کور ونا:شخصیت اور کا رنا مے

کور ونا:شخصیت اور کا رنا مے
کور ونا:شخصیت اور کا رنا مے

  

پچھلے چھ ما ہ میں کر ونا کے با رے میں جس قدرلکھاگیا ہے، تا ریخ میں اتنے قلیل عر صے میں شا ہد ہی کسی او رموضوع پر لکھا گیا ہو۔آخر کیو ں نہ لکھا جا ئے، اس قدر تیز ترین تر قی تا ریخ میں کسی اور نے کی بھی تو نہیں۔فقط چھ ما ہ کی قلیل مدت میں پوری دنیا پر چھا جا نا کسی کا رنامے سے کم نہیں۔ایسا کار نا مہ جس کے مقا بلے میں بل گیٹس، وارن بفے،جیک مااو ر ملک ریا ض بھی بغلیں جھا نکیں! گو یا کر ونا ایک سیلیبریٹی سٹیٹس حاصل کر چکے ہیں کہا جا تا ہے کہ جس کو خدا عزت اور مر تبہ عطا کرے اس کی عزت کر نی چا ہیے۔ لہٰذا ہم بھی آئندہ کر ونا کو کر ونا صا حب کہہ کر پکا ریں گے۔اگر چہ کر ونا صاحب پر لا کھوں کی تعداد میں تحاریر منظر عا م پر آچکی ہیں مگر تقریبا تما م ہی اس کی بنیادی ساخت، انسا نی جسم پر اس کے اثرات اور اس کے حملے کے زیر اثر ہونے والی معا شی، معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہیں مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کر ونا جیسی عظیم شخصیت کی ذا تی زندگی،طبعی میلانات، مذہبی، سیاسی و ثقا فتی رحجا نا ت اور نظر یا تی وا بستگیوں کے حوالے سے کچھ بھی تحریر نہیں کیا گیا جس کی وجہ صرف دنیا والوں اور بالخصوص پتر کاروں کا ا س بیمثال اور مہا ن ہستی کے بارے میں تعصب ہی ہو سکتاہے یااس کی تیز تر ین تر قی کے خلاف بغض اور حسد کے جذبات۔

کرو نا صاحب چین کے شہر ووہا ن میں پید ا ہو ئے۔ان کی پیدا ئش کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف ہے۔ سر ما یہ دار نہ ذہنیت رکھنے والے دانشوروں کے مطابق وہ ووہا ن کی کسی بورژوا لیبا ٹری میں پیدا ہو ئے۔جبکہ کمیونسٹ و سو شلسٹ رحجا نا ت والوں کا خیال ہے کہ کر ونا صا حب کی پیدا ئش پرولتاری جا نوروں کی کسی منڈی میں ہو ئی۔ابتدائی زندگی بڑی کسمپرسی کے عالم میں گزری۔ کبھی کسی سا نپ کے پیٹ میں اور کبھی کسی چمکا دڑ کی رگوں میں۔لیکن کر ونا صا حب ھٹ کے بہت پکے تھے۔ تہیہ کر رکھا تھا کہ زندگی میں کچھ کر کے دکھانا ہے۔قریبی لو گوں کا خیال ہے کہ ان کی اس ھٹ اور مستقل مزاجی کے پیچھے قاسم علی شاہ کی موٹی ویشنل ویڈیوز کا کا فی کر دار رہا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ کبھی کبھا ر موصوف قا ئد اعظم میڈیکل کا لج کے سا بقہ پر نسپل ڈا کٹر جا وید اقبال کی تحریک انگیز ویڈیوز بھی یو ٹیوب پر دیکھتے پا ئے جا تے تھے۔موصو ف کے سیا سی رحجا نا ت کے بارے میں بھی اختلا ف را ئے پا یا جا تا ہے ۔جمہوریت پسند اسے کمیو نسٹ اور جمہوریت دشمن گزدانتے ہیں جبکہ کمیو نسٹ اس کو جمہوریت کا علمبردار اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔اسی لئے چین کی حکومت نے تیا نا من سکوائر کی یاد تازہ کر تے ہو ئے اس کا سر کچلنے میں ذرا بھر تردد نہیں کیا۔لیکن اسکے اپنے رویے سے واضح ہے کہ جس شدت کے ساتھ اس نے مغرب کی جمہوری ریا ستوں پر حملہ کیا ہے اس سے اس کے کمیو نسٹ ہونے میں کو ئی شک ہو توہو اس کی جمہوریت دشمنی روزروشن کی طر ح عیا ں ہے۔بات یہیں نہیں رکتی۔

