”مقبول بارگاہ“

”مقبول بارگاہ“

اللہ تعالیٰ ملک مقبول احمد کے پوتے بابر اور نواسی ماریہ کو سلامت رکھے کہ ان کی بدولت اُردو زبان کو ایک ایسا قلم کار عطا ہوا ہے، جس کی پہلی کاوش ہی نے اسے ممتاز مصنفین کی صف میں لاکھڑا کیا ہے ؎

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا مَیں

ملک صاحب کی عمر دوسروں کی کتابیں چھاپتے گزری ہے۔انہوں نے مصنفین سے فیض پایا بھی اور ان کو فیض پہنچایا بھی،لیکن وہ خود کوئی کتاب لکھیں گے یا لکھ پائیں گے، یہ انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ وہ شوہر بنے، ابو بنے اور پھر ماشاء اللہ دادا بنے، نانا بنے۔ان کا ننھا پوتا بابر ان سے ان کی زندگی کے بارے میں طرح طرح کے سوالات کرتا اور پوچھتا ہے کہ کتابیں شائع کرنے کا کام کیوں اور کب شروع کیا؟ یہ خیال ذہن میں کیسے آیا؟ آپ پیدا گاؤں میں ہوئے تو پھر شہری زندگی کیوں اختیار کر لی؟وغیرہ وغیرہ۔ دادا ابو پوتے کو اس کے سوالوں کے جوابات دیتے تو وہ حیران رہ جاتا وہ کہتا کہ آپ یہ سب کچھ لکھ ڈالیں، ایک کتاب کی صورت میں۔ وہ اسے جواب دیتے، یار مَیں کوئی ادیب یا قلم کار نہیں۔ مجھے لکھنے کا فن نہیں آتا۔ پوتا مچل جاتا، ”تو آپ یہ فن سیکھ لیں ناں“۔ پوتے کا اصرار بڑھتا گیا اور دادا ابو سوچ میں پڑتے گئے۔ ان کے دوست بھی ان سے یہی کہتے۔ نواسی ماریہ نے سنا تو وہ بھی ضد کرنے لگی: نانا ابو، بس جلدی سے لکھ ڈالیں۔ بالآخر نانا نے قلم اٹھا لیا اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ بھی معلوم تھا(بقول خود) بلا کم و کاست لکھ ڈالا۔ کاروباری زندگی کو البتہ سنسر کر دیا اور جن کاروباری دوستوں،رشتہ داروں یا افسروں سے رنج پہنچا، ان کا ذکر حتی المقدور نہیں کیا، تاکہ آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے۔

”سفر جاری ہے“ان کی خود نوشت سوانح حیات کا عنوان ہے ؎

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

برادرِ عزیز،شعیب بن عزیز کے بقول ملک مقبول احمد پہلے پاکستانی ناشر ہیں،جنہوں نے خود نوشت سوانح حیات تحریر کی، اس لحاظ سے بھی انہوں نے نشانِ امتیاز حاصل کر لیا ہے۔ وہ کتاب لکھ کر ادیبوں میں تو شمار(بلکہ ممتاز) ہوئے ہی تھے، اپنے پیشے سے تعلق رکھنے والوں میں بھی منفرد قرار پائے ہیں۔

ملک صاحب کی زندگی کا سفر ایک عام سے دیہاتی بچے کے طور پر1930ء میں شروع ہوا تھا۔ ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں ایک پولیس اہلکار کے ہاں آنکھ کھولی۔ والد چند ایکڑ اراضی کے مالک تھے، اور گھر کا خرچ بآسانی چل رہا تھا۔ آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا، تو آگے پڑھنے کی خواہش دِل میں موجود تھی، لیکن اردگرد کے کسی گاؤں میں کوئی ہائی سکول نہیں تھا اور دور بھیجنے کے لیے والدین تیار نہ تھے۔اس لیے عملی زندگی کے آغاز کے منصوبے بننے لگے۔ والد نے انہیں پٹواری بنانے کی کوشش کی کہ ان دنوں بڑی بوڑھیاں ڈپٹی کمشنر کو بھی دُعا دیا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں پٹواری بنا دے۔ گوجرانوالہ کے پٹواری سکول میں داخل کرا دیا گیا، لیکن لمبے چوڑے رجسٹر، جمع بندیاں، زمینوں کی پیمائش، فصلوں کا حساب کتاب ان کو نہ بھا سکا۔ پٹواری نہ بننے کا فیصلہ کر کے گھر پہنچ گئے۔

