سندھ اسمبلی، آصف زرداری کی گرفتار ی کیخلاف مذمتی قرار دا د منظور

سندھ اسمبلی، آصف زرداری کی گرفتار ی کیخلاف مذمتی قرار دا د منظور

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے بدھ کوایوان میں اپوزیشن کے شدید شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہناتھا کہ عوام دشمن بجٹ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے زرداری کو گرفتار کیا گیا،  نیب ان قوتوں کے اشارے پر سیاسی لوگوں کو نشانہ بنارہا ہے جو حق کی آواز دبانا چاہتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم جیلیں برداشت کرنے کے عادی ہیں پی ٹی آئی والوں میں تو گرمی برداشت کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ایوان کی کارروائی کے دوران قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے حکومتی ارکان کی ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اجلاس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تو اسپیکر آغا سراج درانی نے رولنگ دی کہ یہ اجلاس بالکل قانونی ہے جس پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں،قائد حزب اختلاف نے جذباتی انداز میں مخالفانہ تقریر شروع کی تو اسپیکر نے ان کا مائیک بند کرکے وقفہ سوالات کا اعلان کردیا جس پر اپوزیشن ارکان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے ایوان میں پلے کارڈ لہراکر زبردست نعرے بازی شروع کردی اور اسپیکر کی نشست کا گھیراؤ کرلیا، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی سے ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔اسی شور شرابے کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام مدد علی خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف ایک قرارداد مذمت پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان وقفے وقفے سے بڑے پرجوش اندازمیں سیاسی نعروں کا مقابلہ بھی ہوتا رہا، اپوزیشن ارکان نعرے لگارہے تھے کہ گلی گلی میں شور ہے، پورا ٹبر چور ہے، سندھ کو پانی دو، کرپشن کا حساب دو۔ پی ٹی آئی ارکان اپنے ساتھ کارڈ لیس مائیک اور بہت سے پلے کارڈ بھی لیکر آئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے ان کی جانب سے جب گلی گلی شور ہے کا نعرہ بلند کیا جاتا تو حکومتی بینچوں کی جانب سے فوراً جوابی نعرہ لگادیا جاتا کہ علیمہ باجی چور ہے۔قبل ازیں قائد حز ب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان کی درخواست پر آج طلب کردہ یہ اجلاس غیر آئینی طریقے سے طلب کیا گیا ہے جو غیر قانونی ہے کیونکہ ریکوزیشن کی درخواست کے پہلے صفحہ پر صرف چار ارکان کے دستخط ہیں باقی 50ارکان کے دستخط بعد میں کرائے گئے ہیں،ہمیں اس طریقے سے اجلاس بلانے پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اوپر سے جس طرح فراڈ کے طریقے سکھائے جاتے ہیں وہ یہاں بھی لاگو کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈرکا کہنا تھا کہ ریکوزیشن کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور ایوان میں اس پر بات کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان کو معلوم ہے کہ سندھ اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر 50 لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ممبران کے دستخط پر ہمارے شکوک وشبہات ہیں،سیکریٹری سے دستخط کی کاپی مانگی تو جواب ملا نہیں ہے،دستخط کی تصدیق کرنا چاہی تو کہا کہ اجازت نہیں۔اسپیکر نے کہا کہ آج ہونے والا یہ اجلاس بالکل درست اور قانونی ہے اور اس حوالے سے میں رولنگ دے رہا ہوں اس کے ساتھ ہی انہوں نے قائد حزب اختلاف کا مائیک بند کرکے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کردیا تاہم اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے سبب جی ڈی اے کے رکن صوبائی اسمبلی عارف مصطفی جتوئی محض ایک دو ضمنی سوال ہی پوچھ سکے مکیش کمار چاؤلہ نے ان کے جو جواب دیئے شور کے باعث وہ بھی کوئی نہ سن سکا۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان اسپیکرکی نشست کے سامنے آکر جمع ہوگئے اور وہاں گھیراؤ کرکے شدید نعرے بازی شروع کردی ان کے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز تھے جن پر سیاسی نعرے اور سندھ میں ایڈز کے مریضوں کی تصاویر بھی تھیں۔اپوزیشن ارکان،ڈوب مرو پانی دو۔ گلی گلی میں شور ہے سارا ٹبر چور ہے کے نعرے لگاتے رہے جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف کے بارے میں کہا کہ میں نے آج تک آپ جیسا لیڈر آف اپوزیشن نہیں دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس اسمبلی میں بانی پاکستان قائد اعظم بیٹھے ہوں وہاں ارکان ایوان کا تقدس از خود پامال کررہے ہیں اور ایوان کی نشستوں پر جوتے لیکر چڑھ رہے ہیں۔اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران اسپیکر نے قواعد وضوابط میں نرمی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جام مدد علی کو سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیدی۔جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سابق صدر اور موجودہ رکن سندھ اسمبلی آصف علی زرداری کی نیب کی جانب سے من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر قائم کردہ مقدمات میں گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور یہ ایوان ان کی ان گراں قدر خدمات اور قربانیوں کر سراہاتا ہے جو انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے دی ہیں،ایوان ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ نیب ان قوتوں کے اشارے پر سیاسی لوگوں کو نشانہ بنارہا ہے جو حق کی آواز دبانا چاہتی ہیں۔جام مدد علی نے کہا کہ آصف زرداری نے اس سے پہلے بھی گیارہ سال جیل کاٹی ہے لیکن ان پر کوئی ایک الزام بھی ثابت نہیں ہوسکا اس بار بھی وہ سر خروں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پنڈی کا رویہ سندھ کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کا وہاں جوڈیشل قتل ہوا، پھر اسی شہر میں بی بی کو شہید کیا گیا اور  پھر سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور سابق صدر آصف زرداری کو بھی وہیں سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے سندھ کے لوگوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کیوں کی جارہی ہے اورہمیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت نے پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔ جام مدد علی نے کہا کہ آصف زرداری کے کیس سندھ سے پنڈی کیوں منتقل کئے گئے ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن کے شور شرابے پر کہا کہ ان کو ایوان کے تقدس کا کوئی خیال نہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ یہاں صرف داداگیری کرنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جیل اور صعوبتوں سے نہیں ڈرتے، یہ تو گرمی برداشت نہیں کرسکتے جیل کی سختی کیا  برداشت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے  رکن اسمبلی ذوالفقار شاہ نے قرارداد پر اپنے خطاب میں کہا کہ زرداری کی گرفتاری عوام دشمن بجٹ کی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے کی گئی ہے۔یہ کیسا وزیر اعظم ہے جب ملک کے عوام سوتے ہیں  وہ قوم سے خطاب کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جھوٹے کیس پیپلز پارٹی کو دبا نہیں سکتے آپ اپنی خیر منائیں،اگلی باری آپ لوگوں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کا ریٹ کہاں پنہچ چکا ہے پیٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ میں گر رہی ہیں ہمارے ہاں پیٹرول کے نرخوں کو بڑھایا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی گھنور خان اسران، برہان چانڈیو اورشمیم ممتاز نے بھی قرارداد کے حق میں خطاب کیا۔شمیم ممتاز نے زرداری کی گرفتاری کی مذمت کی تو زبان پھسل گئی اور غلطی سے کہہ گئیں کہ میں زرداری کے حق میں پیش کردہ قرارداد کی مذمت کرتی ہوں۔بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اصلاح کرلی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے شیر کو پنجرے میں بند کرکے سب حاصل کرلیا۔شمیم ممتازنے کہا کہ اس وقت سیاست میں یہ طریقہ رائج ہے کہ کرپشن کرلو، پی ٹی آئی جوائن کرلو۔انکے پاس تو کرپٹ لوگوں کی واشنگ مشین ہے جو کرپٹ ہو انکے پاس جائے اور صاف ہوجاتا ہے۔شمیم ممتازنے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں جس نے شخص ملیر میں منی بیگم کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے نیب اس کی بھی تحقیقات کرے۔ سابق ڈپٹی اسپیکر اور صوبائی وزیر شہلا رضا نے ایوان میں بڑے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  اسمبلی کو دھوبی گھاٹ بنانے والے سن لیں  یہاں بجٹ اسٹروک کے  مریض سامنے آگئے۔نیب کے چیئرمین کیخلاف پی ٹی آئی نے مہم چلائی تاکہ پی ٹی آئی والوں  پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے دس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر قرض لیا وہ کہاں خرچ ہوا؟یہ سمجھتے ہیں کہ آصف زرداری کوگرفتارکرلیں گے تو قوم کو ڈالر ریٹ کاپتہ نہیں چلے گا۔اس موقع پر پی ٹی آئی والوں نے نعرے لگائے کہ گلی گلی شور ہے، اس سے پہلے کہہ وہ اپنا دوسرا جوابی نعرہ لگاتے شہلا رضا نے برجستہ کہا کہ ہاں وزیر اعظم اور ان کی بجو علیمہ خان چور ہیں۔ بعد ازاں ایوان نے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی اور اسپیکر نے اجلاس جمعرات کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی اجلاس کے آغاز سے قبل ہی ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوگئی، پی ٹی آئی ارکان ایوان میں احتجاج کے لیے پلے کارڈز ساتھ لے کر آئے اور ایوان میں جانے کی کوشش کی تو  اسمبلی سیکورٹی اسٹاف نے حلیم عادل شیخ  اور انکے دیگر ارکان کو روکنے کی کوشش کی اور سیکورٹی اہلکاروں نے پلے کارڈز اسمبلی میں لے جانے سے روک دیا جس پر حلیم عادل شیخ سیخ پا ہوگئے اور سیکورٹی اہلکاروں پربرس پڑے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نثار کھوڑو سندھ اسمبلی کے کروڑوں روپے کھاگیا اسمبلی میں سفارشی لوگ بھرتی کیے گئے ہیں ہم سندھ کے عوام کی آواز ہیں ہمیں روکتے ہو۔ تاہم حلیم عادل شیخ کو اسمبلی کے عملے نے پلے کارڈز اندر لے جانے کی اجازت دیدی۔ بعدازاں حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کے دیگر ارکان نے سندھ اسمبلی کی سیڑھیوں پر شہر  میں پینے کے پانی کی قلت پر شدید احتجاج کیا انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پانی کی کمی سے متعلق نعرے درج تھے۔

مزید : صفحہ اول