پی ٹی وی، وزیر اعظم کی پانچ منٹ کی تقریر بھی درست ٹیلی کاسٹ نہ کرسکا

پی ٹی وی، وزیر اعظم کی پانچ منٹ کی تقریر بھی درست ٹیلی کاسٹ نہ کرسکا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم کو گلہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن انہیں تقریر نہیں کرنے دیتی، شاید اسی لئے وہ اسمبلی جاتے ہی نہیں، بس کبھی کبھار ایوان کا رخ کرتے ہیں۔ بجٹ کے موقع پر وہ ہیڈ فون لگائے حماد اظہر کی پراعتماد تقریر سن رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ تسبیح بھی پڑھ رہے تھے۔ ایوان کے اندر تسبیح پڑھنے کی روایت اگر محترمہ بینظیر بھٹو نے شروع نہیں کی تھی تو بھی ان کی تسبیح کو شہرت نسبتاً زیادہ ملی، ان کے بعد جتنے بھی وزرائے اعظم آئے، تسبیح سے بے نیاز ہی رہے۔ تاہم عمران خان اسمبلی کے شور شرابے سے منہ موڑ کر تسبیح میں منہمک رہتے ہیں اور ان کے چہرے کی مخصوص مسکراہٹ بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ صورت حال کو انجوائے کرتے ہیں۔ 10 سال کے عرصے میں لئے گئے قرضوں کے بارے میں تحقیقات کے لئے انہوں نے جس ہائی پروفائل کمیشن کا اعلان آدھی رات کے وقت ٹی وی کی سکرین پر کیا، اس کا اعلان پارلیمنٹ میں ہوتا تو شاید زیادہ پر اثر ہوتا، لیکن بجٹ تقریر والے دن عموماً سپیکر کسی دوسرے بزنس کی اجازت نہیں دیتے، تاہم وہ چاہتے تو ایسا کر بھی سکتے تھے، پانچ سات منٹ میں وزیراعظم بات کرلیتے، لیکن انہوں نے ٹی وی کے ذریعے اپنی بات کہنے کو ترجیح دی تو کسی کو کیا اعتراض ہے، لیکن سخن گسترانہ بات یہ ہے کہ چند منٹ کا یہ خطاب بھی درست طریقے سے لوگوں تک نہ پہنچایا جاسکا۔ پہلے تو یہ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم 9:15 پر قوم سے خطاب کریں گے، پھر تین بار وقت تبدیل کیا گیا، آدھی رات کو تقریر شروع ہوئی تو یہ تکنیکی خرابی کی زد میں آگئی، ان کی تقریر کے دوران دو مرتبہ آڈیو غایب ہوئی اور سکرین پر بھی اندھیرا چھا گیا، سنا ہے اب لکیر پیٹی جا رہی ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کا ذمے دار کون تھا۔

وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزروں کی ایک ٹیم ہے جن میں ایک سے ایک بڑھ کر ایکسپرٹ موجود ہے، جو ٹی وی نشریات کے بارے میں بھرپور علم رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے تکنیکی خرابی کی وجہ سے اگر کوئی پیغام درست طور پر عوام تک نہ پہنچے، خصوصاً اگر یہ وزیراعظم کی تقریر ہو تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ماضی میں ہم نے ٹی وی کے بہت سے ملازموں کو ایسی غلطیوں کا نتیجہ بھگتتے دیکھا۔ کئی ذمے داروں کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، وزیراعظم، چین کے اپنے پہلے دورے پر تھے، ان کے متعلق کوئی خبر نشر ہو رہی تھی تو کونے میں انگریزی میں ”بیجنگ“ کی بجائے ”بیگنگ“ لکھا ہوا تھا، یہ کوئی غلطی تھی یا تساہل تھا یا شرارت تھی، اس کا جائزہ تو ٹی وی انتظامیہ نے اس وقت لے لیا ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیاں آخر کیوں ہو جاتی ہیں، جب پاکستان میں صرف ایک سرکاری ٹی وی تھا اور کوئی اس کے مدمقابل نہ تھا تو ایسی غلطیاں بہت کم ہوتی تھیں، اب تو درجنوں دوسرے چینل بھی ہیں، تکنیکی مہارتوں میں بھی بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ماہرین کی تعداد بھی پہلے سے بہت زیادہ ہے، ایسے میں اس طرح کی غلطیاں کم سے کم ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم کی تقریر کے ساتھ جو ہوا وہ کسی طرح بھی درست نہیں۔ اب تک اگر یہ معلوم کرلیا گیا ہے کہ خرابی کہاں تھی تو پھر ذمہ داری کے تعین کے بعد ایکشن کیا لیا گیا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر ریاست کا ٹیلی ویژن اپنے وزیراعظم کی چند منٹ کی تقریر درست طور پر قوم تک نہیں پہنچا سکتا تو اوپر سے نیچے تک اتنے بڑے بڑے لوگ وہاں کیا کر رہے ہیں اور یہ سارا تام جھام کس مقصد کے لئے ہے۔

اب آتے ہیں ان قرضوں کی طرف جن کی تحقیقات ہونی ہیں۔ 10 برس کے اس عرصے میں پانچ برس پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور باقی پانچ برس مسلم لیگ (ن) کی۔ 

یہ تمام ریکارڈ متعلقہ وزارتوں میں موجود ہوگا۔ قرضے کہاں سے آئے اور کہاں خرچ ہوئے، یہ کوئی خفیہ کام نہ تھا، اعلانیہ تھا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں 24 ہزار ارب کا قرضہ لیا گیا جبکہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان اعداد و شمار کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ دس سال کے اس عرصے میں 17 ہزار ارب قرض لیا گیا جس میں پیپلز پارٹی کے دور میں لیا گیا قرضہ 8 ہزار ارب اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں لیا گیا قرض 9 ہزار ارب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور کا حساب تو اس دور کے وزیر خزانہ دے سکتے ہیں، جس میں ایک ڈاکٹر حفیظ شیخ بھی تھے، جو اب وزیراعظم کے مشیر ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور کا حساب وہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بعض ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو مسلم لیگ (ن) کے دور میں مکمل ہوئے، جن میں توانائی کے منصوبے بھی شامل تھے، جن کی وجہ سے 18, 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔ ہمارے منصوبوں کی وجہ سے جو ان قرضوں سے مکمل ہوئے۔ گوادر اور کوئٹہ کا فاصلہ 70 گھنٹوں سے کم ہوکر 12,10 گھنٹے رہ گیا۔ کراچی لاہور موٹر وے شروع ہوئی، جس کے بہت سے حصے مکمل ہوکر زیر استعمال ہیں اور جو زیر تکمیل ہیں، انہیں مکمل کرنا موجودہ حکمرانوں کا کام ہے۔ ہمارے دور میں انفراسٹرکچر کا غیر معمولی کام ہوا۔ اس عرصے میں ڈیفنس بجٹ دو گنا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور بھی بہت سے منصوبے گنوا سکتے ہیں جو ان قرضوں سے مکمل ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس اپنے وسائل نہیں ہیں اور ٹیکس ریونیو جی ڈی پی کا نو دس فیصد ہی جمع ہوتا ہے تو پھر اگر ترقیاتی کام کرنے ہیں تو وہ ایسے ہی قرضوں سے مکمل ہوں گے یا پھر قرضے نہ لیں اور اپنے وسائل کے اندر رہ کر اس وقت کا انتظار کریں جب آپ کے پاس اتنے وسایل ہوں کہ ان سے ترقیاتی کام کرسکیں۔

اسد عمر نے ایک بار کہا تھا کہ سابق حکومتیں مجبوری کے عالم میں قرضے لیتی رہیں اور ہم بھی مجبوراً قرضے لے رہے ہیں۔ اب اگر ہائی پروفائل کمیشن جائزہ لے گا تو پتہ چلے گا کہ جو قرض لیا گیا کہاں خرچ کیا گیا۔ ویسے اگر لگے ہاتھوں یہ بھی معلوم کرلیا جائے کہ قیام پاکستان کے پہلے 11 سال کے تمام بجٹ سرپلس کیوں تھے اور اس وقت قرضہ کیوں نہیں لیا جاتا تھا اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر و قیمت کتنی تھی اور پھر قرضے محمد شعیب کے دور میں کس طرح شروع ہوئے تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ اس لئے بہتر ہے کمیشن قرضوں کی تحقیقات 1958 سے کرے تاکہ حقیقی صورت حال سامنے آسکے اور اگر اتنا دور نہیں جانا تو جنرل پرویز مشرف کے دور کے قرضوں کا حساب تو ضرور کرلیا جائے، سب کچھ پتہ چل جائے گا، یہ بھی معلوم کرلیں کہ مسلم لیگ (ن) نے کتنے قرضے واپس کئے۔ موجودہ حکومت بھی اپنے قرضوں کا حساب کتاب کرلے تو کیا مضائقہ ہے، جو پہلے ہی کئی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔

پی ٹی وی

مزید : تجزیہ