوی اور یونس جاوید کے شخصی خاکے شامل ہیں۔

ملک مقبول احمد کی شخصیت اور ان کے علمی کارناموں کو ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں نے یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:

ڈاکٹر انور سدید

میرے ایک مرحوم دوست کہا کرتے تھے کہ خود نوشت سوانح عمریاں بالعموم نمائش ذات کے لئے لکھی جاتی ہیں اور ان میں زندگی کے ان حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا تحریری سامنا مصنف نہیں کر سکتا۔ تاہم بعض آپ بیتیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں مصنف ماضی کے واقعات کی بازیافت کرتا ہے تو حق گوئی اور صداقت بیانی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا میں نے ان دنوں دو آپ بیتیاں ایسی پڑھی ہیں جن میں مجھے سچ کہنے اور لکھنے کے عناصر زیادہ نظر آئے۔ ایک کا نام ” فرد حیات“ ہے جو حکومت پاکستان کے ایک سابق اعلیٰ افسر جناب، اے کے خالد، کی تصنیف لطیف ہے۔ دوسری کتاب ملک کے ایک ناشر ملک مقبول احمد کی آپ بیتی ہے جو ” سفر جاری ہے“ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ حکومت کے سابق افسروں کی متعدد آپ بیتیاں چھپ کر قبول عام حاصل کر چکی ہیں لیکن کسی ” کتاب ساز“ کی یہ آپ بیتی پہلی دفعہ نظر سے گزری تو میں نے اسے بڑی دلچسپی سے پڑھا اور اس کی بنیادی اہمیت یہ بھی نظر آئی کہ اسے ڈاکٹر صفدر محمود، علی سفیان آفاقی، اے حمید، شعیب بن عزیز، طارق اسماعیل ساگر، ڈاکٹر طارق عزیز، سید واجد رضوی، ابوالامتیازع س مسلم، ڈاکٹر اللہ بخش ملک اور قمر نقوی نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ ملک مقبول احمد کی کتاب دوستی اور ادیب نوازی کی تحسین بھی کی ہے۔ آخری بات میں نے اس لیے لکھی ہے کہ بعض مصفین کاروباری معاملات میں اکثر ناشرین کی شکایت کرتے اور ان پر ” وعدہ خلافی“ کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ اس زاویئے سے ملک مقبول احمد خوش قسمت ناشر ہیں کہ ان کے کاروباری اخلاق کی سب نے تعریف کی اور ” نوائے وقت“ جیسے نظریاتی اخبار نے تو یہ بھی لکھا کہ ” مقبول اکیڈمی کا قبلہ درست ہے۔“

اظہر جاوید

” بعض لوگ اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ ان پر رشک آتا ہے۔ بندہ ان کے کمالات دیکھ دیکھ کر اس کرید میں رہتا ہے کہ کاش، کہیں کوئی خامی بھی نظر آ جائے، اور جب ایسا نہیں ہوتا، یا جو بندہ ناکام رہتا ہے، تو پریشان ہو کر پھر ان کے کمالات میں گم ہو جاتا ہے۔“

ملک مقبول کو میں ایک شریف آدمی اور وضع دار انسان سمجھتا تھا۔ افسوس، اس وقت ہوا، جب وہ چپ چپاتے ادیب بن گئے، اور یک بہ یک مشہور بھی ہو گئے۔ ان کی شرافت میں کھنڈت یہیں پڑی اور ان کی وضع داری کا بھرم اس وقت ٹوٹا، جب ان کے ایک زیر احسان شخص نے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی.... میاں محمد بخش نے ہم ایسے لوگوں کے لئے کہا ہے، دنیا دار کمینے.... تو کمینگی نے سر اٹھایا اور میں نے سوچا، برسوں سے کاروان ادب میں شامل ہیں مگر دھول ہی بنے رہے، اور موصوف آئے اور آتے ہی جرس کاروان ادب بن گئے....میرے خیال میں یہ ان کی غیر شریفانہ حرکت تھی۔ چلیں لکھنا ہی تھا تو ہم ایسے کج مج بیان لوگوں کی طرح لکھتے نہ کوئی تعریف کرتا نہ تحسین کی داد نچھاور کرتا.... ہم نے تو برسوں کی ریاضت کے بعد منافق اور مخالف پالے ہیں۔ انہو ںنے پہلی کتاب کی اشاعت کے پہلے مہینے ہی میں اپنے حاسد پیدا کر لیے تھے۔“

امجد اسلام امجد

مقبول اکیڈیمی لاہور کا ایک قدیم اور مستند اشاعتی ادارہ ہے اور ملک مقبول احمد نے اس کی سربراہی کے حوالے سے گزشتہ کم از کم چھ دہائیوں سے لاہور کی ادبی اور معاشرتی فضا کو بہت قریب سے دیکھا، جانچا، پرکھا اور اس میں سانس لیا ہے۔ سو ان کی خود نوشت ” سفر جاری ہے“ ان کے گوناگوں شخصی مشاہدات اور تجربات کے بیان کے ساتھ ساتھ اس دور کے ادیبوں اور ادبی فضا کا احوال اور منظر نامہ بھی بن گئی ہے، جس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں۔

