بزنس کمیونٹی اور ماہر معیشت نے 2020.21کے وفاقی بجٹ کو عوامی امنگوں کے بر خلاف بجٹ قرار دیدیا

بزنس کمیونٹی اور ماہر معیشت نے 2020.21کے وفاقی بجٹ کو عوامی امنگوں کے بر خلاف ...

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)بزنس کمیونٹی اور ماہر معیشت نے 2020-21کے وفاقی بجٹ کوعوامی امنگوں کے برخلاف بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہیں سے بھی بزنس فرینڈلی بجٹ دکھائی نہیں دیتا۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے بجٹ کو بزنس فرینڈلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی نیا ٹیکس ہی نہیں لگا تو پھر یہ بجٹ بزنس فرینڈلی ہی ہے تاہم حکومت کو ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرنا چاہیئے تھا،حکومت نے نئے مالی سال کیلئے 4500ریونیو ٹارگٹ پورا کرنا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں ہے میرے خیال میں یہ ہدف4ہزار ارب سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے ورنہ حکومت ہمارے انکم ٹیکس ریفنڈز روک لے گی،ریفنڈز کی ادائیگی کیلئے پہلے بھی براہ راست ادائیگی کا نظام لایا گیا تھا مگر پھر بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز نہیں دیئے گئے،میرے ادارے کے40کروڑ روپے کے ریفنڈز 11سال سے حکومت ادا نہیں کرسکی ہے حالانکہ وزیراعظم نے خود یہ اعلان کیا تھا کہ ریفنڈز فوری دیئے جائیں جب تک ریفنڈز نہیں ملیں گے ایکسپورٹ نہیں بڑھ سکتی اس لئے حکومت ایک ہفتے میں ایکسپورٹرز کے ریفنڈز آٹومیٹک سسٹم کے ذریعہ ادا کردے،سرمایہ رک جانے سے نہ صنعتیں چلیں گی اور نہ ہی ایکسپورٹ ہوپائے گی۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے کہا کہ یہ ایک روٹین کا بجٹ تھاحالانکہ آئی ایم ایف اور جی 20نے ہماری حکوت کو ریلیف دیا ہے جس کا فائدہ انہوں نے عوام تک نہیں پہنچایا اور باقی اداروں سے بھی یہ مؤخر کراسکتے تھے،انڈسٹری اور بزنس کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے تاہم خدا کرے کچھ اس بجٹ سے بہتری آئے لیکن اس بجٹ کے آنے کے بعد بھی اگر پانچ یا چھ ماہ میں کورونا ختم نہ ہوا تو پھر بہت بڑے مسئلے پیدا ہونگے۔سراج قاسم تیلی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ کورونا کی وجہ سے حالات خراب ہیں تو یہ غلط ہے،حالات تو اب اچھے ہوگئے ہیں،دنیا کھل گئی ہے،ایکسپورٹ اور امپورٹ شروع ہوچکی ہے،اب جو لوگ مررہے ہیں وہ کورونا کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی وجہ سے مررہے ہیں،یہ سمجھ رہے ہیں کہ کورونا دو ماہ میں چلا جائے گا جبکہ میں کہتا ہوں کہ کورونا ہے ہی نہیں کیونکہ اگر کورونا ہوتا تو ایسا بجٹ ہی نہ آتا،کس کو ریلیف دیا جارہا ہے ہم دو ماہ بعد حکومت سے پوچھیں گے کہ کس کو ریلیف دیا۔صدر کراچی چیمبر آف کا مرس آغاشہاب احمدخان نے کہا کہ بجٹ میں جی ڈی پی،زرعات،مینوفیکچرنگ کے جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں انکاحاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے،کسی بھی ملک کیلئے مینوفیکچرنگ لازم وملزوم ہے جو ایمپلائمنٹ کا بڑا ذریعہ ہے لیکن اس شعبے کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے،انڈسٹری کیلئے یہ مایوس ترین بجٹ ہے۔ چیئرمین عارف حبیب گروپ،سابق چیئرمین اسٹاک ایکس چینج عارف حبیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے کہا تھا کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہو گا تویہ ٹیکس فری بجٹ نظر آرہا ہے لیکن اس بجٹ میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ اسے بزنس فرینڈلی بجٹ قرار دیا جاسکے،ایف بی آر کی ریونیووصولی کا جو ہدف رکھا ہے اگر مزید لاک ڈاؤن نہ ہوااورکورونا وائرس سے مزید مشکلات کا سامنا نہ رہا توتجارتی سرگرمیاں بڑھا کر اسے حاصل کرلیا جائے گالیکن حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کیپٹل مارکیٹ کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا ہے تاہم تعمیراتی انڈسٹری کے لئے جو مزید مراعات دی گئی ہیں۔سابق صدر کے سی سی آئی زبیرموتی والا نے کہا کہ بجٹ مثبت کے مقابلے میں منفی زیادہ ہے،حکومت نے یہ خود کہہ دیا کہ ایکسپورٹ سیکٹر سے17فیصد لے کر واپس کرنا ہے لیکن وہ حکومت نہیں دے گی۔۔ماہرمعیشت اشفاق تولہنے کہا کہ کوئی اہداف حاصل ہوتے دکھائی نہیں دے رہے،جس طرح تعمیرات کے شعبے کو پیکج دیا تو انڈسٹری کو بھی پیکج دیتے کیونکہ انڈسٹری چلے گی تو حکومت کو ریونیو ملے گا۔ٹیکس امور کے ماہرعبدالقادرمیمن موجودہ حالات میں اگر کوئی اور بھی بجٹ بنائے تو تقریباً ایسا ہی بجٹ ہوگا،4963ارب کا بجٹ تقریباً25فیصد زیادہ ہے اس حالات میں یہ حصول حکومت کیلئے مشکل دکھائی دیتا ہے،مجموعی طور پر بجٹ میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں،ودہولڈنگ کئی شعبوں پر سے ختم کیا گیا ہے اسی طرح پراپرٹی انکم کو ریشنلائز کرنے کی کوشش کی ہے،اے ڈی آر سی کی فیڈریزیشن اور ٹیکس بار کی تجویز کومان لیا گیا ہے تاہم جب بجٹ سامنے آئے گا تو اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ ماہرمعیشت ظفرموتی نے کہا کہ یہ ایک ملا جلا بجٹ ہے،سوال یہ ہے کہ کونسا ایریا حکومت کے پاس ایساہے کہ وہ اس میں 27فیصد گروتھ لائے گی،ٹیکسٹائل سیکٹربیٹھ گیا ہے،شوگر انڈسٹری پر سیاست کا غلبہ ہے،کوئی ایسی ٹیکنالوجی نہیں کہ پاکستان میں گروتھ ہو۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئرنائب صدر خالدتواب نے کہا کہ ایکسپورٹ سیکٹڑ بھی مشکلات سے دوچار ہے،آرڈرز کینسل ہوچکے ہیں،آنے والا وقت بھی اچھا دکھائی نہیں دیتا،ایکسپورٹ ان حالات میں نہیں بڑھ سکتی،ترسیلات میں مزید کمی ہوگی کیونکہ باہر ممالک میں پاکستانی ورکرز ملازمتوں سے فارغ ہورہے ہیں تو ترسیلات کیسے بڑھیں گی،ملتان اور دیگر علاقوں میں بہترین کاٹن پیدا ہوتی تھی وہاں شوگر پیدا کی گئی جس میں پانی بہت زیادہ استعمال ہوا لیکن شوگر مافیا نے جو کیا وہ قوم کے سامنے ہے،حکومت کوآئل قیمتوں سے حکومت کو فائدہ اٹھا نا چاہیئے کیونکہ اگر انٹرنیشنل مارکیٹ میں آئل کی قیمتیں بڑھ گئیں تو پھر ملک مشکل میں ہوگا۔پی ایف وی اے کے سرپرست اعلیٰ وحیداحمدکا بجٹ پر کہنا تھا کہ یہ بجٹ پاکستان کے موجودہ حالات میں ملکی تاریخ کا سب سے چیلنجنگ بجٹ ہے،حکومت نے زرعی شعبے کیلئے50ارب روپے رکھے ہیں ہم اسے ویلکم کرتے ہیں،یہ رقم ریسرچ وڈیولپمنٹ پر لگنی چاہیئے،میرے خیال میں یہ مشکل حالات میں ایک اچھا بجٹ ہے۔صدر اسمال ٹریڈرز آرگنازیشن محمود حامد نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2021. 2020 مایوس کن ہے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں متاثرہ لاکھوں چھوٹے تاجروں کے لئے کسی ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا ، کرونا کی وجہ سے تباہ حال کاٹیج انڈسٹری کو بجٹ میں میں مکمل نظر انداز کرکے حکومت نے تاجر دشمنی کا ثبوت دیا ہے،عوام کو لوٹنے والے ادارے پر حکومتی عنایات بند کی جائیں،بجٹ میں میں لاک ڈاون سے متاثرہ تاجروں کو سہارا دینے کے لئے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے،70 فیصد ٹیکس دینے والے کراچی کی ترقی کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -