ٹیکس دیجئے، عزت لیجئے!!!

ٹیکس دیجئے، عزت لیجئے!!!
ٹیکس دیجئے، عزت لیجئے!!!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جو کسی کو کچھ نہیں دیتا، وہ کنجوس ہے۔ اور، پاکستانی کنجوس نہیں۔ پاکستانی دل بہرصورت بڑا ہے۔ بالخصوص اپنے رب کی راہ میں کچھ خرچ کر پاتا ہے تو پاکستانی خوب خوش ہوتا ہے۔ پھر، سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم، زیادہ چندہ دینے والی اقوام میں ، صفِ اول میں رہتی ہے۔۔۔ یہ معمولی بات ہے؟؟؟ مال کی خاطر تو ساری دنیا ساری عمر جیتی مرتی ہے گویا۔ مال کی قربانی پھر کیسی غیرمعمولی کارفرمائی !!! المختصر، پاکستانی لوگ کرم فرمانے کا ذوق بڑھ کے رکھتے ہیں۔ صرف یہ کہ صلہ کی امید لازم ہے۔ پھر، پاکستانی اپنے رب سے یہی امید رکھتا ہے کہ وہ ہر بھلائی کا صلہ کہیں بڑھ کر دے گا، اس باب میں کسی بھلے مانس کے ساتھ رتی بھر دغا نہ ہو گا۔ جب عین سامنے خدا ہو گا، ہر نیکی کا انعام وہ بندہ کو بخوبی اور وافر ہی عطا کرے گا۔۔۔ ہاں، یہ یقین پاکستانی دل میں اٹل ہے۔ تو، دل کھول کر، پاکستانی چندہ دیتے جاتے ہیں۔ ۔۔ ہاں مگر، وہ ٹیکس ، کم از کم، دیتے ہیں۔
بظاہر یہ لاابالی پن ہے۔ ےعنی اپنے مال کو اس راہ میں شوق سے صرف کر دینا کہ جس کا نفع موت کے بعد کہیں ہو گا۔ مگر، جس نذرانہ کا فائدہ عین اسی زندگی میں ہو سکتا ہے، اسی مالی ایثار سے زبردست گریز ہی کرتے جانا۔ ٹیکس نہ دینا، اور چندہ دیتے جانا۔۔۔ تو کیا یہ اس زندگی کی گہری ناقدری نہیں؟؟؟پھر، یقیناً، چندہ دینا افضل رویہ ہے۔ مگر، ٹیکس دینا تو لازمی امر ہے۔ اس کا فائدہ تو فوری اور یقینی ہوتا ہے۔ ہم ریاست کو اپنی کمائی کا کچھ حصہ دیتے ہیں۔ اور ہماری ریاست اس رقم سے، اس دنیا جہان میں، ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا اور بہتری کا سامان کیا کرتی ہے۔۔۔ اتنے بڑے کام ہم خود نہیں کر سکتے۔ ہرگز نہیں، اور کبھی نہیں۔
انسانی دنیا بہت ہی بڑی ہے۔ اور تمام ہی انسانی دنیا ابھی تقسیم در تقسیم ہے۔ ۔۔ پھر، اسی تقسیم کے کسی ایک حصہ میں کہیں ہم پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں بھی ہم پیدا ہو جاتے ہیں وہی دھرتی ہماری ماں کہلاتی ہے۔ دنیا میں ہم اسی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔مثلاً زمین کا نام پاکستان ، تو مذکورہ خطہ ءارض پر پیدا ہوتا ہر بچہ پاکستانی۔ دھرتی جاپان ، تو اس کا ہر بچہ جاپانی۔ چین سے چینی۔ امریکہ سے امریکی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر، دنیا میں لگ بھگ دو سو ریاستیں ہیں۔ جن میں ہر ایک میں پھر خاص اپنی انا ہے۔ اور انا جونہی بڑھتی ہے ، ایثار کرنے پر استحصال کر جانے کو ترجیح دیتی ہے۔ قصہ مختصر،اسقدر طاقتور استحصالی قوتوں کی موجودگی میں ، اس خوبصورت اور خوفناک دنیا میں، عام آدمی کی حیثیت پھر بلندوبالا پہاڑ میں مہین ذرہ برابر ہی تو ہوتی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا وزن اس کی ریاست سے بنتا ہے۔ گویا انسانی بچہ جتنی مضبوط ریاست میں جنم لیتا ہے، اس جہان میں، وہ اتنا ہی محفوظ ہوتا ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے امکانات بھی اسی کے نسبتاً کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ۔۔