ملک مقبول احمد نے یہ خود نوشت بڑے سادہ اور غیر رسمی انداز میں لکھی ہے اور بڑے حوصلے سے ان مسائل پر بھی قلم اٹھایا ہے، جنہیں عام طور پر احباب چھپانے یا نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی پہلی شادی کی ناکامی اور اس کے اسباب کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی دوسری بیوی سے پہلی ملاقات کی روداد لکھتے وقت مشترکہ خاندانوں اور برادریوں میں پائے جانے والے دباﺅ، اس زمانے کے عائلی قوانین اور اپنی ذاتی الجھنوں کو بھی بڑے سلیقے اور تناسب سے بیان کیا ہے۔

کسی بھی ادبی کتاب اور بالخصوص سوانح عمری کی بنیادی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ اس میں قاری کو متوجہ رکھنے اور اپنے پڑھے جانے کی کشش اور طاقت موجود ہو ” سفر جاری ہے“ میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ ان کو مبارک باد کہ اب وہ پبلشر کے ساتھ ساتھ بطور لکھاری بھی اردو ادب کا حصہ بن گئے ہیں۔

عبدالستار عالم

زندہ قوموں کے اکابرین اپنی عملی زندگی کے تجربات آنے والی نسلوں کو منتقل کر کے اپنا ” فرض“ تاریخ کے سپرد کر کے روشن مثالیں قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ” بڑے لوگ“ قد سے نہیں بلکہ اپنے کارناموں سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں میں سے ایک نام ملک مقبول احمد ایم ڈی مقبول اکیڈمی کا بھی ہے جنہوں نے جہد مسلسل سے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے۔ انہوں نے اپنی نصف صدی کی کاوشوں کی خوبصورت کہانی کو ” سفر جاری ہے“ کے نام سے لکھ کر تاریخی ادبی کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ایسی عظیم نابغہ روز گار شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ” سفر جاری ہے“ ملک صاحب کی زندگی کے تمام تجربات کا مثبت نچوڑ ہے انہوں نے جہد مسلسل سے دنیا پر ثابت کیا ہے کہ اگر انسان خلوص نیت سے اپنی زندگی کی شاہراہ پر ” سفر جاری“ رکھے تو ایک دن کامیابی و کامرانی خود قدم چوم لیتی ہے۔ اگرچہ وطن عزیز میں سوانح عمریاں لکھنے کی روایات بہت کم ہے مگر ترقی یافتہ ممالک میں بڑے اور کامیاب لوگ اپنی سوانح حیات ضرور کھتے ہیں۔ اور ان معاشروں میں دانشور کمیونٹی کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ البتہ وطن عزیز میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں کی وہ عزت اور احترام نہیں جو یورپی معاشرے میں انہیں حاصل ہے۔

اے حمید

میرے اور مقبول اکیڈمی کے مالک ملک مقبول احمد صاحب کے تعلقات چالیس، پینتالیس سال پرانے ہیں۔ وقت نے اور خاص طور پر ملک صاحب کے پر خلوص رویئے اور میری خود غرضیوں کو کشادہ دلی سے درگزر کر دینے والے جذبے نے نہ صرف مزید پائیدار کر دیا ہے بلکہ ان دیرینہ تعلقات کو دوستی کے رشتے میں بدل دیا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا۔ ملک صاحب کا اشاعتی ادارہ مقبول اکیڈمی شاہ عالمی دروازے کے اندر لال مسجد کے پاس ایک بلڈنگ کی دوسری منزل کے فلیٹ میں تھا۔ اگرچہ اس وقت مکتبہ اردو نیا ادارہ کی طرف سے بھی میری کتابیں چھپ رہی تھیں۔ اور میرا ان اداروں میں بھی آنا جانا رہتا تھا۔ مگر ملک مقبول صاحب کے ہاں جا کر مجھے ہمیشہ بڑی خوشی ہوتی تھی۔ میں مقبول اکیڈمی واقع شاہ عالمی دروازے کے دفتر میں داخل ہوتا تو دیکھتا کہ جواں سال ملک صاحب سیاہ گھنگریالے بالوں اور چمکتے چہرے کے ساتھ میز کے پیچھے کرسی پر بیٹھے کام کر رہے ہوتے تھے چہرہ اٹھا کر دلکش مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے اور کہتے۔

” کچھ لکھ کر لائے ہیں؟“

ملک مقبول صاحب کو شروع ہی سے اچھے اچھے مستند ادیبوں، شاعروں سے کتابیں لکھوانے اور پھر ان کتابوں کو طباعت کے اعلیٰ معیار کے ساتھ چھاپنے سے عشق کی حد تک لگاﺅ رہا ہے ۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2