پٹرولیم مصنوعات کی قلت بیڈ گورننس، وزیر پٹرولیم کو استعفی دیے دینا چاہئے تھا: چیف جسٹس لاہو ر ہائیکورٹ

پٹرولیم مصنوعات کی قلت بیڈ گورننس، وزیر پٹرولیم کو استعفی دیے دینا چاہئے ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خلاف درخواست پر سیکرٹری پٹرولیم،وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اورچیئرمین اوگراکو طلب کرلیا،فاضل جج نے شبیر حسین ایڈووکیٹ کی طر ف سے دائر اس درخواست کی سماعت کے دوران قراردیا کہ موجودہ صورتحال میں تو وزیر پٹرولیم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا،مدینہ کی ریاست میں دریائے فرات کے کنارے کتا بھی مر جائے تو وقت کا خلیفہ جوابدہ ہوتا ہے،عجب تماشہ ہے کہ جب تک عدالتیں مداخلت نہیں کرتیں لوگوں کے حقوق نہیں دیئے جاتے،پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث زراعت کا شعبہ بھی تباہ ہو جائے گا،اگر حکومت کوئی بنیادی سہولت فراہم نہ کرسکے تو کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ بنیادی سہولیات کا نہ ملنا حکومت کی بیڈ گورننس ہے،اتنے دنوں سے ملک میں پٹرول کی قلت ہے اور عوام چیخ و پکار کر رہے ہیں،10 دن بعد وزیراعظم نے تقریر میں کہا کہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں، لوگ پیٹرول کیلئے مارے مارے پھر رریے ہیں کیا یہ حکومت کی ناکامی کی انتہا نہیں؟پیٹرول کی قلت کے معاملے پر خاموشی سے کمیٹی بنادی گئی،کیا اس کا مقصد کچھ لوگوں کے مفادات کو تحفظ دیناتھا؟چیف جسٹس نے مذکورہ حکام کو طلب کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ تمام متعلقہ افسر پیش ہونے سے دو روز قبل تحریری جواب بھی عدالت میں داخل کروائیں،عدالت کو بتایا جائے کہ پٹرول کی قلت پر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟پٹرول کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کس کس قانون کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے؟جواب دیا جائے کہ پٹرول کی قلت کا معاملہ وزیر پیٹرولیم اور وزیر اعظم کے نوٹس میں کب لایا گیا؟عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا جائے کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قلت کاکیا نوٹس لیاہے اورحکومت کیا کر رہی ہے؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قلت دور کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ قیمتیں کم ہونے پر ڈیلرز نے رسد کم کر دی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر17جون کومذکورہ حکام کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

پٹرول قلت

مزید :

صفحہ آخر -