وفاقی بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر اور مایوس کن ہے، انجینئر مقصود انور پرویز

  وفاقی بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر اور مایوس کن ہے، انجینئر مقصود انور پرویز

  

پشاور (سٹی رپورٹر)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ برائے سال 2020-21کو الفاظ کا ہیر پھیر اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے صنعت کاروں اور تاجروں کوبجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا جوکہ اس صوبہ کے ساتھ سراسر زیادتی و ناانصافی ہے۔بجٹ میں سرحد چیمبرتجاویز اور سفارشات کو یکسر نظر اندازکیاگیا ہے۔ حکومت بجٹ ی تجاویز پر نظرثانی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چھوٹے انڈسٹریز اور تاجروں کو ریلیف دے بصورت دیگر صوبہ کی بزنس کمیونٹی احتجاج پر مجبور ہوگی۔ان خیالات کا اظہارسرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز گذشتہ روز وفاقی بجٹ برائے سال 2020-21 کے پیش ہونے کے بعد چیمبر ہاس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سرحد چیمبر کے نائب صدرعبدالجلیل جان ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور سرحد چیمبر کے سابق صدر حاجی محمد افضل حاجی محمدآصف چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین آفتاب اقبال مجیب الرحمانا حسان اللہ نثاراللہ الطاف بیگ فضل واحد عابد اللہ یوسفزئی فیض رسول صدر گل ارشد صدیقی راشداقبال صدیقی سمیت صنعت کاروں اور تاجروں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے کہاکہ جی ڈی پی گروتھ منفی ہونا ملکی معیشت کے لئے بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2020-21 کے وفاقی بجٹ میں چار اہم ادارے جس میں پاکستان ریلویز پی آئی اے پاکستان اسٹیل ملز اور Ipps ہیں جو کہ ملکی خزانہ اور معیشت پر ایک سفید ہاتھی کی طرح مسلط ہیں کے بارے میں کوئی واضح اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایز آف ڈوئنگ بزنس میں 136 نمبر سے108 نمبر پر آیاہے لیکن ہمیں بتایا جائے ملک میں اب تک کتنی بیرونی سرمایہ کاری آئی ہے اس لئے ایز آف ڈوئنگ بزنس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ملک بھر میں لاک ڈان سے متاثرہ بزنس کمیونٹی اور انڈسٹریز کو یکساں طور پر مراعاتی پیکیج دے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں ہسپتال سہولیات کے فقدان کی وجہ صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے لیکن حکومت نے بجٹ میں صحت کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ فنڈز مختص نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شرح سود 8فیصد سے کم کرکے 6 فیصد پر لائے تاکہ وائرس سے متاثرہ کاروبار اور معیشت کو دوبارہ اپنے پاں پر کھڑا کیا جاسکے کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں موجودہ شرح سود کے تحت کاروبار کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی صورتحال میں سیلز ٹیکس کو 17فیصد برقرار رکھنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات کے تناظر میں کوئی بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس پر خصوصی طور پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہاکہ شناختی کارڈز کی شرح کو برقرار رکھتے ہوئے 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے تک لے جانے کی شرط کو مستردکرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ کی شرط کو آئندہ ایک سال تک موخر کیا جائے اور ختم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پوائنٹ آف سیل سسٹم میں تاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سپیشل اکنامک زون کے لئے بجلی کی ترسیل کے لئے وفاقی بجٹ میں 80ارب روپے مختص کرنے پر خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے فائلرز اور نان فائلرز کیلئے بنکوں سے ٹرانزکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس کو برقرار رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت کورونا لاک ڈان سے متاثرہ تاجروں کو ریلیف دینے کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس فوری طور پر ختم کرے۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلورنے اس موقع پر کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بجٹ سال 2020-21 میں ٹیکسوں کی شرح میں کمی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹ بل کم ہونے کی بنیادی وجہ باہر سے گاڑیوں کی درآمدات میں کمی اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج اتار چڑھا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ڈالرز کے ریٹ کو فیکس کرنے کے لئے اقدامات کرے تاکہ ملک بھر میں انڈسٹریز اور کاروبار کو چلنے دیا جائے اور بند ہونے سے بچایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ شناختی کارڈ کی شرح کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بڑے اوہر چھوٹے تاجروں کے درمیان Tier One کی شرح بھی کم کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے لئے شرح سود میں مزید کمی لائی جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ مالیاتی بجٹ میں صنعتی ترقی کے لئے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جائیں۔ سرحد چیمبر کے سابق صدر حاجی محمد افضل نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط اور بنکوں سے ٹرانزکشن پر ودہولڈنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ اس سے کاروبار اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر 70 ارب روپے کا ریلیف نہیں دیا بلکہ قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق کم نہ کرکے عوام کے حق پر ڈھاکہ ڈالا ہے جوکہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہورں نے کہاکہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے بزنس کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ لاک ڈان کو مکمل ختم کیا جائے جس سے کورونا کے پھیلا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ انتظامی دہشت گردی کا بھی فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہئے بصورت دیگر دمادم مست قلندر ہوگا۔ سرحد چیمبر کے نائب صدر عبدالجلیل نے وفاقی بجٹ کو صرف الفاظ کا ہیر پھیر اور عوام اور بزنس دشمن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے آئندہ چھ ماہ کے دوران منی بجٹ پیش کرنے کی بھی نوید سنادی ہے۔ انہورں نے کہاکہ سرحد چیمبر کے بجٹ تجاویز اور سفارشات کو یکسر نظر انداز کرنا قابل مذمت ہے آٓ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -