مہنگائی اور بیروزگاری بڑھے گی، پارلیمنٹ میں بھر پور ردعمل دینگے، اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیدیا

مہنگائی اور بیروزگاری بڑھے گی، پارلیمنٹ میں بھر پور ردعمل دینگے، اپوزیشن نے ...

  

لاہور /اسلام آباد/پشاور(جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رک جائیں گی۔ یہ بجٹ نہیں بلکہ تباہی کا نسخہ ہے۔ میرے خدشات سچ ثابت ہوئے، افسوس حکومتی نااہلی کی سزا قوم اور ملک کو مل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے زیادہ ترقی اور کم مہنگائی کا فارمولا اپنایا جسے موجودہ حکومت نے الٹ کر دیا۔ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کا تاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ 68 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی منفی میں ہو چکی ہے۔ یہ ہے موجودہ حکومت کی کارکردگی؟۔مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں خواجہ آصف، رانا ثنااللہ، مرتضی جاوید عباسی، شیزہ فاطمہ خواجہ نے مشتر کہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کا سارا ملبہ کورونا پر ڈالا گیا جبکہ ان کی معاشی نااہلی ہے،ان کی مالی سال کے پہلے تین ماہ کی کارکردگی دیکھ لیں کورونا بعد میں آیا یہ پہلے ہی ناکام ہیں، ہم پارلیمنٹ میں بجٹ پر بھرپور ردعمل دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمارپر اعتبار نہیں کیونکہ ان کی جی ڈی پی گروتھ 1.9فیصد نکلی۔انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ لوگ کورونا آنے سے پہلے ہی سطح غربت سے نیچے جاچکے تھے اب مزید لوگ غربت کا شکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا جسے باہر بھگادیا ہے، سرکاری ملازمین سے آئی ایم ایف کے کہنے پر فراڈ کیا ہے۔ملک کے عوم کا مستقبل آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں دے دیا ہے،ہم آئی ایم ایف سے باہر آئے تھے انہوں نے دوبارہ پھنسادیا۔انہوں نے کہا کہ پٹرول کا فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو دیکھتے ہوئے کوئی توقع نہیں تھی کہ یہ ریلیف بجٹ دینگے،اس حکومت کی گزشتہ سال کی بجٹ کارکردگی ہمارے سامنے ہے،توقع تھی کہ مہنگائی کی بڑھتی شرح کے باعث سرکاری ملازمین کا خیال رکھا جائے گا،حکومت نے نچلے طبقہ کے حوالہ سے بھی انتہائی سنگدلی کا مظاہر کیا، موجودہ بجٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی قوت خرید ختم کردی گئی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماء سید نوید قمر نے کہا کہ بجٹ کو دیکھتے ہوئے واضح کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔صنعتوں کو ریلیف تو ایف بی آر کے ذریعہ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن حکومت نے صوبوں کے ساتھ ملکر عوامی ریلیف کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے نئے مالی سال کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا ٹیکس نہ لگانے کے دعویداروں نے پانچ ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگادئیے۔ اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ریونیو ہدف پورا نہ کیا جاسکا جس کا بوجھ عوام پر ہی ڈالا گیا۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے خیبرپختونخوا کو بجلی کا خالص منافع نہیں ملا اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کو اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈکا فوری اجراء کیا جائے تاکہ صوبوں کو ان کا حصہ مل سکے اور اس ضمن میں صوبوں کے جو خدشات ہیں وہ دور ہوسکیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بجٹ غیر حقیقی اہداف پر مشتمل، قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بننے والے بجٹ میں عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وبا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی ہے حالانکہ کورونا سے پہلے بھی ملک کی معاشی حالت خراب تھی،بجٹ میں کسانوں، مزدوروں اورمہنگائی اور بیر وزگاری کے مارے ہوئے عام آدمی کیلئے کچھ نہیں۔قومی اسمبلی میں جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد محمود نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ پاکستان کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر پاک فوج کے بجٹ کو منجمد کر دیا جبکہ بجٹ میں نوجوانوں کو روزگار اور ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ اجلاس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نا اہل ہے، حکمرانوں کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔

اپوزیشن/ردعمل

مزید :

صفحہ اول -