وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھارہے ہیں، ہشام انعام اللہ

وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھارہے ہیں، ہشام انعام اللہ

پشاور (سٹی رپورٹر)صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبے میں وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں،خیبرپختونخوا میں ملک کے پہلے پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کا قیام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جسکے ذریعے مختلف امراض کی تشخیص ہوسکے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، اس موقع پر سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل،مشیرصحت ڈاکٹر جواد واصف کے علاوہ محکمہ صحت افسران، ڈین پبلک ہیلتھ کے ایم یو ڈاکٹر ضیاء الحق، ڈین بیسک سائنسز پروفیسرڈاکٹر جواد احمداوردیگر موجود تھے۔ اجلاس میں وزیرصحت کو پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری کے مقاصد اور کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پچھلے سال لیبارٹری کے ذریعے ڈینگی کے چون مشتبہ کیسزکی تشخیص کی گئی جونہ صرف صوبے بلکہ ملکی سطح پراپنی نوعیت کی پہلی لیبارٹری ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کا کہنا تھا کہ لیبارٹری کو فعال بنانے کے بعدمختلف امراض جیسے ڈینگی، لشمینیا، ایچ آئی وی، خسرہ،ٹی بی وغیرہ کے مشتبہ کیسزکی تشخیص ہوسکے گی اورمختلف امراض کے نمونے ٹیسٹنگ کیلئے این آئی ایچ اسلام آبادنہیں بھیجنے پڑیں گے بلکہ صوبے میں ہی ان کیسز کونمٹایا جاسکے گا۔ وزیرصحت کا کہنا تھا کہ لیبارٹری کے قیام سے کمیونیکیبل ڈیزیز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لیب کیلئے فنڈز سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ جلدازجلد لیبارٹری کو مکمل طور پر فعال کیا جاسکے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ لیبارٹری کے قیا م اورآلات خریداری پر ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے جبکہ اگلے تین سال کے عرصے کیلئے مزید ڈھائی کروڑروپے درکار ہوں گے۔

مزید : صفحہ اول