بانی ایم کیو ایم سے تفتیش مکمل، ضمانت پر رہا، پولیس کو کوئی جواب نہ دیا 

بانی ایم کیو ایم سے تفتیش مکمل، ضمانت پر رہا، پولیس کو کوئی جواب نہ دیا 

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)بانی ایم کیو ایم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم سے گزشتہ رات برطانوی وقت کے مطابق رات 10 سے 12بجے تک تفتیش کی اور ان سے مختلف سوالات کئے تاہم الطاف حسین نے لندن پولیس کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔بانی ایم کیو ایم نے پولیس کو صرف اپنے نام، تاریخ پیدائش اور گھر کے پتے کی تصدیق کی جب کہ دورانِ تفتیش الطاف حسین کے وکلا بھی ان کے ساتھ تھے۔اس کے علاوہ پولیس نے بانی ایم کیو ایم کے گھر اور ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی تلاشی مکمل کر لی ہے جہاں سے الطاف حسین کی تقاریر سے متعلق مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔دوسری جانب لندن پولیس نے بانی ایم کیوایم کو مزید 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کی درخواست دے دی ہے۔الطاف حسین کی 24 گھنٹے کے لیے حراست کا وقت پورا ہونے کے بعد انہیں مزید حراست میں رکھا جائے گا جس کے لیے درخواست ساتھ ورک پولیس اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ نے دی ہے۔ اس حوالے سے لندن  پولیس کاکہناہے کہ الطاف حسین کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی، ان کے خلاف لگائے الزامات میں ثبوت تحقیقات کے لئے ناکافی ہیں۔ 

بانی ایم کیوایم 

 لندن(این این آئی)برطانیہ میں پاکستان کے وکیل ٹو بی کیڈمین نے کہا ہے کہ بانی ایم کیوایم کے خلاف شواہد تفصیلی اور قابل اعتبار ہیں جس کے نتیجے میں بہت سنگین الزامات سامنے آسکتے ہیں اور ان سنگین الزامات کے نتیجے میں بانی ایم کیو ایم کو قید کی سزا ہوسکتی ہے۔برطانیہ میں پاکستان کے وکیل ٹوبی کیڈ مین نے ایک انٹرویو میں بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے حوالے سے کہاکہ بانی ایم کیوایم سے متعلق یہ بہت اہم اقدام ہے، ہمیں علم تھا بانی ایم کیوایم سے نفرت انگیز تقریر معاملے پر میٹروپولیٹن تفتیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیاجائے گا بانی ایم کیو ایم کو کن الزامات کا سامنا کرنا ہوگا، توقع کرتے ہیں یہ پیشرفت بہت جلد ہوگی، عام طور پر ایسا فیصلہ گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر کیا جاتا ہے، توقع کرتے ہیں بانی ایم کیو ایم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور پیشی کے بعد کارروائی کا آغاز ہوگا۔پاکستان کے وکیل نے کہا کہ میں نے پاکستانی حکام خصوصاً ایف آئی اے کے پاس موجود شواہد کاجائزہ لیا ہے، ایف آئی اے نے یہ شواہد لندن کی میٹروپولیس کو فراہم کیے ہیں، شواہد دیکھ کر کہہ سکتاہوں یہ بہت زبردست کیس ہے، میرا خیال ہے بانی ایم کیوایم پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی شواہد ہیں، یہ کرائم پراسیکیوشن سروس کا معاملہ ہے جو لندن پولیس سے مشاورت کیساتھ کرے گی۔کیڈمین نے کہا کہ بانی ایم کیوایم کے کرائم کا کچھ حصہ برطانیہ کی سرزمین پر سرزد ہوا ہے، ان پر الزام ہے کہ نفرت انگیز تقریر برطانیہ سے اور تشدد کے واقعات پاکستان میں ہوئے، بانی ایم کیوایم کے خلاف کیس دو ریاستوں میں آتاہے، کیس میں شواہد برطانیہ کی سرزمین پر بھی ہیں، میٹرو پولیس نے شواہد پاکستان سے بھی حاصل کیے ہیں، اس کیس میں اٹارنی جنرل کی اجازت لی جاسکتی ہے۔پاکستان کے وکیل نے بتایا کہ بانی ایم کیوایم پر الزامات عائد کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، ان کو حراست میں رکھا یا ضمانت پر رہا بھی کیا جاسکتا ہے، بانی ایم کیو ایم کو بہر حال مجسٹریٹ کے سامنے پیش اور ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا، اس سارے عمل میں دن، ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں، لندن پولیس یا کرائم پراسیکیوشن سروس سمجھے کہ شواہد مضبوط نہیں تو اور بھی راستے ہیں، حکومت پاکستان چاہے تواس فیصلے پر عدالتی نظر ثانی کیلئے چیلنج کرسکتی ہے، جوڈیشل ریویو کیلئے معاملہ چیلنج کرنا مشکل ہوگا تاہم حکومت پاکستان کیلئے یہ راستہ کھلا ہے، بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیس میں پرائیویٹ پراسیکیوشن کا بھی راستہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہیں گے برطانوی حکام کرائم پراسیکیوشن سروس کے ذریعے بانی ایم کیو ایم کے خلاف مقدمہ چلائیں، بانی ایم کیوایم کے خلاف گواہان شواہد دینے کو تیار ہیں۔

پاکستان کاوکیل 

مزید : صفحہ اول