وہ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنا یا بننا چاہتے تھے۔ یہ تو خبر نہیں تھی کہ وہ کیا بنیں گے،لیکن کچھ ”بننے“ اور کچھ ”کر دکھانے“ کی خلش دِل میں موجود تھی اور انہیں کچھ اور کرنے پر مجبور کرتی رہتی تھی۔

سوچتے سوچتے استاد بننے کا فیصلہ کر لیا۔ پاکستان بن چکا تھا، ہندو اور سکھ استاد نقل مکانی کر گئے تھے۔ نئے ملک کو اساتذہ کی ضرورت تھی۔ گورنمنٹ نارمل سکول میں داخلے کا اشتہار چھپا تو درخواست بھجوا دی کہ یہ استادوں کی تربیت کا ادارہ تھا۔ مطلوبہ عمر کی حد سال پہلے گزر چکی تھی، لیکن نشستیں زیادہ تھیں اور درخواستیں کم، سو داخلہ مل گیا۔ یہ پاکستان کا ان پر پہلا احسان تھا۔ نیا ملک نہ ہوتا تو داخلہ نہ مل پاتا، ان کی عمر ان کی آرزو کے آڑے آ جاتی۔1950ء میں تربیت مکمل ہوئی تو ملازمت کے حصول کا مرحلہ درپیش تھا۔ آج شاید کوئی اِس بات پر یقین نہ کرے،لیکن ان دِنوں ملازمت کے حصول کے لیے سفارش یا کشکول کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ فارغ التحصیل ہونے والوں کی فہرستیں ضلعی انسپکٹر تعلیم کو بھیج دی جاتی تھیں۔ جب کوئی اسامی خالی ہوتی، ان فہرستوں کے مطابق تقرر کے احکامات تربیت یافتہ معلمین کو گھر بھجوا دیے جاتے۔باری آنے پر انہیں بھی خط تقرر مل گیا اور وہ اپنے آبائی گاؤں سے دو اڑھائی میل کے فاصلے پر واقع گورنمنٹ پرائمری سکول میں استاد بن کر جا پہنچے۔

مقبول احمد کی خواہش تو پوری ہو گئی،لیکن وہ مطمئن نہیں ہو پائے۔ان کے اندر بیٹھا ہوا کوئی شخص ان سے مسلسل کہتا رہتا تھا کہ تمہاری منزل دور ہے۔”تمہارا سفر جاری ہے“کچھ اور سوچو، کچھ اور کرو، کچھ اور آگے بڑھو۔ اقبال اور کلام اقبال سے ان کو دِلی لگاؤ پیدا ہو چکا تھا۔ اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے یہ شعر زبان پر رہتا ؎

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

وہ اپنی والدہ کی خدمت کرتے ہوئے ان کے پاؤں دباتے ہوئے اس بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتے تو وہ سراپا دُعا بن جاتیں:”اللہ تمہاری منزلیں آسان کرے، تمہیں دین و دُنیا کی اتنی نعمتیں دے کہ تم ان کو سمیٹ نہ سکو“۔

ملک صاحب نے اپنے ان الفاظ کی لاج رکھی ہے،اور ایسی کتابیں چھاپی ہیں، جو معاشرے پر اچھے تاثرات مرتب کریں۔ پیسہ کمانے کے لیے انہوں نے ”شیطان“ سے کبھی سمجھوتہ تو کیا رابطہ بھی نہیں کیا۔ دیانت، محنت اور استقامت کے ساتھ رحمن کے راستے پر چلے ہیں اور مشکات کو زیر کرتے گئے ہیں۔مقبول اکیڈمی اب ایک ادارہ نہیں، ایک تحریک ہے اور اس سے کئی ادارے جنم لے چکے ہیں، ان کے بچے ان کے شریک کار ہیں اور ان کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ملک مقبول احمد کی کہانی ہر شخص کی کہانی بن سکتی ہے۔ ہر شخص کو آگے بڑھا سکتی اور کامیابی کا چہرہ دکھا سکتی ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ تقدیر کے شکوے کرنے اور آگے بڑھنے والوں کو دیکھ دیکھ کر کڑھنے کی بجائے کچھ کرنے کا عزم کیا جائے اور نیک نیتی کے ساتھ آغازِ سفر کر دیا جائے۔

کافر ہے تو تقدیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

واہ، کیا ہے بندہ مومن،یعنی ”مقبولِ بارگاہ“ کی۔

مزید : ایڈیشن 2