اقتصادی سروے میں معیشت کی تصویر

اقتصادی سروے میں معیشت کی تصویر

  

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں کورونا وائرس کی وجہ سے جی ڈی پی کو تین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا۔ بیشتر معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 2.67فیصد، ٹرانسپورٹ منفی 7.1فیصد خدمات منفی 3.4 اور زراعت 2.67فیصد رہی، اقتصادی شرح نمو منفی 0.4فیصد رہی، جس کا ہدف بجٹ میں 3.3فیصد رکھا گیا تھا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب سے کم کرکے 3ارب تک لے آئے کسی وزارت کو اضافی ضمنی گرانٹ کی مد میں کوئی فنڈ جاری نہیں ہوا۔ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 1600ارب روپے حاصل ہوئے جو ہدف کے مقابلے میں 500ارب روپے زیادہ ہے درآمدات میں کمی سے ریونیو متاثر ہوا ورنہ ریونیو گروتھ 27فیصد سے زیادہ رہتی، مہنگائی 9.1فیصد رہی حکومت نے سخت انداز میں اخراجات کو کنٹرول کیا پاکستان کی تاریخ میں اخراجات پہلی مرتبہ آمدنی سے کم ہوئے ایف بی آر کے ٹیکسوں سے 3900ارب روپے بمشکل حاصل ہوں گے جبکہ 4700ارب روپے جمع ہونے کی توقع تھی اسلام آباد میں اقتصادی سروے برائے مالی سال 2019-20ء کی رونمائی کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے سابق حکومت کو بھی یاد رکھا جو 31مئی 2018ء کو ختم ہو گئی تھی انہوں نے بتایا کہ اس حکومت نے اقتصادی بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں منتقل کیا اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے برآمدات میں اضافہ صفر تھا ڈالر سستا رکھنے کی وجہ سے درآمدات دوگنا ہو گئیں زرمبادلہ کے ذخائر گر کر نصف رہ گئے قرضہ بڑھ کر 25ہزار ارب ہو چکا تھا۔

اقتصادی سروے پر ایک سرسری نظر ڈالنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے سوا کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا، رواں مالی سال کو پری وائرس اور پوسٹ وائرس حصوں میں تقسیم کر لیں تو کامیابیوں اور ناکامیوں کے خاکے میں زیادہ بہتر طور پر رنگ بھرے جا سکتے ہیں اگرچہ چین میں وائرس کا کیس نومبر 2019ء میں سامنے آ چکا تھا اور باقی دنیا میں اس کا پھیلاؤ کہیں بعد جا کر شروع ہوا لیکن پاکستان میں پہلا کیس فروری 2020ء کے اواخر میں ہوا اس لحاظ سے مالی سال کے ابتدائی آٹھ مہینوں کو پری کورونا پیریڈ قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ آخری چار مہینے وہ ہیں جب کورونا کاآغاز ہو چکا تھا۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا تھا اس ہدف پر آئی ایم ایف نے اصرار کیا تھا حالانکہ اکثر ماہرین کا خیال تھا کہ ہدف پورا نہیں ہوگا۔ اقتصادی ماہرین بھی کہہ رہے تھے کہ یہ اعداد و شمار دیکھنے میں تو خوش آئند ہیں لیکن حقیقتاً ناقابل حصول، ہدف کے تعاقب کے لئے وفاقی حکومت نے ایک نیا تجربہ کیا اور نجی شعبے سے ایف بی آر کا چیئرمین درآمد کیا گیا لیکن چند ہی مہینوں میں چیئرمین کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ ان سے یہ بھاری پتھر نہیں اٹھ سکے گا۔ وہ ایک بار رخصت پر جانے کے بعد واپس آئے تو قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ ان کی رخصتی کا وقت بھی قریب ہے چنانچہ وہ ایک بار پھر رخصت پر گئے اور واپس نہیں آئے اس وقت تک ابھی وائرس کا نام و نشان نہ تھا پھر بھی ٹیکس وصولی کی رفتار ہدف کا ساتھ دیتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ کہا گیا کہ ٹیکس آخری مہینوں میں جمع ہوتے ہیں لیکن آخری مہینے آتے آتے کورونا کی تباہ کاریاں شروع ہو گئیں۔ ماہرین نے تو پہلے ہی کہنا شروع کردیا تھا کہ ٹیکس کم جمع ہو گا اس لئے نظر ثانی ہدف کم کرکے 4700ارب روپے کر دیا گیا اور اب یہ بھی حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا اور مشیر خزانہ کا خیال ہے کہ ”3900ارب روپے بمشکل حاصل ہوں گے“ یہی حال جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہے جو معتوب حکومت کے دور میں 5.8 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور اس کے آخری بجٹ میں ہدف مزید بڑھا دیا گیا تھا موجودہ مالی سال میں تو یہ شرح نمو منفی میں چلی گئی ہے لیکن گزشتہ برس بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا تھا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں اگر معیشت اچھی طرح پرفارم کر رہی ہوتی تو کچھ نہ کچھ اہداف تو حاصل ہوتے لیکن اب ساری ناکامیوں کا ملبہ آسانی سے کورونا پر منتقل کرکے معاشی پالیسیوں کے منفی اثرات سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیروزگاری کا آغاز تو موجودہ حکومت کے آتے ہی ہو گیا تھا اور کورونا سے پہلے ہی 12سے بیس لاکھ تک لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے تھے اور مسلسل دھو رہے تھے۔

جناب مشیر خزانہ روپے کے جس استحکام کی بات کرتے ہیں اس تک پہنچنے کے لئے روپے کو بڑی قربانی دینا پڑی اور جس روپے کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کے بقول مصنوعی طور پر کھڑا کیا گیا تھا اس نے ڈھلوان کا سفر ایسی تیز رفتاری سے شروع کیا کہ لوگوں کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے یہاں تک کہ وزیراعظم کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ انہیں تو روپے کے گرنے کی اطلاع ٹیلی ویژن دیکھ کر ہوئی۔ روپیہ جب 35فیصد تک گر گیا تو پھر حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی اور چھ ارب ڈالر کا پیکیج کڑی شرائط کے تحت حاصل کیا روپے کی قدر گرنے سے غیر ملکی قرضے اربوں ڈالر بڑھ گئے، مہنگائی میں اضافہ ہو گیا، درآمدات مہنگی ہو گئیں جس کی وجہ سے ترقی کی رفتار ہوتے ہوتے اتنی کم ہو گئی کہ اب صنعتوں کی شرح نمو منفی میں چلی گئی۔ رواں مالی سال میں سود کی شرح تیزی سے بڑھاتے بڑھاتے 13.25تک لے جائی گئی۔ کورونا نہ آتا تو یہ اسی طرح رہنے کا امکان تھا۔ وبا کے اثرات کی وجہ سے شرح سود 8.00 فیصد تک لانی پڑی جبکہ دنیا میں بہت سے ملک ایسے ہیں جہاں یہ شرح برائے نام رہ گئی ہے۔ اس کمی کا اثر صنعتی ترقی پر کیا ہوا اس کا اندازہ اگلے مالی سال میں ہوگا۔ اس وقت تو قرضوں سے مستفید ہونے والے جو قرضے لے رہے ہیں وہ سب غیر پیداواری مدوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب پرانی صنعتیں مشکلات سے دوچار ہیں اور بندش کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے خوشحال صنعت کار بھی حکومت سے ریلیف مانگ رہے ہیں اور بجلی کا بل تک نہیں دے پا رہے، نئی صنعتیں کون لگائے گا؟

کورونا کے تباہ کن اثرات کے باوجود جس ایک شعبے نے پیدوار میں تھوڑا بہت اضافہ دکھایا ہے وہ زراعت ہے اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت اس شعبے کی سرپرستی کرے تو یہ مشکل حالات میں بھی معیشت کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ حکومت نے دس لاکھ ٹن،گندم درآمد کرنے کا ابھی سے اعلان کر دیا ہے جبکہ پنجاب حکومت ہدف سے زیادہ گندم خرید بھی کر چکی ہے یہ درآمدی گندم مقامی پیداوار کی نسبت مہنگی پڑے گی اور بھاری زرمبادلہ درآمد پر خرچ ہو گا یہی رقم اگر سلیقے کے ساتھ زرعی سیکٹر کی ترقی پر خرچ کی جائے تو پیداوار میں معتدبہ اضافہ ہو سکتا ہے اور بدحال کسانوں کی زندگی میں بہتری کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں۔ تمام تر دعوؤں کے باوجود زراعت ایک نظر انداز شدہ سیکٹر ہے رہی سہی کسر اس بار ٹڈی دل نے پوری کر دی ہے اور فوڈ سیکیورٹی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارے بھی اس جانب توجہ دلا رہے ہیں یہ درست ہے کہ کورونا نے معیشت کی بربادی میں کردار ادا کیا لیکن اس بربادی میں ناقص اقتصادی پالیسیوں کا جتنا حصہ ہے اسے بھی فراخ دلی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ تشخیص درست نہ ہو تو علاج بھی صحیح خطوط پر نہیں ہوگا۔ اس لئے معیشت کو لاحق دوسرے امراض پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -