کورونا مریضوں کا خون منجمد ہونے سے روکنے والی دو ا کا پہلا تجربہ کامیاب

کورونا مریضوں کا خون منجمد ہونے سے روکنے والی دو ا کا پہلا تجربہ کامیاب

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) آسٹریلیا کے طبی سائنسدانوں نے نوول کورونا وائرس کے مریضوں کو مرنے سے بچانے کیلئے ایک نئی دوا کا پہلا کا میاب تجربہ کرلیا۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ دوا بنیادی طور پر انجماد خون کور وکے گی جو ان مریضوں کے سانس لینے والی دشواری اور با لآخر ہارٹ سٹروک کے ذریعے جان لیوا بن جاتا ہے۔ ٹی وی چینل ”نیوز میکس“ کی نشریات میں بتایا گیا ہے کہ ایک دو ماہ میں اس دوا کا دوسرا اور آ خری تجربہ مکمل ہو جائیگا جس کے بعد یہ دنیا بھر میں ”کووڈ19-“ سے متاثرہ مریضوں کیلئے دستیاب ہوگی۔ طبی محققین نے نوٹ کیا کہ نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے خون میں لوتھڑے بن جاتے ہیں جو زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں سانس میں رکاوٹ اور بالآخر مریض کی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر شان جیکسن نے پتہ لگایا کہ کورونا کے چار میں سے تین مریض انجماد خون کا شکار ہوتے ہیں جس میں ا ضا فہ ہونے کے سبب ان کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے 72 افراد پر لوتھڑے ختم کرنے کیلئے اپنی دوا کا پہلا تجربہ کیا جو کامیاب رہا۔ انہوں نے بتایا کہ جب اس دوا کا استعمال شروع ہوگا تو مریضوں کو وینٹی لیٹر پر نہیں ڈالا جائیگا بلکہ انہیں ایک ”ٹشوبکس“ سے منسلک کیا جائیگا جس کے ذر یعے مریضوں کے خون میں لوتھڑے ختم کئے جائیں گے،جو ان کی سانس میں دشواری دور کردیں گے۔ اس وقت دنیا بھر میں نوول کورونا وائرس تباہی پھیلا رہا ہے مگر اس کے علاج کیلئے کوئی ویکسین موجود نہیں،جو جلد از جلد بھی رواں سال کے خاتمے سے پہلے تیار ہونے کی ا مید نہیں۔ اس دوران وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کیلئے مختلف ادویات کے تجربے جاری ہیں۔ صحت یاب ہونیوالے مریض کے پلازمہ کو نئے مریض کے جسم میں داخل کرکے اینٹی باڈیز کے ذریعے اس وائرس کا مقابلہ کرنے کا اس وقت سب سے موثر طریقہ ہے۔ اگرچہ کوئی مکمل منظور شدہ دوا علاج کیلئے موجود نہیں ہے تاہم ریمڈیسی ور کافی کاگر ثابت ہو رہی ہے جو اس وائرس کی دوسری صورتوں سارس، ایبولا اور مرس کیلئے بہت موثر تھی۔ ملیریا کیلئے استعمال ہونیوالی کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کیوٹن سے بھی کافی امید وابستہ ہوئی لیکن اس کے منفی اثرات کی وجہ سے اس کی اسے باقاعدہ سفارش نہیں ہوسکی۔ (Azithromycin) ایزتھرومائی سین نامی اینٹی بائیوٹیک نمونیا اور گلے کی انفیکشن کیلئے استعمال ہونیوالی دوا اس وائرس کیلئے بھی اثر دکھا ر ہی ہے۔ (Actemra)ایکٹمرا اور (Kaltera)کیلٹرا کے بھی جزوی مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ تاہم سماجی فاصلہ رکھ کر اور ماسک پہن کر آپ اس کو اپنے منہ، ناک اور آنکھوں کے ذریعے اپنے جسم میں داخلے سے روکنے میں کامیاب ہوجائیں تو بہتر ہے ورنہ بہت مشکل پیش آسکتی ہے۔

دواکامیاب تجربہ

مزید :

صفحہ اول -