المختصر،ریاست کی مضبوطی اور سربلندی، فرد کے اپنے تحفظ اور ارتقا کی خاطر لازم ہے ۔ اور، مضبوط مسلز کے علاوہ، ریاست پھر مضبوط تر ہوتی ہے خزانہ بھرنے سے۔ اور ملکی خزانہ کا ایک بڑا حصہ بھرتا ہے عوام کے ادا کردہ ٹےکس کی رقوم سے۔۔۔ پاکستانی خزانہ کا یہ بڑا حصہ مگر خالی خالی نظر آتا ہے۔ غالباً، صرف دو فیصد پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں۔ اور، ذرا سی خوشحالی آتے ہی، جن کے ہاتھ اپنے رب کی راہ میں خرچ کرنے کو مچل اٹھتے ہیں، وہی پاکستانی کتنے بھی متمول ہو جائیں، مگر ٹیکس کی ادائیگی ان پر گراں ہی گذرتی ہے۔۔۔ بھلا ہم ٹیکس کیوں دیں؟ کس کو دیں؟ کن حکمرانوں کو؟ جو بدنیت اور بدعنوان سیاستدان ہوتے ہیں یا پھر وہی سینہ زوری کرنے والے آمر حضرات۔ ان میں ہمارا کون ہے آخر؟ ان میں کسی کو بھی، ہماری اور ہماری نسلوں کی ، ایک پَل بھی فکر ہے؟؟؟
پھر، ستر سالہ تاریخ کے تناظر میں ، عوام کے سب سوالات اپنی جگہ۔ مگر ، حال کی حقیقت بھی اپنی جگہ۔ وہ سچائی ،جو جتنی کڑوی ہے اتنی ہی بڑی بھی کہ اپنی باعزت بقا کی خاطر پاکستان کو اب پیسہ تو بہرطور چاہئے۔ اور، مطلوبہ پیسہ تو خود پاکستانیوں ہی کو اب دینا پڑے گا، دینا ہی چاہئے، خاص اپنے وطن کی خاطر۔ پھر، کیا ہی اچھا ہو ، ان کروڑہا پاکستانیوں کو چھوڑ کر ، جو بے چارے ، خطِ غربت سے نیچے جیا مرا کرتے ہیں، باقی کروڑوں پاکستانی اپنی آمدنی کے حساب سے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کیا کریں۔ جیسے یوٹیلٹی بلز ادا کئے جاتے ہیں، وغیرہ۔اس کا ایک ضمنی اور انتہائی دلچسپ فائدہ یہ ہو گا کہ پاکستانی جب ٹیکس دینے والا شہری بن جائے گا تو وہ خود کو جدید جہان کا انسان، واقعتاً، سمجھنا شروع ہو جائے گا۔ وہ انسان، جس کے باقاعدہ حقوق بھی ہوا کرتے ہیں۔ سلامتی اورعزت واحترام سے زندہ رہنے کے حقوق۔ پھر پاکستانی کو تھانہ ،کچہری، ہسپتال، اور دیگر سرکاری دفاتر وغیرہ میں خوار کر کے رکھ دینا، آج کی نسبت، قدرے محال ہو جائے گا۔ شہری جب ٹیکس دیں گے تو حکام بالا کے لئے بھی پھر غیرمعمولی غیرسنجیدہ ہو کر حکمرانی کرتے جانا، حتیٰ کہ آئین وقانون سے کھلواڑ کرتے جانا، وغیرہ وغیرہ ، یہ سب کچھ بھی تھوڑا مشکل تو ہو جائے گا۔۔۔
ہاں، ابھی جس پاکستانی پر کہیں تھانہ، کچہری، ہسپتال وغیرہ میں کوئی ظلم ہوتا ہے، وہ یہی سوچ کر اپنے دل کو بہلا لیا کرتا ہے کہ ایک دن آئے گا جب میرا خدا میرا ہر حساب لے گا، اور وہ بہترین حساب لینے والا ہے۔۔۔ یوں اپنی ہی ریاست میں، اپنی ہی ریاست کے کسی، چھوٹے موٹے، بندئہ اختیار کے ہاتھوں ناحق ذلت وزک اٹھانے کے بعد، پاکستانی کو کہیں بس یہی اطمینان رہتا ہے کہ بہرصورت خدا تو دیکھ رہا ہے نا! تو یہ کہ ابھی، چند سو یا ہزار یا لاکھ یا کروڑ یا ارب یا کھرب سال بعد، حشر کا روز پھر جب بھی بپا ہو گا، وہاں تو میرا بدلہ بہرحال پورا لیا جائے گا۔ آ ہا! تب لگے گا پتا ظالم کو!!! مگر، مظلوم پاکستانی ابھی اپنے رب کے سہارے اپنے کرچی کرچی دل کو باآسانی سنبھال جاتا ہے۔ اور، ایک آدھ کروڑ کو چھوڑ کر، باقی بیس اکیس کروڑ پاکستانیوں میں،کوئی بھی شریف آدمی پھر تھانہ، کچہری، ہسپتال وغیرہ میں ابھی مکمل محفوظ ومعزز کہاں ہے! لیکن، پھر بھی، ان بیس اکیس کروڑ انسانوں کو اپنی ایسی ناقدری کے موثر شکوہ کا گویا دماغ ہی نہیں! ہاں مگر، یہی دماغ پھر بیدار ہو جائے گا ۔۔۔
