خلائی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ چین کے نام

خلائی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ چین کے نام
خلائی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ چین کے نام

  

چین دنیا کا پہلا اور اب تک کا واحد ملک ہے جو چاند کے دنوں حصوں پر اتر کر ایک تاریخ رقم کرچکا ہے۔ چاند کے تاریک حصے پر اترنے والے چینی مشن کا نام چھانگ عہ فور ہے۔ اس مشن سے وابستہ سائنسدانوں کو دنیا کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نواز گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ یہ ایوارڈ چینی سائنسدانوں کو مل رہا ہے۔ خلا بازی کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے یہ اعلیٰ ترین ایوارڈ"ورلڈ اسپیس ایوارڈ کہلاتا ہے۔

گیارہ جون کو چین کے قومی خلائی تحقیقی ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خلا بازی کی عالمی تنظیم نے چین کے چھانگ عہ  پروگراموں کے چیف ڈیزائنر اور ماہر تعلیم ،وو وے رن، چھانگ عہ فور پروگراموں کے ڈپٹی چیف ڈیزائنر اور چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ڈپٹی ڈائریکٹر یو دنگ یون، چھانگ عہ فور مشن کے چیف ڈیزائنر اور چائنا اکیڈمی آف اسپیس ٹیکنالوجی کے ایک اعلیٰ محقق سون زی چو کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ ادارہ برائے خلائی تحقیق کے مطابق ، عالمی خلائی ایوارڈ خلائی سائنس ، خلائی ٹیکنالوجی ، خلائی طب ، خلائی قانون یا خلائی انتظام یا خلابازی کی دنیا کی ترقی میں غیر معمولی اثرات کی حامل تحقیقات میں نمایاں خدمات فراہم کرنے  دیا جاتا ہے، حالیہ ایوارڈ  چینی سائنسدانوں کودیا گیا ہے۔ فیڈریشن نے وضاحت کی کہ یہ ایوارڈ ترجیحاً کسی ایک فرد کو دیا جاتا ہے لیکن اگر کسی موقع پر مشترکہ کوششیں زیادہ ہوں تو دو یا زیادہ لوگوں کو بھی یہ ایوارڈ دیا جاسکتا ہے۔

چین کاخلائی تحقیقاتی مشن " چھانگ عہ فور  " آٹھ دسمبر 2018 کی صبح دو بج کر تئیس منٹ پر چین کے جنوب مشرقی صوبے سیچوان سے روانہ ہوا۔ اس مشن کا ابتدائی مقصد چاند تاریک حصوں کا معائنہ کرنا تھا ۔ یہ چاند پر روانہ کی گئی اب تک کی  مہمات میں سے منفرد اور الگ مہم تھی۔ چاند اور زمین ایک ہی رخ میں اپنے اپنے مدار میں ایک ساتھ گردش کرتے ہیں جس کی وجہ سے چاند کا ایک خاص حصہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتا ہے اور آج تک انسان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ یہ مشن اس حوالے سے بھی منفرد  اہمیت کا حامل تھا  کہ پہلی بار کسی  تحقیقاتی مشن چاند نے اس حصے پر باقائدہ لینڈنگ کی اور  وہاں سے نمونے اکھٹے کئے۔

اس سے قبل سن 1959 میں روس اور سن 1968 میں امریکا چاند کے اس حصے کی تصویر کشی کی کوشش کرچکے ہیں۔امریکا، روس اور چین کے خلائی مشن چاند پر اپنے قدم رکھ چکے ہیں تاہم چاند کا جو حصہ زمین سے ہمیں نظر نہیں آتا اور تاریک رہتا ہے اس پر آج تک کوئی خلائی مشن نہیں پہنچ سکا لیکن چین کے مشن  چھانگ عہ فور کے ذریعے یہاں تک رسائی ممکن  ہوئی۔

چین نے اس مشن کو مارچ تھری بی راکٹ کے ذریعے روانہ کیا ۔  چین کےاس مشن 27 نے  روز تک سفر  کرنےکے بعد سورج کے دونوں جانب سے بھی معلومات زمین تک پہنچا ئیں۔ماہرین نے اس  مشن  کو ریڈیو اسٹرانومیکل مطالعے کے لیے بھی کارآمد قرار دیا۔کیونکہ چاند کا یہ رخ ہمیشہ زمین سے دور رہا ہے اور  انسانی مداخلت سے بھی آزاد رہا ہے، اس انسانی مداخلت  میں ریڈیائی لہریں اور ارتعاش وغیرہ شامل ہیں۔

چاند کے تاریک حصوں کا معائنہ کرنے کے لئے چین کی جانب سے بھیجا جانے والا مشن چھانگ عہ4 چاند کی سطح پر لینڈ کر نے کے بعد  چاند کے اس حصے پر پہنچے والا یہ دنیا کا پہلا تحقیقی مشن  بنا۔  اس مشن کے ساتھ موجود چاند گاڑی یو تو- 2  نے چاند کے قطبین کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ چاند کی سطح پر  448 میٹر کا سفر بھی طے کیا۔

چھانگ عہ  فورمشن کے سائنسی کاموں میں کم تعدد والے ریڈیو فلکیاتی مشاہدے اور لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد کے خطوں اور سطح کے نقشوں کا سروے کرنا شامل ہے۔ چونکہ چھانگ فور سے پہلے چاند کے اس حصے پر کوئی بھی مشن نہیں اتر سکا ، لہذا مشن کے دوران حاصل کی جانے والی تمام سائنسی معلومات دنیا کے لئے نئی ہیں۔

چین کا چاند کے جانب بھیجا جانے والا آئندہ مشن" چھانگ عہ فائیو" ہوگا۔ اس مشن کا وزن تقریباً آٹھ اعشاریہ دو میٹرک ٹن ہوگا اور یہ کسی بھی  ملک کی جانب چاند کی جانب روانہ کئے جانے والا سب سے وزنی مشن ہوگا۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -