لاہور میں 14روز کاسخت ترین لاک ڈاؤن، حکمت عملی تیار، فیصلہ آج متوقع، کورونا سے جاں بحق طبی عملے کیلئے وفاقی مالی پیکج کا اعلان، ملک بھر میں وباء سے مزید 86اموات

      لاہور میں 14روز کاسخت ترین لاک ڈاؤن، حکمت عملی تیار، فیصلہ آج متوقع، ...

  

لاہور (خبر نگار)وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پرکورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی،جس کے تحت بالخصوص صوبائی دارالحکومت لاہور کو کورونا فری بنایا جانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے منصوبے کے تحت لاہور کے 38مقامات کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے ا ور ان علاقوں کو اگلے دو ہفتوں کیلئے مکمل طور پر سیل کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دفعہ 144 نافذ کیا جائیگا، مقدمات درج کرنے کیساتھ ساتھ بھاری جرمانے اور قیدبھی ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا جائیگا ان علاقوں کے مکینوں کو شہر سے باہر اور شہر کے دیگر علاقوں میں جانے نہیں دیا جائیگا۔لاہور کے اہم مقامات کیساتھ ساتھ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی مکمل سیل کئے جا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید سے بھی رائے حاصل کی گئی اورانہوں نے بھی شہرکے کورونا کے پھیلاؤ والے علاقوں کو مکمل طورپر سیل کرنے کی تجویز دی،ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے محکمہ داخلہ پنجاب اور سی سی پی او لاہور کی تیار کردہ رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منظوری کیلئے ٹیکنیکل کمیٹی سے رپورٹ طلب کرلی ہے، ذرائع کا کہنا ہے وزیر اعلیٰ پنجا ب نے لاہور میں گزشتہ چند روز کے دوران کورونا کی صورتحال اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کو باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان ہی کریں گے جس کے بعد لاک ڈاؤن کو اگلے دو ہفتوں کیلئے سخت کیا جائے گا یا صرف لاہور میں ان علاقوں میں جہاں کورونا کے پھیلاؤ زیادہ ہے کو ریڈ زون قرار دیکر سیل کر دیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اگلے 24گھنٹے انتہائی اہم ہیں اور ممکن ہے وزیراعظم عمران خان آج شام کو اس حوالے سے اعلی سطحی اجلاس میں لاہور میں کو رونا کی صور تحال کا جائزہ لیکر فیصلہ کر دیں۔ تاہم دو ہفتوں کیلئے سخت ترین لاک ڈاؤن کرنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دو ہفتوں کیلئے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو صرف نہایت ضروری میڈیسن اور گروسری کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی، جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دفعہ 144کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،جس میں بھاری جرمانے اور قید بھی ہوگی۔

لاک ڈاؤن

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے کورونا سے جاں بحق طبی عملے کیلئے ایک کروڑ تک مالی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا فرنٹ لائن ورکرز کو ٹیکس چھوٹ بھی دی جائیگی، ہیلتھ ورکرز کا تحفظ اور ان کی معاونت ترجیح ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہو، خصوصی پیکج کورونا کیخلاف نبردآزما ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے ہوگا، صوبائی وزراء صحت اور ماہرین سے بھی اس پیکج پر مشاور ت کی گئی ہے، ہمارے دین میں کہا جاتا ہے جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خصوصی پیکج پر اطلاق کی ذمہ دار ہونگی۔ظفر مرزا کا کہنا تھا مشکل حالات میں ذمہ داری ادا کرنیوالے ہیلتھ ورکرز ہمارے ہیرو ہیں، فرنٹ لائن ورکرز کیلئے ٹیکسز کی صورت میں کچھ سہولیات دیں گے، فرنٹ لائن ورکرز کو انکم ٹیکس میں چھوٹ کی سہولت دی جائے گی، ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہونیوالے ہیلتھ ورکرز کو شہدا پیکج ملے گا، بعض مریضوں کے لواحقین تسلی بخش علاج نہ ہونے پر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، مریضوں کے لواحقین ڈاکٹرز اور طبی عملے کو زدوکوب اور تشدد کرتے ہیں، طبی عملے کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔معاون خصوصی نے مزید کہا طبی عملے کے اہلخانہ کی ترجیحی بنیادوں پر نجی و سرکاری سطح پر علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت لے گی، ہیلتھ ورکرز کو ہیلپ لائن کے ذریعے سپورٹ دی جائے گی، دیگرممالک کے ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، ہیلتھ ورکرز کے ترجیحی بنیادوں پر ٹیسٹ کیے جائیں گے، ہیلتھ ورکرز کی فیملی کا علاج بھی حکومت کرے گی، سٹیٹ بینک نجی ہسپتالوں کو آسان شرائط پر قرض دے رہا ہے، قرض پرائیویٹ ہسپتالوں کو سٹاف کی تنخواہوں کیلئے دیئے جا رہے ہیں۔

مالی پیکج

اسلام آباد، لاہور(سٹاف رپورٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک میں کورونا سے مزید 86 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2496 ہوگئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 129196 تک پہنچ گئی۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 890 اور سندھ میں 793 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 642 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 80، اسلام آباد 65، گلگت بلتستان میں 16 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔صحت یاب مریضوں کی تعداد بھی 40,247 ہو گئی۔ جمعہ کے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 5691 کیسز اور 86 اموات سامنے آئیں جن میں پنجاب سے 1919 کیسز اور 49 اموات، سندھ 2428 کیسز 17 اموات، خیبر پختونخوا سے 628 کیسز اور 10 ہلاکتیں، بلوچستان سے 193 کیسز 5 اموات، اسلام آباد 463 کیسز 3 اموات، گلگت بلتستان سے 14 کیسز اور ایک ہلاکت اور آزاد کشمیر سے 46 کیسز اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔سندھ سے کورونا کے مزید 2428 کیسز اور 17 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کی تصدیق صوبائی ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کی۔مرتضیٰ وہاب کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 49256 اور اموت 793 ہوگئیں۔صوبائی ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1066 افراد صحتیاب ہوئے جس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 23113 ہوگئی۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1919 کیسز اور 49 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 47382 اور اموات 890 ہوگئیں۔اس کے علاوہ صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونیوالوں کی تعداد 9546 ہے۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا کے مزید 463 کیسز اور 3 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 6699 ہوگئی جبکہ 65 افراد انتقال بھی کر چکے ہیں۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 1164 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے کورونا کے مزید 46 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی۔پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 534 ہوگئی اور اموات کی تعداد 10 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 237افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔جمعے کو خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث مزید 10 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 642 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 628 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 16415 ہوگئی۔صوبے میں اب تک 4072 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں کورونا کے مزید 193 کیسز اور 5 اموات کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 7866 ہوگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 80 ہوگئی۔بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونیوالوں کی تعداد 2722 ہے۔گلگت بلتستان سے جمعے کو کورونا کے 14 نئے کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی جس کے بعد علاقے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1044 ہو گئی جبکہ گلگت میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہے۔ گلگت میں اب تک 676 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

کورونا اموات

نیویارک، نئی دہلی،لندن،برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عالمگیر نوول کورونا وائرس کی وباء کے باعث دنیا بھر میں مزید3ہزار700 سے زائداموات کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 4لاکھ 27ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ 60ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے جس سے مجموعی طور پر متاثرہ مریضوں کی تعداد76لاکھ 78ہزار سے زائد ہو گئی۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں نوول کروناوائرس سے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 600سے زائد اموات ہوئیں جن سے ملک بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1لاکھ 17ہزار774ہوگئی جبکہ 17ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی مریضوں کی تعداد21لاکھ 10ہزارتک جا پہنچی، یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سانئنس اینڈانجینئرنگ کے مطابق امریکہ ہلاکتوں کی بلند ترین تعداد کیساتھ ساتھ سب سے زیادہ 21لاکھ 6ہزار 488کیسز کیساتھ بھی سرفہرست ہے۔روس میں گزشتہ روز9 ہزار سے زائد نئے کیسز،201ا موا ت،بھارت میں 11ہزار سے زائد نئے کیسز اور 398اموات،برطانیہ میں 25سو نئے کیسز اور 235اموات،میکسیکو میں 6ہزار سے زائد نئے کیسز اور 605اموات،بنگلہ دیش میں 4ہزار سے زائد نئے کیسز اور 60اموات،افغانستان میں 800نئے کیسز اور 28اموات،عراق میں 15سو سے زائد نئے کیسز اور 55اموات،انڈونیشیا میں 15سو سے ز ا ئد نئے کیسز اور 60اموات ریکارڈ کی گئیں، فرانس، جرمنی، برازیل،سپین سمیت دیگر یورپی ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں نئے کسیز تو رپورٹ ہوئے مگر اموات نہ ہوئیں، ر پو ر ٹ کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد3 لاکھ2 ہزار 535 ہوگئی جس کے بعد بھارت، برطانیہ کو پیچھے چھوڑ گیا دنیا کا چوتھا بدترین متاثرہ ملک بن گیا۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ روز ملک میں 10 ہزار 956 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 8 ہزار 498 اموات ہوئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق اب تک نیویارک ریاست میں بیماری سے 30ہزار 580اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جو امریکہ بھر میں سب سے زیادہ ہلا کتیں ہیں،اس کے بعد نیو جرسی ریا ست اور میساچوسٹس میں بالترتیب 12ہزار443اور 7ہزار492اموات ہوچکیں۔ یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سانئنس اینڈانجینئرنگ کے مطابق اس بری صورتحال کے باعث امریکہ معیشت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے حقیقی معنوں میں اس عالمی وباء سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ملک میں تقریبا 20ہزار نوول کروناوائرس کے نئے کیسز مسلسل روزانہ رپورٹ ہورہے ہیں۔ادھرنیویارک ریا ست کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا کہ بیماری کی بلند شرح کے باوجود ریاست اپنے شہروں اور علاقوں کو اجازت دے رہی ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر ریاستی رہنما ئی کے مطابق عوامی تالاب اور کھیلوں کے میدان کھول سکتے ہیں۔کومو نے بتایا کہ مقامی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے اقدامات کی رہنمائی کیلئے روزانہ کی بنیاد پر نوول کروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی کھوج لگائیں، جہاں مثبت کیسز موجود ہیں تو اس سے ملحقہ علاقے میں موجود تالاب کو نہ کھولیں۔ریاست میں 5علاقے ایسے ہیں جو دوبارہ کھلنے کے تیسرے مرحلے میں داخل ہونے کیلئے تیار ہیں جس سے ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت اور ذاتی دیکھ بھال خدمات کی دوبارہ بحالی کی اجازت ہو گی۔

دنیا کورونا

مزید :

صفحہ اول -