کورونا نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، وفاقی چیمبر

کورونا نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، وفاقی چیمبر

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) فیڈرشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹر ی کے صدر میاں انجم نثار نے کہاکہ کروناوائرس COVID-19 نے معیشت، کاروبار، صنعتوں اور چھو ٹے تا جروں کو بری طر ح متاثر کیا ہے وہ فیڈریشن ہاؤس کراچی منعقد زوم پر ویڈیو لنک کے ذریعے COVID-19 کی وجہ سے لا ک ڈاؤن کے بعد صورتحال اور پاکستان کی معیشت پر کرونا وائرس وبا ئی امراض کے تا ثرات پر سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینا ر میں آغا فخر حسین، ایڈ یشنل سیکر یٹر ی صنعت وتجارت حکومت سندھ، شیخ سلطان رحمان، نا ئب صدر ایف پی سی سی آئی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نما ئندوں، تاجروں، پرنسپال اور ڈین، ڈاؤ یو نیورسٹی آف ہیلتھ سا ئنسز، TDAP، پی ایچ ایم ایاور دیگر نما ئندوں نے شر کت کی۔ سمینیارمیں حاجی غلام علی، سابق صدر ایف پی سی سی آئی، قصر شیخ، نائب صدر ایف پی سی سی آئی، محمد علی میاں اور نا صر حیات مگو ں نے بھی سیمینار میں شر کت کی۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کی معیشت پرCOVID-19کے نتا ئج پر اپنے شدید تخفظا ت کا اظہار کیا۔ انہو ں نے کہاکہ پاکستان COVID-19سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں سے ایک ہے اور وبا ئی امراض کی وجہ سے پیدا ہو نے معا شی رکا وٹ پہلے سے مو جو د بحران کو بڑھا رہی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ کرونا وائرس وبا ئی مر ض پو ری دنیا میں خوفنا ک مر ض بن چکی ہے اور ہم COVID-19کے دوسری لہر سے گزر رہے ہیں جس نے معیشت، کاروبار، صنعتو ں اور چھوٹے تا جروں کو بری طرح متاثر کیاہے۔

لا ک ڈاؤن کے اقدام نے ملک میں بے روزگاری کی لہر دوڑا دی اور معا شرتی اور اقتصادی چیلنجزاور معا شی بد حالی پیدا کر رہی ہے اور بہت سے لو گو ں نے اپنی ملا زمتو ں سے ہاتھ دھو بیٹھے کیو نکہ متعد د کمپنیو ں، فیکٹر یو ں نے کروناوائرس وبا ئی امراض کی وجہ سے ملک میں اپنی پیداوار بند کر دی۔ انہو ں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جا نب سے کاروباری اداروں اور صنعتو ں کے لیے تجدید کردہ اسکیم کو راہا جو COVID-19کے پھیلا ؤ سے پیدا ہو نے والی معا شی چیلنجزکے پیش نظر مزدورں کے روزگار کی مدد کر ے گی۔ ہم نے کرونا وائرس وبا ئی امراض کی صورتحال میں ایف پی سی سی آئی کے تمام ملا زمین کو تنخواہیں فرا ہم کی ہیں یہا ں تک کے واجبات اور ما لی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ واضح ہے کہ COVID-19پاکستان کی بیمار معیشت کے لیے تبا ہ کن ثابت ہوا اور اس وبا ئی امراض کی وجہ سے ملک کی معا شی کا رکردگی رک گئی ہے کیونکہ سب سے خراب صورتحال یہ ہے کہ GDPمیں 1.5-0 فیصد اضا فے کا امکان ہے جبکہ با ضابطہ شعبے کے کارکنا ن کو بھی خطر ہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق غربت کی شر ح تقریباً 23.4فیصد سے بڑھ کر 59کے قریب ہو جا ئی گی COVID-19 کی مو جو دہ صورتحال کے با وجو د ٹڈیوں کی بھیڑنے ملک کے زراعت کے شعبے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ سیمینار کے انعقاد کے دوران، شیخ سلطان رحمان نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے COVID-19 کے با ر ے میں اپنے گہر ے خدشات ظاہر کیے۔ انہو ں نے کہاکہ اس تبا ہ کن اور مہلک بیماری نے پوری دنیا میں زندگی اور معاش کو خطر ے میں ڈال دیا ہے۔ انہو ں نے پاکستان میں کا روبار خصوصاً تعمیراتی صنعت اور دیگر کو سہو لیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طر ف سے فراہم کردہ ریلیف اور چھوٹ کی تعریف کی۔ انہو ں نے مزید کہاکہ کرونا وائرس کے معاملا ت بڑ ھ رہے ہیں کیونکہ لو گ ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے ہیں، حکومت کو نئی معا شی تر جیحات کو نا فذ کر کے زند گی کی ضروریات سے متعلق مصنوعات تیا ر کرنے والی کمپنیو ں کو انکم ٹیکس میں ریلیف اور صحت میں تخفظ فراہم کرنا اور بر آمد کنند گا ن کے لیے کچھ معا ونت کا اعلا ن کرنا ہے۔ اس سب کے ساتھ شہر یو ں کی بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود کو الگ رکھیں اور حکومت کو COVID-19 کی جنگ کے تحت منا سب طر یقے سے کچھ معا شی سر گر میوں کو آگے بڑھانے کے لیے آزادانہ مواقع فرا ہم کرنا چا ہیے۔ آغا فخر حسین، ایڈ یشنل سیکر یٹر ی حکومت سند ھ نے بتا یا کہ لو گ اور تا جر اپنے کا روباری احا طے میں معیاری اپریشنل طر یقہ کا (SOPs) پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ انہو ں نے مزید کہاکہ تا جر برادری COVID-19کے پھیلا ؤ پیدا کرنے اور SOPsکے نفاذ کی یقین دہا نی کرائے۔ انہو ں نے کہاکہ حکومت سند ھ کا روباری بر ادری کو ہر مر حلے میں سہو لت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن SOPs پر عمل کرنا سب کی ذمہ داری ہے تا کہ ہم وبا ئی صورتحال کی مشکل گھڑی پر قا بوپا سکیں۔

مزید :

کامرس -