حکومت ٹڈل دل کا تدارک کرے وگرنہ؟

حکومت ٹڈل دل کا تدارک کرے وگرنہ؟

  

ملک میں ٹڈی دل کے حملوں نے کسان کا برا حال کر دیا ہے، جس سے فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے، جس کی وجہ زراعت میں ناکام پالیسیاں نافذ کرنا ہے۔ زرعی سیکٹر کا جی ڈی پی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاہم ایگری کلچر سیکٹر اب بھی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام حکومتوں نے زراعت کو نظر انداز کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیاں اور حشرات کے حملوں نے کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ریسرچ کا نہ ہونا آبپاشی کے نظام کو جدید تقاضوں پر آپریشنل نہ کرنے اور ناکام حکومتی پالیسیوں سے نہ تو روایتی فصلوں کی پیداوار بڑھی اور نہ ہی کسانوں کی توجہ دیگر غیر روایتی کیش کراپس کی جانب دلوائی گئی ہے۔

اس وقت کرونا سے بھی بڑا عذاب ٹڈی دل کی صورت میں ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت پر حملہ آور ہو چکا ہے چونکہ ٹڈی دل صرف کھیتوں کھلیانوں اور دیہاتوں میں تباہی مچا رہا ہے شاید اس لئے یہ مسئلہ ہمیں قومی ذرائع ابلاغ پر اس طرح نظر نہیں آ رہا جیسے کہ آنا چاہئے۔ پنجاب کے کم و بیش تمام اضلاع سے جو اطلاعات آ رہی ہیں وہ خوفناک ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 154 اضلاع میں سے 61اس وقت ٹڈی دل کے نشانے پر ہیں اور مزید اضلاع پر ٹڈی دل کے حملے بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ افریقہ سے ٹڈیوں کے مزید غول پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان کے جون جولائی تک یہاں پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح پہلے سے موجود ٹڈی دل کے ساتھ جب یہ غول بھی مل جائیں گے تو زرعی پیداوار اور سبزے کے لئے غیر معمولی تباہی لا سکتے ہیں۔

خوراک کے تحفظ، مویشیوں کی بقا اور سماج کے کمزور طبقات کے لئے یہ صورت حال تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے رواں ماہ کے شروع میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ جاری سال میں پاکستان میں ٹڈی دل کی وجہ سے ربیع اور خریف کی فصلوں کے مجموعی نقصان کا مجموعی مالیت کے 15فیصد کے برابر 205ارب روپے کے قریب،جبکہ خریف کی فصلوں کے نقصان کا تخمینہ 25فیصد 464 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبہ سندھ پنجاب میں کپاس کی بوائی اور اسی طرح سنٹرل پنجاب کے اضلاع میں چاول کی بوائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان اضلاع میں فی الوقت ٹڈی دل کے حملے کا فی الحال تو خطرہ نہیں ہے، لیکن جولائی کے بعد جب کپاس، چاول کی فصل بڑھوتری کی طرف بڑھے گی اور اکتوبر، نومبر میں جب ان فصلوں کی تیاری ہو گی تو تصور کریں کہ ٹڈل دل ان فصلوں کو ملیا میٹ نہیں کرے گا؟بلکہ پاکستان کی معیشت اور زرمبادلہ کی آمدن کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے گا۔ لہٰذا حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتیں ہوش کے ناخن لیں اور ٹڈل دل کے حملے کی روک تھام اور تدارک کے لئے جنگی بنیادوں پر پلان ترتیب دیں۔

وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں کرونا وبا پر روزانہ معمول کے مطابق اجلاس کر رہی ہیں، فیصلے صادر ہو رہے ہیں، عوام کو آگاہی دی جا رہی ہے، لیکن آنے والے وقت میں ٹڈل دل کے حملے در حملے میں فوڈ سیکیورٹی کے خطرات سے بالکل عاری نظر آ رہی ہیں۔ آج کرونا کی وبا کے باوجود پاکستان میں کھانے پینے، اشیا خورونوش، گندم چاول کے سٹاک کی بدولت وہ خطرنا ک صورت نہیں جو عالمی وبا کی شکل میں براعظم افریقہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ الحمدللہ خوراک کے حوالے سے اب تک تو خطرے کی حالت سے باہر ہے، لیکن جس انداز سے ٹڈل دل 61اضلاع تک پہنچ گیا ہے اگر یہ اسی سپیڈ سے بڑھتا رہا تو پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، جس سے سبزیاں، پھل، چاول، لائیو سٹاک، جانوروں کی خوراک میں کمی سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ناگزیر ہے کہ وزیراعظم پاکستان چاروں صوبائی حکومتوں کے وزراء اعلیٰ جات، نیشنل پراونشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیز سمیت قومی سیاسی قیادت کا مشاورتی اجلاس بلائیں اور پاکستان کو مستقبل میں خوراک سمیت زرمبادلہ میں کمی کے ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کے لئے قومی پلان ترتیب دیں۔ ”وقت کم اور کام زیادہ ہے“ ”ویلے دی نماز تے کویلے دی ٹکراں“ اگر اب اس ٹڈی دل آفت پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان شدید مالی اور خوراک کے بحران سے دوچار ہو جائے گا اور ایسا ناقابل تلافی نقصان ہو گا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

دوسری طرف ملک میں آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جس پر نانبائی ایسو سی ایشن نے بھی روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔ گندم کی امدادی قیمت 1400روپے فی من مقرر ہے، کیسی ستم ظریفی ہے کہ اوپن مارکیٹ میں 1800 روپے فی من گندم کا ریٹ ہو گیا ہے یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے، یہ کون سا مافیا ہے کہ حکومت کی آنکھ سے اوجھل ہے۔ کسانوں کو تو 1400روپے بھی فی من گندم کی قیمت مل نہیں سکی وہ مڈل مین آڑھتیوں کے ہاتھوں لٹ گئے۔ اب گندم کا ریٹ 1800روپے سن کر اوسان خطا ہو گئے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقے کا کیا ہو گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں آٹا، چینی مافیا کا ہی راج ہے۔ چینی سکینڈل پر قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ آ چکی ہے، لیکن معلوم یہی ہو رہا ہے کہ ”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑے بارہ آنے“ والی صورت حال ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ولیڈران کی شوگر ملیں ہیں اور روزانہ یہی طبقات ایک دوسرے پر چینی پر ناجائز سبسڈی لینے اورایک دوسرے پر الزامات داغتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ چور بھی کہے چور چور چوروں سے خبردار رہئے۔

چینی کی فی کلو قیمت 90روپے ہو گئی ہے جو کہ 55روپے کلو ہونی چاہئے چینی پر ناجائز منافع کیا حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ملز مالکان قیادتوں کو ہی کی جیبوں میں جا رہا ہے تو بتائیں کون سا احتساب اور کون سی ریکوری!

مزید :

رائے -کالم -