ٹیکس فری بجٹ میں تاجروں کوعملًا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا،صدر تنظیم تاجران

ٹیکس فری بجٹ میں تاجروں کوعملًا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا،صدر تنظیم تاجران

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ ٹیکس فری بجٹ کے نام پر تاجر برادری کوعملًا کوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا،غیر حقیقت پسندانہ بجٹ میں صنعت و تجارت کی ترقی،زراعت میں بڑھوتوی کیلئے عملًا کچھ نہیں کیا گیا۔بجٹ پر اپنے ردعمل میں کاشف چوہدری نے کہا کہ بنکوں سے نقد رقوم نکلوانے پر ودھولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ تعمیراتی شعبے کی طرز پر سرمایہ کاری اور تمام کاروبار کیلئے اجازت دی جائے۔بجٹ میں سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے 9 فیصدپر لایا جائے۔آٹے،چینی و اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے ان پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔انکم ٹیکس و دیگر تمام ٹیکسز کی شرح کو کم ازکم پچاس فیصد کم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاٹیج انڈسٹری کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ اور خصوصی مراعات دی جائیں،جیولرز،موبائل فونز،آٹوز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔حکومت شرح سود کو مزید کم کر کے 4 فیصداور تاجروں کو بلاسود کاروبار کی ضمانت پر 5لاکھ تا 5کروڑ کے قرضے دیے جائیں۔ پٹرولیم مصنوعات و بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کیا جائے۔ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے زیرو ریٹڈ سیکٹر کو بحال کیا جائے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے قابل عمل فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اجرا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس آمدن کی حد چار لاکھ روپے سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے سالاناکی جائے۔ ڈسٹری بیوٹرز اورہول سیلرز کا ٹرن اوور ٹیکس0.25فیصد کیا جائے۔اِنکم ٹیکس رجسٹریشن کا آسان و سادہ فارم جاری کیا جائے۔

صدر تنظیم تاجران

مزید :

صفحہ اول -