کورونا کی شدت: احتیاطی تدابیرپر عمل کب؟

کورونا کی شدت: احتیاطی تدابیرپر عمل کب؟

  

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے پھر دہرایا کہ کورونا میں شدت کی وجہ عوام کا عدم تعاون ہے جنہوں نے ایس او پیز (قواعد کار) پر پوری طرح عمل نہیں کیا اور یوں کورونا گلی محلوں تک پھیل گیا ہے انہوں نے اپیل کی کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کیا جائے کہ اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ گورنر پنجاب یہ بات مسلسل کہتے چلے آ رہے ہیں اور اپیل بھی کر رہے ہیں، لیکن اس سب کا عوامی سطح پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اب سرکاری اور طبی سطح پر اختلاف رائے بھی مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی کوشش ہے کہ کاروبار حیات بھی چلتا رہے اور شہری خود احتیاطی عمل سے خود کو محفوظ بھی رکھتے رہیں، لیکن حالات یہ ہیں کہ عوامی سطح پر ایسی کسی ہدائت پر عمل ہی نہیں کیا جا رہا اور سماجی فاصلے کی شرط کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے جو دیہاڑی داروں اور غریبوں کے روزگار کی بار بار بات کرتے ہیں، مان بھی لیا ہے کہ کورونا نہ صرف پھیل رہا بلکہ مزید امکان ہے اور اب اموات بھی زیادہ ہوں گی۔ اس کے باوجود وہ صرف یہ دھمکی دے کر رہ گئے کہ اب ایس او پیز کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بات یوں جوں کی توں ہے۔ حالانکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی گلی محلوں میں کم اور تجارتی مراکز سمیت بازاروں میں زیادہ ہی نہیں،بلکہ بہت زیادہ ہے۔ ہمارے تاجر بھائیوں نے اپنا پورا زور لگایا اور بڑی بڑی یقین دہانیاں کرائیں کہ نہ صرف خود عمل کریں گے بلکہ گاہکوں کو بھی پابندی کرائیں گے لیکن بازار کھلتے ہی یہ سب بھلا دیا گیا۔ یہ حضرات نہ صرف خود احتیاط نہیں کرتے بلکہ گاہکوں کو بھی کچھ نہیں کہتے، اسی وجہ سے وزیراعظم کو اب سخت الفاظ استعمال کرنا پڑے اور گورنر پنجاب نے اپنی بات کو پھر دہرایا ہے،یہ سب اپنی جگہ، عوام اور کورونا کو حقیقت جاننے والے لوگ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن نہیں ہونا تو احتیاطی تدابیر پر عمل کرانا تو حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اس لئے ان کو بیانات کے ذریعے اپنا رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے عملی اقدامات کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ اگر بقول وزیراعظم اب اموات بھی زیادہ ہونے کے خدشات ہیں تو پھر حالات بھی اور خراب ہوں گے جو احتجاج کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں، اس لئے بہتر عمل یہ ہے کہ حکومت خود اپنے ویژن کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل کے لئے اقدامات کرے۔

مزید :

رائے -اداریہ -