650ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش، 25ڈویژنز کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کر دی گئی، 14میں اضافہ

650ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش، 25ڈویژنز کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کر ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی) وفاقی حکومت نے مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں 650ارب مالیت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)پیش کر دیا۔وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ سال کی نسبت 25ڈویژنز کے ترقیاتی بجٹ میں کمی جبکہ14ڈویژنز کاترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کی نسبت بڑھا یا گیا ہے۔ایوی ایشن ڈویژن‘ کابینہ ڈویژن‘ کامرس‘ کمیونکیشن ڈویژن‘ ڈیفنس ڈویژن‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ ہاؤسنگ اینڈ ورکس‘ انسانی حقوق‘ بین الصوبائی رابطہ‘ داخلہ‘ کشمیر افیئرز اینڈ گلگت بلتستان ڈویژن‘ قومی صحت‘ پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ریلویز ڈویژن کے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ کیا گیا ہے جبکہ بور ڈآف انوسٹمنٹ‘ موسمیاتی تبدیلی‘ دفاعی پیداوار‘ اسٹبلشمنٹ‘ فنانس‘ تعلیم‘ خارجہ‘ صنعت و پیداوار‘ اطلاعات و نشریات‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ قانون و انصاف‘ میری ٹائم افیئرز‘ انسداد منشیات‘ نیشنل فوڈ سیکیورٹی‘ مذہبی امور‘ ریونیو‘ سپارکو‘نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت 25 ڈویژن کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ سال کی نسبت کمی کی گئی ہے۔ مالی سال 2020-21ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی دستاویزات کے مطابق ایوی ایشن ڈویژن کیلئے مالی سال 2019-20میں 1266 عشاریہ 505ملین روپے رکھے گئے تھے، جنہیں مالی سال 2020-21میں بڑھا کر 1320 عشاریہ 879 ملین روپے کر دیا گیا ہے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے لئے گزشتہ مالی سال میں 100ملین روپے رکھے گئے تھے جبکہ آئندہ مالی سال کے لئے 80ملین روپے رکھے گئے ہیں،کابینہ ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 39986 عشاریہ 535 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 47802 عشاریہ 175 روپے رکھے گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 7579 عشاریہ 200 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 5000ملین روپے کر دیا گیا ہے، کامرس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 100ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 103 عشاریہ 500 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ کمیونیکیشن ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 248 عشاریہ 308 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 254 عشاریہ 753 ملین روپے کر دیا گیا ہے، ڈیفنس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 456ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لیئے660 عشاریہ 116ملین روپے کردیا گیا ہے، دفاعی پیداوار ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال کے لئے 1700ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کرکے آئندہ مالی سال کے لیئے 1579 عشاریہ 140 ملین روپے کر دیا گیا ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 333 عشاریہ 256ملین روپے رکھے گئے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے282 عشاریہ 914ملین روپے کردیا گیا ہے۔ فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 4741 عشاریہ 138 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 4526 عشاریہ 094 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ فنانس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 84821 عشاریہ 749 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لیئے66666 عشاریہ 571 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ فارن افیئرز ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 29 عشاریہ 774 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 10 عشاریہ 343 ملین روپے کردیا گیا ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 29196 عشاریہ 882ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 29470ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 3435 عشاریہ 77ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 8736 عشاریہ 903ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 198 عشاریہ 524 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی کے لئے 256ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 2343 عشاریہ 293 ملین روپے رکھے گئے تھے، جنہیں کم کر آئندہ مالی سال کیلئے800ملین روپے کر دیا گیا ہے۔انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ ڈویژن کیلئے گزشتہ مالی سال میں 440 عشاریہ 510 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر آئندہ مالی سال کے لیئے 360 عشاریہ 918 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام ڈویژن کے لئے گزشہ مالی سال میں 7341 عشاریہ 617 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 6672 عشاریہ 984 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ انٹر پرونشل کوآرڈینیشن ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی میں 389 عشاریہ 958ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 929 عشاریہ 492 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ داخلہ ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 9847 عشاریہ 769 ملین روپے رکھے گئے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 14758 عشاریہ 436 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ کشمیر افیئرز اینڈ گلگت بلتستان ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 44849عشاریہ 400 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 52424 عشاریہ 602ملین کر دیا گیا ہے۔ لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 1340 عشاریہ 225 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 991 عشاریہ 424ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ میری ٹائم افیئرز ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 3600 عشاریہ 243 ملین روپے رکھے گئے تھے،جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 2683 عشاریہ 314ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 135عشاریہ 240 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 53عشاریہ 897 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 12047 عشاریہ 516 ملین روپے رکھے گئے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 12000ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ قومی صحت ڈویژن کے لئے گزشتہ سال میں 13376 عشاریہ 558 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 14508 عشاریہ 180 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ کلچر ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 203 عشاریہ 632 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 194 عشاریہ 740 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 24257 عشاریہ 256 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 23297 عشاریہ 437 ملین روپے کر دیا گیاہے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے گزشتہ مالی سال میں 301 عشاریہ 470 ملین روپے رکھے گئے تھے، جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 350ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 581 عشاریہ 812 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 1786 عشاریہ 160 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ منصوبہ بندی و ترقی ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 6713 عشاریہ 517 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 3545 عشاریہ 103 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ پاورٹی ایلیوی ایشن ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 200ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 135ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ ریلویزڈویژن کیلئے گزشتہ مالی سال میں 16000ملین روپے رکھے گئے تھے، جنہیں بڑھا کر آئندہ مالی سال کے لئے 24000ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ مذہبی امور ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 1000ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 53 عشاریہ 950 ملین کر دیا گیا ہے۔ ریو نیوڈویژن کیلئے گزشتہ مالی سال میں 1918 عشاریہ 238 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 1417 عشاریہ 68 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 7457 عشاریہ 361 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 4458 عشاریہ 70 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ سپارکو کے لئے گزشتہ مالی سال میں 6033 عشاریہ 245ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کر کے آئندہ مالی سال کے لئے 4975ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ واٹر ریسورسز ڈویژن کے لئے گزشتہ مالی سال میں 85727 عشاریہ 359 ملین روپے رکھے گئے تھے جنہیں کم کرکے آئندہ مالی سال کیلئے 81250ملین کر دیا گیا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے گزشتہ مالی سال میں 202 عشاریہ 828ملین روپے رکھے گئے تھے جبکہ آئندہ مالی سال کے لئے کوئی پیسہ نہیں رکھا گیا ہے۔

ترقیاتی بجٹ

مزید :

صفحہ اول -