اہم انکشافات

اہم انکشافات
اہم انکشافات

  

کرونا اور لاک ڈاؤن کے اس دور میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تر فراغت ہی رہتی ہے ایسے میں کو شش ہو تی ہے کہ فر اغت کے ان دنوں کا بھرپور فا ئدہ اٹھا کر اچھی کتا بوں اور معیاری فلموں یا سیریز کو دیکھا جائے۔ اس دوران بہت سی اچھی فلموں اورسیریز کو بھی دیکھنا کا موقع ملا مگر ان سیریز اور فلوں کے بارے میں تبصرہ کسی اور کالم میں۔آج میں جس کتا ب کا ذکر کرنے جا رہاہوں یہ کتاب عالمی امور، سیاسیات، تاریخ اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے طا لب علموں کیلئے اہم کتاب ہے۔ کیونکہ یہ کتاب امریکی ”سی آئی اے“ کے ایک عہدے دار نے لکھی ہے۔امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے)کے اکثر عہدے داروں کی یادداشتیں یاتو امریکی جنگجوآ نہ عزائم اور امریکی فتو حات کی مہم جوئی کے قصوں پر مبنی ہوتی ہیں یا اگر کوئی سی آئی اے کا سابق عہدے دار حقائق کو سامنے لانا چاہے تو اس کی کتاب کے ان حصوں یا بعض صورتوں میں پوری کتاب کو ہی سنسرکی نظر ہونا پڑتا ہے۔ سی آئی اے کے سابق عہدے دار جان نکسن کی کتاب Debriefing the President: The Interrogation of Saddam Husseinکو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ا اس کتاب کے ذر یعے جان نکسن نے عراق کے سابق صدر صدام حسین اور عراق کے حوالے سے ایسے ایسے حقائق کو بے نقاب کیا ہے کہ جنہوں نے امریکہ کے عراق پر حملے کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔+

جان نکسن سی آئی اے کے وہ پہلے عہدے دار تھے کہ جنہوں نے دسمبر2003میں صدام کی گرفتاری کے بعد ان سے انتہائی تفصیلی تفتیش کی۔چونکہ مغربی حکمران طبقات کے زیر اثر مغربی میڈیا، تھنک ٹینکس اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے اکثر اداروں کی جانب سے صدام حسین اور اسکے اقتدار کے صرف اور صرف منفی پہلوؤں کو ہی اجا گر کیا جا تا رہا ہے۔ جان نکسن کے مطابق صدام حسین اور اسکے اقتدار کے حوالے سے اصل حقائق کو چھپانے میں سی آئی اے کا کردار انتہائی منفی رہا ہے۔ نکسن کے مطابق سی آئی اے کی اہلیت کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ سی آئی اے کسی بھی امریکی صدر کو صرف اور صرف ایسی انٹیلی جنس اور جوابات فراہم کرتی ہے جو صدر کی خواہشات پر مبنی ہو۔۔

جان نکسن صدام حسین کی گرفتاری سے بہت پہلے صدام اور اسکے اقتدار پر تحقیق کر رہے تھے۔نکسن نے جارج ٹاؤن یونی ورسٹی میں صدام حسین کی شخصیت اور اقتدار پر ہی اپنا تھیسس لکھا تھا۔نکسن 1998میں سی آئی اے میں شامل کئے گئے۔اور انھیں عراقی قیادت یعنی صدام حسین پر مکمل تحقیق کرنے کا کام سونپا گیا۔جس وقت صدام حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ صدام حسین اور عراقی امور پر ہی انٹیلی جنس کی بنیا دوں پر کام کر رہے تھے۔صدام کو گر فتار کرنے کے ساتھ نکسن کو صدام حسین کے پاس بھیجا گیا تاکہ صدام حسین کو شنا خت کر کے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گر فتار ہونے والا شخص حقیقت میں صدام حسین ہی ہے کیونکہ مغربی میڈیا میں کئی سالوں تک یہ جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا کہ صدام حسین نے 2سے3افراد کو پلا سٹک سرجری اور کاسمیٹک کی مدد سے ہوبہو اپنی ڈمی کے طور پر تیار کیا ہوا ہے۔

جان نکسن نے صدام حسین کے دائیں ہاتھ کے پیچھے ان کے قبا ئل کا ٹیٹو(مخصوص نشان)اور1959میں لگنے والی گولی کے نشان کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ گر فتار کیا جانے والا شخص صدام حسین ہی ہے۔ نکسن نے جب صدام حسین سے اپنی تفتیش کا آغاز کیا تو اس کو ایسے محسوس ہوا کہ صدام حسین کے بارے میں ان کی سوچ مکمل طور پر درست نہیں تھی۔نکسن کیلئے صدام حسین کا یہ دعویٰ بڑا حیر ان کن تھا کہ جب مارچ 2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اس سے بہت پہلے صدام حسین اپنی روزمرہ کی ذمے داریوں سے الگ ہوکر ایک نا ول لکھنے میں مصروف تھے۔صدام نے اقتدار کی بہت سی ذمہ داریاں اپنے ساتھیوں خاص طور پر نائب عراقی صدر طحہ یا سین رمضان کے حوالے کر دی تھیں۔نکسن کے مطابق طحہ یاسین رمضان کی سوچ کا دائراہ اتنا وسیع نہیں تھا کہ وہ عراق کو عالمی تنہائی سے نکال پاتے۔نکسن کے مطابق سی آئی اے کو بھی 2003کے حملے سے پہلے ایسی انٹیلی جنس اطلاعات مل رہی تھیں کہ صدام حسین اقتدار کے امور سے بے نیا ز ہو کر ایک نا ول لکھنے میں مصروف ہیں حتیٰ کہ صدام کو مکمل طور پریہ بھی معلوم نہیں تھا کہ عراق پر امریکی حملے کی صورت میں عراق کے دفا ع کا بندوبست کیسے کیا گیا ہے۔

نکسن کے مطابق 2003کے حملے سے پہلے سی آئی اے نے امریکی پالیسی سازوں سے اس انتہائی اہم حقیقت کو چھپائے رکھا۔نکسن نے جب صدام حسین سے بڑے پیمانے پر تبا ہی پھیلانے والے ہتھیا روں کے با رے میں دریافت کیا تو صدام نے جواب دیا”عراق کو ئی دہشت گرد ریاست نہیں تھی۔ہما رے اسامہ بن لادن کے ساتھ کو ئی تعلقات نہیں تھے نہ ہی ہما رے پاس بڑے پیمانے پر تبا ہی پھیلانے والے ہتھیا ر موجود تھے۔مگر تمھا را صدر(بش) کہتا رہا کہ عراق میرے والد(بش سینئر) کو ما رنا چا ہتا ہے“نکسن نے جب صدام حسین سے پو چھا کہ کیا کبھی اس نے سعودی عرب میں امریکی افواج پر بڑے پیمانے پر تبا ہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملہ کرنے کے با رے میں سوچا؟اس پر صدام نے جواب دیا”ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا۔کیا دنیا میں ذرا سی بھی عقل رکھنے والا شخص کیمیکل ہتھیا روں سے حملہ کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ہم پر بھی یہ ہتھیا ر کبھی استعمال نہیں کئے گئے تو ہم ایسا کرنے کا کیوں سوچتے؟“اس پر نکسن نے سوال کیا تو پھر امریکہ نے آپ کی بات کیوں نہیں سنی۔صدام نے جواب دیا کیونکہ ”وہاں (امریکہ) پر سننے اور سمجھے والا رویہ ہی نہیں پایا جا تا“‘نکسن کے مطابق صدام نے اعتراف کیا کہ اس سے بھی کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ایران اور عراق کی جنگ کے دوران کرد شہر حلابجامیں کیمیکل ہتھیاروں کے استعما ل اور اسکے نتیجہ میں ہونے والی تبا ہی پر صدام نے کہا ”یہ فیصلہ قطعی طور پر میرا نہیں تھا“ نکسن کے مطابق صدام کے اس دعویٰ کو اسلئے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ سی آئی اے کی اپنی بہت سی رپورٹس کے مطابق حلابجامیں کیمیکل ہتھیا روں کو استعما ل کرنے کا فیصلہ صدام کے افسروں کا تھا کیمیکل ہتھیا روں سے جو تبا ہی ہوئی اس پر صدام نے ان افسروں کے خلاف سخت کا روائی بھی کی۔

صدام حسین نے جان نکسن کو بتا یا کہ اسے قوی امید تھی کہ9/11کا واقعہ امریکہ کو عراق کے قریب لائے گا کیونکہ عراق بھی اسلامی انتہا پسندی کا سخت مخالف تھا اسلئے صدام کے دور میں عراق کے اندر انتہا پسندی نہیں تھی۔نکسن کے مطابق صدام حسین کے حوالے سے اس کی تفتیش اور اسکے نتیجے میں بر آمد ہونے والے حقائق کو وائٹ ہا وس اور سی آئی اے کے سینئر عہدے داروں نے سرے سے نظر انداز کئے رکھا۔کیو نکہ وائٹ ہا وس اور سی آئی اے کسی بھی صورت نہیں چا ہتے تھے کہ عراق پر امریکی حملے کو ایک غلطی کے طور پر تسلیم کیا جا ئے۔ وائٹ ہاؤس قطعی طور پر یہ نہیں چاہتا تھا کہ دنیا کے سامنے اس حقیقت کو لایا جائے کہ صدام کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے جھوٹ پر مبنی الزامات گھڑے گئے۔سی آئی اے کے اسی رویہ کے با عث نکسن نے 2011میں سی آئی اے چھوڑ دی۔نکسن کے مطابق اس نے صدام حسین سے تفتیش کے بعد جو ٹھوس نتا ئج اخذ کئے وہ یہ تھے کہ اگر اس سے پوچھا جائے کہ کیا صدام کو اقتدار سے ہٹانا ضروری تھا تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہرگز نہیں۔نکسن کے مطابق بے شک صدام حسین ایک آمر تھا مگر اس کو اقتدار سے ہٹانے کے نتیجہ میں جو تبا ہی ہوئی یہ تبا ہی اسکی آمریت کے مقابلے میں بہت بڑی تبا ہی ہے۔

نکسن کے مطابق اگر صدام حسین کو یوں حملہ کرکے اقتدار سے نہ ہٹایا جا تا تو آج عراق میں داعش اور القاعدہ سمیت کسی انتہاپسند تنظیم کا وجود نہیں ہو تا۔اور اب آخر میں صدام حسین کے جان نکسن کو کہے ہوئے انتہائی اہم الفاظ”تم لوگ(امریکہ) عراق میں نا کام ہوگے۔تم لوگوں (امریکہ)کو بہت جلد یہ معلوم ہو گا کہ عراق پر حکو مت کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ تم لوگ عراق کی زبان، تا ریخ اور عرب ذہن کو نہیں جانتے۔ عراق کو اسکے موسم اور تا ریخ جانے بغیر جا ننا بہت مشکل ہے“۔صدام حسین نے یہ الفاظ نکسن کو عراق کے تنا ظر میں کہے تھے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ الفاظ ہر اس سامراجی طا قت کیلئے صادق آتے ہیں کہ جو دنیا کے مختلف ممالک کی تا ریخ، تہذیب، رسم و رواج اور سما جی رویوں کی پروا ہ کئے بغیر ان ممالک پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر ایسی ہی ناکامی اور تبا ہی کا با عث بنتے ہیں کہ جیسے امریکہ، عراق میں تبا ہی کا سبب بنا۔

مزید :

رائے -کالم -