نریندر مودی کی دوبارہ آمد، کیوں ؟

نریندر مودی کی دوبارہ آمد، کیوں ؟
نریندر مودی کی دوبارہ آمد، کیوں ؟

  

مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا حیرانی کی بات نہیں کیونکہ یہ تو اسی سکرپٹ کا حصہ ہے جس کا بنیادی محور اس خطے کو ایک خون ریز جنگ میں تبدیل کرنا ہے ۔ اس میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان مخالف قوتیں اس کا حتمی فیصلہ کر چکی ہیں۔ اکھنڈبھارت جیسے فاشسٹ نظریے کے موجودہ گدھ نریندر مودی کی اگر موجودہ کابینہ کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آنے والا تمام منظرنامہ بہت حد تک واضح ہو جائے گا ۔اگر ایک جانب پاکستان و بھارتی مسلمانوں سے شدید بغض و عناد رکھنے والے امیت شاہ وزیرداخلہ ، راج ناتھ سنگھ وزیر دفاع ، بلوچستان میں دہشت گردی کا منصوبہ ساز و بھارتی قومی سلامتی کا میشر اجیت دول او ر مودی نے اٹامک انرجی و سپیس کے محکمے اپنے پاس رکھ کر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں ۔ تودوسری جانب اجیت دول نے چارج لیتے ہی بلوچستان ، فاٹا اور خیبرپختونخوا میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس میں T.S.D ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے عید کے دنوں میں فوجی افسران سمیت سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کر کے حکومت پاکستان کو کھلا چیلنج بھی دے دیا ہے ۔دن بدن سنگین ہوتی ہوئی صورت حال کے باوجود بھارتی دہشت گردی کو للکارنے والے اور تکمیل پاکستان کی شناخت حافظ میں سعید اور ان کی جماعت پر پابندی چہ معنی دارد۔

کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک خداداد کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے خفیہ ہاتھ آخری راو¿نڈ کھیلنے کے لیئے صرف مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ چونکہ مودی کے بغیر دشمن اپنا مذموم ایجنڈاپایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا ۔ لہذا عالمی شطرنج کی اس چال میں مودی ایک متحرک مہرہ ہے ۔ جو درحقیقت گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے اُس صہیونی منصوبے کا ایک حصہ ہے ۔ جس کو 2006میں ایک امریکی یہودی کرنل رالف پیٹر نے Blood borders: How a better Middle East میں تفصیلا بیان کیا تھا جس کے تحت پاکستان کوچار حصوں میں تقسیم کرنے کاگھنائونا منصوبہ پیش کیا گیا تھا ۔ یہی خوفناک منصوبہ بعد میں پینٹا گان کی بنیادی پالیسی کا لازمی جز بن گیا تھا ۔ یہود وہندو کے ان سرکش عوامل کو سمجھنے کے لیئے قرآن مجید میں اللہ کے اس واضح پیغام کو سمجھنا ہو گا ” تم ایمان والوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گئے“ ۔ شام سے لیکر فلسطین اور افغانستان سے لیکر پاکستان تک رچائے گئے رقص ابلیس کے پیچھے یہی بدترین دشمن نظر آئے گا ۔راقم کی رائے میں عسکری قیادت کو ہنگامی بنیادوں پرمیڈیا ہائوسز سمیت دینی مدارس ، سکولز ، کالجز اور یونیورسٹی کے ہر طالب علم سمیت تمام اساتذہ کرام کو، دشمن کی چانکیہ strategy کے حوالے سے مکمل بریف کرنا چاہیے ۔ اور ساتھ ساتھ فکری وعسکری تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے ۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے ، ورنہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں  پوری قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کو ایک پہلو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہوگا کہ جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف پا کستان نہیں بلکہ اس سے مراد اسلامائیزیشن ہے ۔ یعنی الحرمین شریفن سمیت پورا عالم اسلام ۔ درحقیقت پاکستان کو الحرمین شریفین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے ۔ دشمن بہت اچھی طرح ادراک رکھتا ہے کہ ان سب کا تحفظ پاک فوج کر رہی ہے ۔ لہذا اس وقت دشمنوں کا سب سے بڑا ہدف پاک فوج اور ” Economy Hub“ گوارد پورٹ ہے ۔ دشمن کے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیئے بدقسمتی سے پڑوسی ممالک پیش پیش ہیں ، جنہوں نے چاہ بہار بندرگاہ کو ان تخریبی اور دہشت گرد انہ کاروائیوں کا مرکز بنایا ہو اہے ۔ اس حوالے سے قوم کو پڑوسیوں کے ان خطرناک عزائم سے آگاہی دینا بھی ضروری ہے ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے خطے اور خاص کر بھارت کے مسلمان شدید ڈپریشان کا شکار ہیں ۔

خاص کر آسام کے 50 لاکھ بے یارو مدد گار مسلمان جن کو غیر ملکی قرار دے کر ” نو مینز لینڈ “میں منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے ۔ خطے کے تجزیہ کاروں کے مطابق آسام کے یہ مسلمان کسی وقت بھی آتش فشاں بن کر پھٹ سکتے ہیں ۔ جو بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے لیئے ایک بہترین انتحاب ہو سکتے ہیں۔ تمام تر مخدوش حالات کے باوجود مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا درحقیقت بھارت کی تقسیم کی بنیادہے اور مودی کے ہی دور حکومت میں بھارت بہت سے ٹکڑوں میں منقسم ہو جائے گا ۔کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن زمینی حقائق اِسی سمت اشارہ کر رہے ہیں کہ مودی کا دوبارہ اقتدار میں آنا غزوہ ہند کی شروعات کاآغاز ہے۔ جس سے بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی ملنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے مسلمانوں کو بھی آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہو گا ۔ ان شاءاللہ

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