40ہزار روپے والے انعامی بانڈ کی رجسٹریشن لازمی قرار، 30ستمبر کے بعد بے نامی بانڈ ز ر وی بن جائیں گے

40ہزار روپے والے انعامی بانڈ کی رجسٹریشن لازمی قرار، 30ستمبر کے بعد بے نامی ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایمنسٹی سکیم پر عملدرآمد تیز کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ 40 ہزار روپے کے بے نامی بانڈز غیر فعال کئے جانے کی تیاری ہے۔دنیا نیوز ذرائع کے مطابق حکومت نے منی لانڈرنگ کیخلا ف ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے 40 ہزار روپے کے انعامی بانڈز کی شکل میں کالا دھن چھپانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے بانڈز کی ملکیت ظاہر کرنا لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر تے ہوئے اس حوالے سے سٹیٹ بینک کو جلد سرکلر جاری کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ذ ر ائع کے مطابق چالیس ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی رجسٹریشن کے متعلق سٹیٹ بینک دو روز کے اندر قواعد کا اعلان کریگا، 30 ستمبر کے بعد بے نامی بانڈز ردی بن جائینگے۔سٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق 40 ہزار روپے والے جو بانڈز اب تک جاری کئے جا چکے ہیں، ان کی کل مالیت 260 ارب روپے ہے۔سٹیٹ بینک 17 جون تک ایف بی آر کو 40 لاکھ نان فائلرز کا ڈیٹا بھی فراہم کرے گا جن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کیلئے اب تک 5 ہزار افراد نے درخواستیں جمع کرا ئی ہیں۔

انعامی بانڈز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائد اٹھانے کیلئے 5 ہزار افراد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے رجوع کر لیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بتایا ہے کہ ہ ایمنسٹی سکیم کیلئے درخواست دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ایف بی آر کاکہنا ہے کہ 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز لازمی رجسٹر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں سٹیٹ بینک ایک دو دن میں سرکلر جاری کرے گا، بانڈ رجسٹر ڈہونے سے ایمنسٹی حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ایف بی آر کے مطابق مہنگی کاریں خریدنے اور فضائی سفر کرنے والوں کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا، بینک بھی 15 جون تک تمام ڈیٹا ایف بی آر کو فراہم کردیں گے جبکہ ہرشخص نادرا کے پاس موجود اپنا معاشی ڈیٹا 500 روپے دے کرحاصل کر سکتا ہے، ایف بی آر کے پاس چالیس لاکھ افراد کا ڈیٹا موجود ہے۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ نان فائلرز کو نئے فنانس بل میں غیر منقولہ جائیداد اور گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی گئی، حقیقت یہ ہے کہ نئے فنانس بل میں نان فائلرز کی قانونی حیثیت کو ہی ختم کردیا گیا۔ترجمان ایف بی آر کے مطابق تمام افراد کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت اپنی ٹیکس ایبل آمدنی کے گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں، کسی بھی بڑی مالی ٹرانزیکشن پر گوشوارے داخل نہ کرنے کی صورت میں مکمل طریقہ کار دسویں شیڈول کے تحت وضع کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ایسے افراد کو نہ صرف ودہولڈنگ سٹیج پر 100 فیصد زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ خود طریقہ کار سے ٹیکس کے تعین کے بعدچھپائی گئی آمدن پر جرمانہ اور سزا بھی لاگو ہوگی۔

ایف بی آر

مزید : صفحہ اول