کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے؟

کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے؟
کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے؟

  

کنفیوژن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے بلکہ اب تو بڑھتا ہوا نظر بھی آنے لگا ہے۔ ہر سطح پر معاملات الجھتے نظر آنے لگے ہیں ایک شعبے کو چھوڑ کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایک شعبہ جس میں مطلع ابر آلود نہیں بلکہ بڑا واضح ہے اور وہ ہے حکمران جماعت کا حق حکمرانی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک ہی پیج پر ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں ہے۔ ریاستی ادارے مکمل طور پر حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں۔ اپوزیشن چاہے ن لیگی ہو یا پیپلزپارٹی اور کوئی اور جماعت، اولاً تو اس لائق ہی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کے لئے کسی قسم کا مسئلہ بن سکیں، دوم ان سب کا بھی ایک بات پر اتفاق ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو پورے پانچ سال تک اقتدار میں رہنا چاہیے۔ اپوزیشن جماعتیں متعدد مرتبہ اس بات کا اظہار بھی کر چکی ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔ گویا سیاسی محاذ پر مطلع مکمل طور پر صاف ہے، لیکن اس کے علاوہ شائد ہی کوئی ایسا شعبہ ہائے زندگی ہو جہاں کنفیوژن نہ پایا جاتا ہو۔ ہم اس وقت کورونا وائرس کے ہاتھوں افراتفری کا شکار ہیں۔گزرے پانچ، چھ ماہ کے دوران پوری دنیا اس بَلا کا مقابلہ کرتے کرتے تھک ہار چکی ہے۔ عالمی اقتصادیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔

ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کا کیا کہنا، ترقی یافتہ معاشرے بھی اس نادیدہ دشمن کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔ دنیا کی 3صدیوں کے دوران کی گئی تعمیر و ترقی کا بھرکس نکل گیا ہے، لیکن دنیا نے اس عفریت کا مقابلہ کیا ہے، اس سے نقصان ضرور اٹھایا ہے، لیکن شکست نہیں مانی، اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک عمومی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کھل رہے ہیں۔ معاشی و سماجی سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں،لیکن ہمارے ہاں مکمل طور پر کنفیوژن پایا جاتا ہے۔بات مقتدر اور فیصلہ ساز اداروں سے شروع کرتے ہیں۔ وفاق اور صوبوں کو بھی دیکھ لیں ایک پیج پر نہیں ہیں۔ وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان ایک کھلی جنگ جاری ہے۔ الزامات کی بھرمار ہے۔ ایک دوسرے کی نیتوں پر حملے جاری ہیں۔ صوبہ سندھ میں کورونا سب سے زیادہ شدت اور ہلاکت آفرینی کے ساتھ حملہ آور ہے۔اس صوبے کے وسائل بھی کم ہیں اور گورننس کے ایشوز بھی ہیں، لیکن مرکز کے عدم تعاون کے باعث معاملات میں بگاڑ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

ہمارے وزیراعظم روزِ اول سے ہی لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھے۔ یہاں ان وجوہات پر بحث کرنا مقصود نہیں ہے، جن کے باعث وہ لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ وہ بڑی شرح مد کے ساتھ، نیک نیتی کے ساتھ لاک ڈاؤن کے مخالف ہیں ان کے دلائل بھی کسی نہ کسی حد تک درست ہیں کہ لاک ڈاؤن سے انفرادی معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی اور غریبوں کو اس قدر نقصان اٹھانا پڑے گا کہ وہ پھر سنبھل نہیں پائیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں غربت پہلے ہی زیادہ پائی جاتی ہے۔ رزق روزگار کے مواقع پہلے ہی بہت زیادہ اور یقینی نہیں ہیں۔ سینکڑوں نہیں، لاکھوں نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کا روزگار، روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے، اس لئے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ایسے شہریوں کی معاشی تباہی یقینی ہے۔ اس لئے وزیراعظم شروع سے ہی سخت لاک ڈاؤن کے مخالف رہے ہیں۔ دوسری طرف عامتہ الناس ہیں ان میں کورونا کے حوالے سے فکری و عملی انتشار پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ کورونا کو یہودی سازش قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد عالمی معیشت پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو بھی یہودی آلہ کار تصور کرتے ہیں، اس لئے اسے زیادہ کیا تھوڑی سی بھی لفٹ نہیں کراتے،کیونکہ لوگ اسے مانتے ہی نہیں ہیں، اس لئے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے احتیاط اور حفاظت کا تصور بھی ناپید ہے۔

اس کے علاوہ جو لوگ کورونا، اس کی تباہ کاریوں کے بارے میں مثبت خیالات رکھتے ہیں۔ مانتے ہیں کہ کورونا ایک وبا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی اداروں کی ہدایات اور طے شدہ طریق کار پر عمل درآمدکرنے کی بجائے دیسی اور مادری ٹوٹکوں اور نسخوں پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی ثنا مکی اور کبھی جڑی بوٹیوں کے قہوے، کبھی مختلف قسم کے بیجوں کا سہارا لے کر اس وبا کا مقابلہ کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب باتیں نتیجہ خیز ہونے کی بجائے معاملات میں مزید بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ معاملات میں بگاڑ ہی بگاڑ پایا جاتا ہے۔ خوف و ہراس اور سراسیمگی کا ایک عجب ماحول ہے۔ سرکاری اداروں بشمول طبی شعبہ جات کی کارکردگی بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے ہاں ماہرین ہی ماہرین پائے جاتے ہیں۔ ہر شہری طبیب اور ڈاکٹر بنا ہوا ہے۔ ماد ری نسخوں کی بات ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا بھی کنفیوژن پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔ فکری انتشار کے ساتھ ساتھ عملی انتشار بھی عروج پر ہے۔ ہمارے سرکاری اداروں کی حالت پہلے ہی پتلی تھی۔ ہیلتھ سیکٹر خاص طور پر کمزوری کا شکار تھا۔ہیلتھ سیکٹر تو عمومی حالات میں مطلوبہ خدمات مہیا کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا۔ ہنگامی حالات نے اس کی رہی سہی کسر بھی نکال کر رکھ دی ہے۔ہیلتھ سیکٹر میں فرنٹ لائن پر اس کا مقابلہ کرنے والا عملہ بشمول ڈاکٹر نرسز وغیرہ اس کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔

طبی سہولیات کی عدم فراہمی یا عدم دستیابی، ادارہ جاتی صلاحیتوں کا فقدان، دیرپا منصوبہ بندی نہ ہونا، مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور کمیونیکیشن کی کمی اور سب سے اہم اس وبا کے ساتھ نمٹنے کی کمٹمنٹ کی کمی ویسے مسائل نے معاملات کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ اس وبا نے کچھ اور کیا ہے یا نہیں، لیکن ایک کام کر دیا ہے اور وہ ہے معیشت کا دھڑن تختہ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ معاشی نمو منفی ہوئی ہے۔ یہ چھوٹی بات نہیں ہے کہ ہماری معیشت کی نمو اس حد تک گر گئی ہے۔ عالمی معاشی بحران کے ہماری قومی معیشت پر اثرات بارے تو ابھی ہمیں حتمی طور پر کچھ پتہ نہیں ہے، لیکن ہماری اپنی، اندرون ملک معاشی بدحالی عیاں ہو گئی ہے، گزشتہ روز ہمارے مشیر خزانہ بتا رہے تھے کہ ٹیکسوں کی وصولیوں کے نظر ثانی شدہ اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں بدحالی کا شکار ہو چکی ہیں۔ انفرادی معیشت کا بھی دھڑن تختہ ہو گیا ہے۔ مستقبل قریب میں معاملات کی بہتری کی صورت سردست کہیں نظر نہیں آ رہی ہے، کیونکہ ابھی کورونا کی تباہ کاریاں ہی سمٹی سکڑتی نظر نہیں ٓا رہی ہیں۔

ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے ایک دو مہینوں میں کورونا زیادہ شدت سے حملہ آور ہو گا۔ مریضوں کی تعداد بڑھنے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی ہمیں وارننگ لیٹر جاری کر دیا ہے، لیکن ہم نہ تو سماجی فاصلوں پر کاربند ہونے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی ماسک کو لازمی سمجھتے ہیں۔ باقی احتیاطیں تو دور کی بات ہے، یہی وجہ ہے کہ کورونا اپنی شدت کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہے، اس کی تباہ کاریاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے کنفیوژن میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کیسے تھمے گا، اس بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -