اور بجٹ آگیا

اور بجٹ آگیا
اور بجٹ آگیا

  

قرض کی پیتے تھے مہ اور سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک روز

تحریک انصاف نے مشکل ترین حالات میں حالیہ بجٹ پیش کیا‘ پیپلزپارٹی‘ (ن) لیگ کے ارکان نے بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرکے رکاوٹ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی مگر وزیر مملکت حماد اظہر نے مکمل یکسوئی سے بجٹ پیش کیا۔ آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کو مچھلی منڈی میں تبدیل کر دیا گیا، حالانکہ دونوں کی گرفتاری عدالتوں سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد ہوئی جس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ حب الوطنی اور ذمہ داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ اپوزیشن بجٹ تقریر غور سے سنتی اور اس پر ملکی اور عوامی مفاد میں اعتراضات اٹھاکر ترامیم پیش کرتی مگر اپوزیشن نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اسے ملکی اور عوامی مفاد سے کوئی دلچسپی نہیں۔ 

بدترین معاشی حالات سے نبٹنے کے دو راستے ہیں، ایک آسان اور  دوسرا مشکل۔ آسان حل یہ ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح ’’قرض پر قرض لو‘ جی بھر کے کھائو‘ عوام کو بیوقوف بناکر مدت اقتدار پوری کرو اور گھر جائو۔

قرض کی پیتے تھے مہ اور سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک روز

 مشکل راستہ یہ ہے کہ معاشی استحکام کے لئے ماضی میں کئے گئے مصنوعی اقدامات کو خیرباد کہہ کر حقیقی اور فطری اقدامات کرکے معاشی بحران کا مقابلہ کیا جا ئے ۔  اس کیلئے قرضوں سے گریز‘ اخراجات میں کمی اور آمدن میں اضافہ بہترین اقدام ہیں‘ تحریک انصاف حکومت نے پہلے آسان راستہ کو نظرانداز کرکے پرانے قرضوں سے نجات اور نئے قرضے حاصل نہ کرنے کی پالیسی اپنائی‘ حکومتی اخراجات کو کم کرکے مقامی طور پر آمدن میں اضافہ کا فیصلہ کیا تاکہ معاشی بحران سے فطری طور پر نمٹا جا سکے۔

حالیہ بجٹ کے خدوخال اسے  پیش کئے جانے سے قبل ہی منظر عام پر آ چکے تھے‘ وزیراعظم نے قوم سے کچھ پوشیدہ رکھنے کے بجائے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ بجٹ کے اثرات عام شہری پر خوشگوار مرتب نہیں ہونگے‘ بجٹ کی اہم ترین بات پاک فوج کا دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ اضافہ سے انکار ہے 7022ارب کے بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 550ارب روپے ہے جبکہ خسارہ 3560ارب روپے ہے جسے پورا کرنا حکومت کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہو گا اس خسارہ میں سرکاری اداروں کا 1300ارب روپے خسارہ بھی شامل ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے‘ جس پر قابو پانے کیلئے نجکاری ترجیحی پروگرام ہے۔  

جب تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو ملک پر مجموعی قرضہ 31ہزار روپے تھا جس میں بیشتر بھاری سود پر لیا گیا‘ جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر‘ تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر‘ بجلی کمپنیوں کا گردشی قرضہ 1200ارب روپے تک تھا‘ ماضی میں روپے کی قدر مستحکم رکھنے کیلئے بھی اربوں ڈالر جھونکے گئے‘ اس کے باوجود ستمبر 2017ء میں روپے کی قدر گرنے لگی جس سے قرضہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ وزیراعظم پر اعتماد کے باعث تارکین وطن کی ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا‘ گردشی قرضہ میں  12ارب روپے ماہانہ کمی ہوئی‘ دوست ممالک سے 9.2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی‘ آئی ایم ایف سے  بھی 6ارب ڈالر قرض کا معاہدہ‘ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا‘ سعودی عرب سے 3خود  ادائیگی پر تیل کی سہولت ملی‘ جس سے آئندہ سال درآمدی بل میں مزیدکمی آئے گی۔

7022ارب کے بجٹ میں وفاقی آمدن 6717ارب روپے کا تخمینہ ہے‘ گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ٹیکس بیس میں 9فیصد کمی آئی جس کے توڑ کے لئے ٹیکس چھوٹ اور مراعات میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی‘ گزشتہ دور میں انکم ٹیکس کی چھوٹ سے 80ارب کا نقصان ہوا‘ حالیہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 18کھرب روپے رکھے گئے ہیں‘ صحت‘ صاف پانی کی فراہمی کیلئے 93ارب مختص کئے گئے‘ دفاع کیلئے 1150روپے رکھے گئے جو گزشتہ سال کے برابر ہیں‘ توانائی کے شعبہ کیلئے 138ارب رکھنے کے علاوہ 300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو لاگت سے کم قیمت پر بجلی فراہم کرنے کیلئے 200ارب کی سبسڈی بھی رکھی گئی ہے۔

بجٹ میں زراعت کے شعبہ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے اس شعبہ کی ترقی اور کاشتکار کی خوشحالی کیلئے 280ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لئے نئی وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، 10 لاکھ افراد کے لئے نئی راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے۔ احساس پروگرام کے تحت وظیفے 5000 روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کیے جائیں گے۔ عمر رسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے. کمزور طبقے کی سماجی تحفظ کے لئے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے کاروبار چلانے والے افراد کا ٹیکس ریٹ کم رکھا جائے گا، کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ریٹ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا، ٹیکس ریفنڈ کے لیے بانڈز جاری کرنے کی تجویز ہے۔بلاشبہ بدترین معاشی حالات میں حالیہ بجٹ  بہتر ہی  قرار دیا جا سکتا ہے . 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