جب پاکستانی شہری مہذب انسانوں کے مانند باقاعدگی سے ٹیکس دے گا تو پھر وہ اپنے دیدہ و نادیدہ حکمرانوں سے بھی حقیقی سنجیدگی کا تقاضا کہیں بڑھ کے کرے گا۔۔۔ جب ہر کماﺅ پاکستانی پوت پورا ٹیکس ادا کیا کرے گا، تب اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی، ناانصافی کے خلاف واویلا وہ کہیں بڑھ کے مچائے گا۔ اور تب اس کی آواز سن کر ٹیکس دینے والے باقی شہری بھی اس کے سنگ آن کھڑے ہوا کریں گے۔ اور، ایک ہی آواز ہو گی: ”حکمرانو! خوش بختو! ہم ٹیکس دیتے ہیں۔ ےعنی یہ طے ہے کہ ہم انسان ہیں۔ تو پھر جو بندئہ سرکار بھی، آج بھی، ہمیں حیوان یا نیم انسان وغیرہ ہی سمجھ کر برتاﺅ کرتا ہے، اس کا اختیار سلب کرو، بلاتاخیر کرو!!! یاد رکھو، ایسی زیادتی اور ناانصافی صرف جانوروں کا رواج ہے کہ طاقتور، کمزور کو کچل جانے کا حق دائم رکھتا ہے۔ مگر، ہم تو باقاعدہ انسان ہیں نا! ہم تو اب ٹیکس دینے والے شہری ہیں۔ اب ہمارے جسم وجان اور ہماری عزتِ نفس کی حفاظت کا ذمہ دار صرف خدا نہیں، تم بھی ہو۔ اب صرف چندہ نہیں، ہم ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ پھر دیکھو، آنکھیں کھول کر دیکھو!!!“ اور،شکوہ کناں سب شہریوں کے ہاتھوں میں ٹیکس کی رسیدیں ہوں۔ پھر، احتجاج کرنے والے ،اپنے اپنے ، بازو ہرممکن بلند کر کے ، وہ کاغذ سے ہوا میں لہراتے جاتے ہوں ،اور کچھ یہی چلاتے جاتے ہوں کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں اب ہمیں عزت دو!!!
المختصر، ٹیکس دینا جب پاکستان میں معمول ہو جائے گا تب ہر وہ ، چھوٹا بڑا، بااختیار پاکستانی دکھی سا نظر آئے گا کہ جو طاقتور کا کمزور پر فطری حق سمجھتا ہے۔ جو ، خود سے کمزور ہر بندہ کے جسم وجان، اس کی عزت اور اس کے مال پر بالخصوص اپنا حق سمجھتا ہے۔۔۔ مگر، ٹیکس کلچر کا عام ہو جانا یونہی نہیں۔ یہ، آخر کار، شہری کو خاص الخاص کر دیتا ہے۔ یقیناً، ٹیکس کسی راجہ مہاراجہ کو دیا گیا خراج یا لگان وغیرہ تو ہوتا بھی نہیں۔ پس، موجودہ مہذب دور میں جو ریاست اپنے شہریوں سے ٹیکس بخوبی وصول کرتی ہے، وہ پھر ان کو واقعی اہمیت دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ گویا سب کماﺅ پاکستانیوں کے پاس اب موقع ہے کہ ٹیکس ادا کرنے کی عادت بنائیں تاکہ خود ان کی اور ان کی انمول اولادوں کی اہمیت پھر وطنِ عزیز میں کچھ تو بنے۔ اور جیسے وہ ایک آدھ کروڑ پاکستانی ہیں کہ جن کے ساتھ خوامخواہ ظلم و زیادتی یہاں کوئی نہیں کر سکتا، ایسا ہی مامون ومحترم ہر ایک پاکستانی ہو جائے تو کیا برا ہے۔ مگر ہاں، اب موقع تو ہے ۔۔۔( اے کاش، پھر ٹیکس کلچر اپنے یہاں عام ہو، تا کہ اپنے ہاں بھی عام آدمی کچھ تو خاص ہو!)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -