ڈیمزاور ہایئر ایجوکیشن کے فنڈ ز پرکٹ لگا نا ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے: اسفند یارولی

ڈیمزاور ہایئر ایجوکیشن کے فنڈ ز پرکٹ لگا نا ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے: ...

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان بنانے والوں نے پہلی بار بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن پر کٹ لگادیا، تعلیم میں بہتری کے بغیر قوم ترقی نہیں کر سکتی، تنخواہ دار و غیر تنخواہ دار کمزور طبقے پر ٹیکس 35فیصد بڑھا دیا گیا،جبکہ سرمایہ داروں کیلئے ٹیکس ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،وفاقی بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھی،تیل،چینی، دودھ،گیس بجلی،چکن، مشروبات اور دیگر ضروریات زندگی مہنگی کر دی گئیں جبکہ گاڑیوں کے ٹائر و موبائل فون سستے کئے گئے ایسے میں اسے غریب کا بجٹ کیسے کہا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ صرف امیر کو سہولیات دینے اور اشیائے ضروریہ غریبوں کی دسترس سے دور کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی،انہوں نے کہا کہ ایک سال تک ڈیم مہم چلانے اور اس مد میں 9ارب روپے کے فنڈز اکٹھے کرنے والی حکومت نے بھاشا ڈیم کیلئے فنڈز میں کمی کر دی ہے، انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے بجٹ میں سابق حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کے لئے بجٹ میں 23 ارب 68 کروڑ روپے مختص کیے تھے جس کو کم کر کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 16 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔موجودہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھاشا ڈیم کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے جو گذشتہ سال کی نسبت 7 ارب روپے کم ہیں، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانا اور غریبوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا لمحہ فکریہ ہے، بجٹ حکومت کی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی دستاویز ہے جس میں غریب عوام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسوں کی بھرمار پر توجہ دی گئی، حکومت کے اپنے نمائندے کے مطابق اس بجٹ میں 512ارب روپے کی نئے ٹیکسوں کا سونامی لایا گیا جس کی تردید آئی ایم ایف 7سے8ارب روپے کی صورت میں کر رہا ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان اس خوش فہمی میں رہے کہ جب اسے اقتدار طشتری میں رکھ کر دیا جائے گا تو باہر سے فنڈز کی بھرمار ہو جائے گی حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلط وزیر اعظم کے باعث دنیا پاکستان پر اعتبار کرنا گوارا نہیں کرتی،انہوں نے کہا کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے، ملکی تاریخ میں بجٹ خسارہ3560ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، آئی ایم ایف کی مرضی و منشاسے ملکی تاریخ کا بدترین عوام دشمن بجٹ پیش کرکے حکومت نے اپنی نااہلی ثابت کردی ہے جبکہ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ عوام اور میڈیا کی توجہ ناکام بجٹ سے ہٹانے کے لئے قومی سیاسی قیادت کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، تبدیلی تبدیلی کا نعرہ لگانے والی سرکار نے عوام دشمنی کی حد کردی ہے جس کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو یکجا ہو کر توانا آواز اٹھانی چاہئے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پشاور، قبائلی اضلاع بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن کو خصوصی پیکج سے محروم رکھا گیا،قبائلی اضلاع کی ترقی وتعمیر نو کا خاطر خواہ ذکر نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا تھا جسے موجودہ حکومت نے کئی بار ختم کرنے کی کوشش کی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ تمام اضلاع خصوصی پیکج کے مستحق ہیں جنہیں وفاقی بجٹ میں یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی میں منفی تبدیلی لانے کے لئے ہی یہ حکومت بنی جس نے منی بجٹ اور ٹیکسوں پر ٹیکس عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اب گزشتہ روز اگلے مالی سال کا جو وفاقی بجٹ پیش کیاگیا ہے وہ نہ صرف عوام دشمن ہے جسے عوامی نیشنل پارٹی مسترد کرتی ہے بلکہ ہم اسے ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ عوام دشمن بجٹ سمجھتے ہیں ایک طرف ملک میں مہنگائی اتنی بڑھادی گئی کہ عام آدمی کے لئے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا ناممکن ہوگیا اوپر سے بجٹ میں عام عوام کو ریلیف دینے کے لئے کسی قسم کا کوئی پیکج نہیں رکھا گیا ایک طرف ایف بی آر کیلئے پانچ ہزار پانچ سو ارب سے زائد کا ہدف رکھا گیا ہے اور دوسری جانب بجٹ تقریر میں اداروں کی نجکاری کا بھی عندیہ دیاگیا ہے

مزید : صفحہ اول