پی ایس ایل فرنچائزز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، پی سی بی کیخلاف اعلان جنگ کر دیا

پی ایس ایل فرنچائزز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، پی سی بی کیخلاف اعلان جنگ ...
پی ایس ایل فرنچائزز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، پی سی بی کیخلاف اعلان جنگ کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلسل مالی نقصان کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے جنہوں نے مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کیخلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو خط لکھ کرمسائل حل کرنے کا کہا ہے۔

تفصیلات کے پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کو 5 برس ہو چکے لیکن ظاہری کامیابی کے باوجود انتظامی طور پر ایونٹ مسائل کا شکار ہے۔ خاص طور پر نئی پی سی بی انتظامیہ اسے سنبھالنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، ٹیم مالکان مسلسل شکایات کرتے رہے مگر حکام انہیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتے رہے،تقریباً15 ملین ڈالرز سالانہ بورڈ کو دینے والے ٹیم اونرز اس صورتحال سے سخت نالاں ہیں، ماضی کے برخلاف پہلی بار وہ کسی معاملے پر یکجا ہوئے اور پی سی بی کے سی ای او وسیم خان کو مشترکہ خط لکھ کر مطالبات کی فہرست سامنے رکھ دی، ذرائع کے مطابق فیس کیلئے ڈالر کا ریٹ مقررکرنے کی خاطر پی سی بی نے آڈٹ، ٹیکس و ایڈوائزری خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کی خدمات حاصل کر لی تھیں جس نے کم اور زیادہ فیس اور سینٹرل پول سے یکساں منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے ملتان کیلئے تقریباً51اور کوئٹہ کیلئے تقریباً120روپے فی ڈالر کا ریٹ طے کیا، دیگر ٹیموں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مگر پی سی بی نے یکطرفہ طور پر یہ فیصلہ مسترد کر دیا، فرنچائزز سے پوچھے بغیر خود یہ کہہ دیا کہ کمپنی کی تجاویز درست نہیں ہیں،بورڈ نے ٹائٹل سپانسر اور براڈ کاسