سمندری طوفان کراچی سے 700کلومیٹر دور، شدید گرمی کی پیش گوئی

سمندری طوفان کراچی سے 700کلومیٹر دور، شدید گرمی کی پیش گوئی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نتہائی طاقتور سمندری طوفان کراچی سے 700 کلومیٹر دور ہے جس کی وجہ سے سندھ کی ساحلی پٹی پر بارشوں جبکہ شہر قائد کے لیے شدید گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سے 700 کلومیٹر دور مشرقی بحیرہ عرب میں بننے والا سائیکلون انتہائی طاقتور سمندری طوفان (Very Severe Cyclonic Storm) میں تبدیل ہو گیا ہے جو کہ اگلے 24 گھنٹوں میں بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقے پوربندر سے ٹکرائے گا۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے تازہ ترین الرٹ کے مطابق سمندری طوفان، جسے بھارتی محکمہ موسمیات نے وائیو Vayu کا نام دیا ہے، کے زیر اثر سر سندھ کے ساحلی علاقوں ٹھٹٹہ، بدین اور تھرپارکر میں شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔بدقسمتی سے اس سمندری طوفان کے نتیجے میں کراچی میں بارشوں کے بجائے شدید گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کراچی میں جمعرات سے لے کر اتوار تک موسم شدید گرم اور حبس زیادہ رہے گا۔ڈائریکٹر میٹ کراچی سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان وائیو کے نتیجے میں کراچی میں بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس طوفان کے نتیجے میں کراچی میں شدید گرم اور مرطوب موسم ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جمعرات سے لے کر ہفتے تک شہر کا درجہ حرارت 40 سے اوپر جا سکتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔سردار سرفراز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوا میں نمی میں کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہونے سے سے گرمی کی شدت بہت زیادہ محسوس کی جائے گی۔محکمہ موسمیات کے ٹراپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر کے مطابق سمندری طوفان کراچی سے 700 کلومیٹر دور کراچی کے جنوب مشرق میں موجود ہے۔محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان وائیو کے باعث بھارتی ریاست گجرات اور رن آف کچھ کے علاقوں میں شدید بارشوں کے پیش نظر لاکھوں لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں فوجی دستوں کو طلب کر لیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق محکمہ اس طوفان پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی سائیکلون نزدیک آئے گا تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو اس کے متعلق آگاہ کر دیا جائے گا۔ماہرین ماحولیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں مئی اور جون کے مہینوں میں سمندری طوفان بننے کے امکانات ہوتے ہیں جب کہ مون سون کے موسم کے بعد ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں بھی سمندری طوفان بن سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ ان دنوں سمندری طوفان بننے کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے لیکن اب جو بھی طوفان بنیں گے، ان کی شدت اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہو گی۔

مزید : صفحہ اول