عمران خان کے بیان پر مفتی تقی عثمانی بھی میدان میں آگئے ، سب کچھ واضح کردیا

عمران خان کے بیان پر مفتی تقی عثمانی بھی میدان میں آگئے ، سب کچھ واضح کردیا
عمران خان کے بیان پر مفتی تقی عثمانی بھی میدان میں آگئے ، سب کچھ واضح کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد قوم کیلئے آدھے گھنٹے سے زائد پر مشتمل خصوصی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد سے متعلق مثالیں بھی دیں تاہم عمران خان کی جنگوں سے متعلق کی گئی گفتگو پر پاکستان کے معروف مفتی تقی عثمانی میدان میں آئے اور انہوں نے اس پر وضاحت جاری کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ وہ بجٹ ہے جو نظریہ پاکستان کی عکاسی کرے گا ، نیا پاکستان نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا ، یہ ایک عظیم ملک بنے گا ، مدینہ کی ریاست ماڈرن ریاست تھی ، مدینہ کی ریاست کے جو آج اصول ہیں وہ ہمارے ملک میں نہیں بلکہ مغربی دنیا میں ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ جب سے ہمیں اقتدار ملا ہے پہلے دن سے میں مخالفین سے سنتا آ رہا ہوں کہ کدھر ہے نیا پاکستان ، مدینہ کی ریاست پہلے دن نہیں بن گئی تھی ،جب جنگ بدر ہوئی تھی تو صرف 313لڑنے والے تھے تھے جبکہ باقی ڈرتے تھے ، جنگ احد ہوئی تو نبی اکرمﷺ نے تیر کمان والوں کو حکم دیا تھا کہ اپنی پوزیشن نہیں چھوڑنی لیکن جب لوٹ مار شروع ہوئی تو وہ اپنی پوزیشن چھوڑ کر چلے گئے ، سرکار مدینہﷺ کا حکم نہیں مانا ۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ وہ پہلے دن عظیم قوم نہیں بنے بلکہ وہ ایک پراسیس تھا اور پھر وقت آیا پہلے سارا عرب ان کے حکم پر چلا اور پھر دنیا میں انقلا ب آ گیا ، یہ کوئی سویچ نہیں ہے کہ عمران خان نے سویچ دبانا ہے تو نیا پاکستان بن جائے گا بلکہ یہ ایک پراسیس ہے ۔

اس پر مفتی تقی عثمانی نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان کو وضاحت کی کہ ”جنگ احد میں تیر انداز دستے کا ٹیلے سے ہٹ جانا ایک اجتہادی لغزش تھی وہ حضرات یہ سمجھے تھے کہ دشمن بھاگ چکا ہے اور جنگ ختم ہوگئی ہے اس لئے ہمارا یہاں کھڑا رہنا ضروری نہیں ہے اسے جانی بوجھی نافرمانی نہیں کہا جاسکتا اور اسکے لئے لوٹ مار کا لفظ استعمال کرنا بھی بے ادبی ہے۔“

مفتی تقی عثمانی نے اپنے دوسرے پیغام میں کہا کہ ” وزیراعظم صاحب کایہ کہنا کہ جنگ بدر میں صرف 313صحابہ شریک ہوئے باقی ڈر گئے انتہائی ناواقفیت ہے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ صاف فرماتے ہیں کہ قافلے کا پیچھا کرنے کا فیصلہ جلدی میں ہوا تھا اس لئے بہت سے صحابہ کو اطلاع نہ ہوسکی اور وہ شریک نہ ہوسکے اسے بزدلی سمجھنا بڑا ظلم ہے۔“

مزید : قومی