کچھ دوستوں کا خیا ل ہے جس غیض و غضب کیسا تھ اس نے مغرب پر حملہ کیا ہے۔اس سے شک گزرتا ہے کہ مو صو ف ووہا ن کی بجائے افغانستا ن کی کسی غارمیں پید ا ہو ئے اور کسی جہا دی کیمپ میں مغرب دشمنی کو پل پل سینے میں پروان چڑھا تے ہو ئے جو ا ن ہو ئے۔اس نظریہ کو اس با ت سے بھی تو تقویت ملتی ہے کہ مو صو ف نے جہاں مردوں پرتا بڑتوڑ حملے کئے وہیں عورتوں کے بارے میں نرم گو شہ رکھا کہ بعداز فتح مال غنیمت کا حصہ ہوں گی۔مزید تحقیقات پر یہ قیاس آرئیاں بھی سا منے آئی ہیں کہ کر ونا صا حب مسلکی اعتبار سے سنی وا قعہ ہو ئے ہیں۔ اس قیا س آرائی کے پیچھے شا ید یہ مفروضہ ہے کہ اسلا می دنیا میں مو صو ف کا سب سے شدید حملہ ایران پر رہا ہے۔ مفکرین کے ایک گر وہ کے مطا بق کر ونا صا حب نہ کمیونسٹ ہیں نہ مسلمان بلکہ جس انداز میں انہوں نے لوگوں کو تفکر،مراقبہ اور سادہ طرز زندگی کی طر ف را غب کیا ہے اس سے ان کا بدھ مت کا پیروکار ہو نے کی طر ف اشارے ملتے ہیں ان کے مطا بق کر ونا صا حب دنیامیں بدھ مت کی نشاۃ ثانیہ کے سر خیل کے طور پر وارد ہو ئے ہیں۔ خود بدھ مت کے کرتا دھرتا ؤ ں نے کر ونا سے ہو نے والی اموات کو نروان کے حصول سے تعبیر کیا ہے۔

پاکستان میں کرونا صا حب کا رویہ کچھ عجیب او ر تذبذب کا شکا ر نظر آتا ہے۔جہاں امریکہ بر طا نیہ اور دیگر یورپی مما لک میں کر ونا صا حب نے نہا یت مستعدی اور چا بکدستی سے اپنا کا م کیا ا ور فوری نتائج پید اکئے ہیں، پاکستان میں معاملہ بالکل اس کے بر عکس رہا۔ معلوم ہو تاہے کہ پا کستا ن کی حدود میں دا خل ہو تے ہی یہا ں کا سارا سسٹم سمجھ گئے ہیں اور تہیہ کر لیا کہ جیسا دیس ویسا بھیس۔نتیجتاً پہلے پہلے تو کسی شاہی افسر کی ما نند کا م پر ہا تھ ڈالنے سے ہی انکا ری ہو گئے، البتہ عوام پر اپنا رعب و دبدبہ قا ئم رکھنے میں ذرا بھی غفلت کا مظا ہر ہ نہیں کیا۔عوام اور انتظامیہ نے مل کر اکسا نے کی بہت کو شش کی لیکن مو صو ف شاید میلی کچیلی عوام کے مونہہ لگنا یا مونہہ لگانا اپنی افسرانہ شا ن کے خلا ف سمجھتے رہے۔اس سلسلے میں دو سری رائے یہ ہے کہ مو صوف ایک درد دل رکھنے والے سا مراجی صا حب ہیں اور تیسری دنیا کے پسما ندہ ممالک میں کسی تبا ہی کی نیت سے نہیں بلکہ White Man's Burden کا بو جھ سرسے اتا رنے تشریف لا ئے ہیں تا کہ مغربی تہذیب و ثقا فت کے ثمرات غیر مہذب اقوام تک پہنچائے جا سکیں۔گھل مل کر رہنے کی بجا ئے سما جی فا صلوں کے کلچر کا فروغ، الکحل ملے سینیٹا ئزر اور وکٹوریہ دور کی بیگمات کی طر ح ما سک پہننے کا رواج اسی سلسلہ کی کڑیاں نظر آتی ہیں۔

بہرحال ان کا اپنا ایجنڈا کچھ بھی رہا ہو اپنی کاھلی اور سست روی سے مو صوف نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو مایوس کیا، یہاں تک کہ وہ مذاق بن کر رہ گئے، ان پر لطیفے بنائے گئے اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس کے وجود تک کا انکار کر دیا لیکن صاحب کی پراسرار خاموشی نہ ٹوٹی۔ تشویش بڑھی تو صاحب بہادر کو متحرک کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں۔ پرانے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے قا سم علی شاہ اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی ویڈیوز دوبارہ سنوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ناکامی پر بھارت کے سندیپ ماہیشوری اور امریکہ کے ٹونی رابن کوبھی آزمایا گیا لیکن موصوف جب کسی طور پر سست روی چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے تو کسی سیا نے مقامی افسر نے چپکے سے مشورہ دیا کہ موصو ف چونکہ بین الاقوامی سطح پر آپریٹ کرتے رہے ہیں لہذا اس وقت تک اپنے کا م کی طر ف ما ئل نہیں ہو نگے جب تک ان کو منا سب ما حول فرا ہم نہیں کیا جا ئے گا۔نسخہ تیر بہدف رہا۔عیدسے قبل تما م با زار کھول کر مو صوف کو منا سب اور سا ز گا رما حول فراہم کیا گیا۔الحمد اللہ موصوف اب کا م کی طر ف ما ئل ہو ئے ہیں اور کچھ کا رکر دگی کا مظا ہر ہ بھی کیا ہے اور امید ہے کہ اگر ان کے خلا ف دوبارہ لا ک ڈا ؤن جیسے ہتھکنڈے استعمال نہ کئے گئے تو مو صو ف آئندہ دنوں میں کا میا بیوں کے جھنڈے گاڑتے ہو ئے امریکہ اور یورپ والی کا رکر دگی دھر انے میں کامیاب ہو جا ئیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -