گل ودھ گئی، پھر بھی ”ستے خیراں“ نیں!

گل ودھ گئی، پھر بھی ”ستے خیراں“ نیں!
گل ودھ گئی، پھر بھی ”ستے خیراں“ نیں!

  

سوشل میڈیا پر ان دنوں ہمارے ایک ”مہربان“ کی ذاتی آڈیو والی بات باقاعدہ ایک ضرب المثل بن گئی اور اب یہ کہا جا رہا ہے ”اوئے، مختیاریا“ کتھے مر گیا ایں، ہُن گل ودھ گئی او“ اور یہ کرونا کے حوالے سے کہا جا رہا ہے جونہی کوئی نئی خبر آتی ہے کہ کوئی اہم شخصیت (وی آئی پی) کرونا کی لپیٹ میں آ گئی ہے تو سوشل میڈیا پر ”گل ودھ گئی“ کے ساتھ ہی مختارا یاد آ جاتا ہے، ان دنوں ہر روز ایک نئی خبر سے سابقہ ہے، ابھی تک مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے قریباً 17اراکین اس پریشانی میں مبتلا ہو چکے، اتفاق کی بات ہے کہ ان کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے اراکین سے ہوا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ترجمان مریم اورنگزیب پہلے متاثر ہوئے تو سیکرٹری جنرل احسن اقبال بھی پیچھے نہ رہے۔

کرونا نے ان کو بھی آ لیا اور وہ بھی قرنطینہ میں چلے گئے، جبکہ اگلی باری خود مرکزی صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف کی آ گئی اور ان کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا، اگرچہ وہ پہلے ہی بہت محتاط تھے مگر اب ان کو حقیقی قرنطینہ کی ضرورت آ گئی۔ یوں یہ چاروں حضرات نہ صرف احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکیں گے بلکہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں ایوان کے اراکین میں بھی سراسیمگی ہے کہ ہر روز کسی نئے رکن کی رپورٹ سامنے آ جاتی ہے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ جس کا بھی ٹیسٹ ہوتا ہے وہ مثبت نکل آتا ہے، سپیکر اسد قیصر نے جو خود بھی کورونا میں مبتلا رہ کر صحت یاب ہوئے ہیں اب سختی سے ہدائت کر دی ہے کہ کسی بھی رکن کو ایوان میں آنے اور بجٹ اجلاس میں شرکت سے پہلے اپنے کرونا ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار کرنا ہوگا اور شرکت اسی نتیجے پر منحصر ہو گی، دوسری طرف یہ کرونا قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا اب سرکاری افسر اور ملازم بھی متاثر ہورہے ہیں،حتیٰ کہ محافظان ایوان ہائے منتخب اراکین کو کمیٹی بنانا پڑی جو عوامل کو دیکھ کر انتظامات کا بھی نئے سرے سے جائزہ لے گی۔

یہ تمہید ذرا طویل ہو گئی لیکن اس کے بغیر چارہ نہیں کہ یہ بجٹ اجلاس ہے اس میں نئے مالی سال کے لئے حکومتی منصوبے اور انتظامات زیر غور آنا ہیں اور ان پر بحث مقصود ہے تاکہ عوام کو بجٹ کے خدوخال، اس کی نیکی، بدی کا علم ہو سکے لیکن اب جو صورت حال ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اجلاس ڈنگ ٹپاؤ ہو گا اور بجٹ آسانی سے منظور ہو گا، ہمیں علم بھی نہیں ہو سکے گا کہ بجٹ میں ”ماہرین فن“ نے اپنے اپنے ”فن“ کا کیا کیا مظاہرہ کیا ہے۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تو کہہ دیا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا لیکن ہمارا ذہن نہیں مانتا کیونکہ حکومت کی آمدنی کا ذریعہ ہی ٹیکس ہوتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ آمدنی اور خرچ کے توازن کو برقرار نہ رکھا جائے اور بہتر حل ٹیکس ہی ہوتے ہیں، البتہ جب کہا جاتا ہے کہ بجٹ ٹیکس فری ہو گا تو اس کے لئے نیا راستہ بھی ڈھونڈھ لیا جاتا ہے، اسے ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا نام دے کر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں ”خوبصورتی“ کے ساتھ اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اب بھی یہی ہوگا۔

جہاں تک بجٹ پر ایوان میں غور کی بات ہے تو یہ کام اپوزیشن کا ہے کہ وہ بجٹ میں خامیوں کی نشاندہی کرے، اس کے لئے عام بجٹ کے ساتھ کٹوتی کی تحریکوں پر بھی بات کا موقع ملتا ہے اور یوں ایوان میں ہونے والی تقریروں سے عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے بجٹ میں ان کے لئے کیا رعایت رکھی اور کون سا دکھ پہنچانے کا انتظام کیا، لیکن اب تک جو صورت حال سامنے آئی اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عوام اس ”نعمت“ سے بھی محروم رہیں گے کہ کورونا نے نہ صرف قائد حزب اختلاف کو باہر رہنے پر ”مجبور“ کر دیا، بلکہ سرگرم رکن بھی اپنے اپنے گھروں پر کارروائی دیکھنے یا سننے پر مجبور ہوں گے۔ صرف مسلم لیگ (ن) ہی کی یہ صورت حال نہیں، پیپلزپارٹی بھی پچھلے قدموں پر نظر آئی ہے اور ابھی تک کسی کی طرف سے بجٹ کے حوالے سے تجاویز بھی سامنے نہیں آ رہیں، اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو سمیت اس جماعت کے اراکین کی بھی محدود تر تعداد ہی شرکت کرے گی اور یوں حزب اقتدار کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ویسے بھی ہمارے دوست ”باخبر“ نے لکھ دیا کہ سپیکر کی مداخلت سے معاملات طے پا چکے ہوئے ہیں، بظاہر ان کی وجہ ”کورونا“ بتائی جا رہی ہے لیکن حقیقت مختلف ہے کہ ہنگامی صورت حال میں ان سب کو بتا دیا گیا ہے کہ کوئی مشکل پیدا نہ کی جائے، ورنہ یہ ہمارا اپنا پارلیمانی رپورٹنگ کا تجربہ ہے کہ ہمارے دوست رانا اکرام ربانی کی قیادت میں گیارہ اراکین کی حزب اختلاف نے پنجاب اسمبلی میں مشکل پیدا کر دی تھی اور یہ کم اراکین بجٹ کے علاوہ بھی اجلاس میں تیاری کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔

اب ہم عوامی ذہن اور سوشل میڈیا کے رجحان کی بات کریں تو یہ سب یہ ثابت کرنے پر لگ گئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے اندرونی تضادات کورونا کو بھی معلوم ہو گئے اور کورونا نے زیادہ بولنے اور سخت تنقید کرنے والوں کو گھروں میں مقید کر دیا ہے، جبکہ ایک طبقے کا جو سیاسی ذہن کا حامل ہے، یہ خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اندرونی سیاست کے تحت بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کے لئے راہ صاف کی کہ وہ ”مفاہمت“ کی بات کر لیں اور نتیجہ بھی دیکھ لیں، جبکہ باخبر حضرات کا کہنا ہے کہ جسے پیا چاہے وہ ”سہاگن“ اس لئے اپوزیشن کو بتا دیا گیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ایک طرف سے تو محاذ آرائی کم ہو اور قومی اہمیت کو پیش نظر رکھا جائے، چنانچہ اب ”قومی ضرورت“ ہی کے تحت یک طرفہ تعاون ہو گا جبکہ حزب اقتدار کا سوشل میڈیا ہی نہیں ترجمان بھی مصروف عمل رہیں گے۔ ”راوی چین ہی لکھتا ہے“ اس لئے مختارے کے لئے بھی فخر کی بات نہیں کہ گل ودھ ضرور گئی، کورونا اشرافیہ کا رخ کرنے لگا ہے، لیکن اس طبقہ میں اموات کی نہیں شفایابی کی شرح زیادہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -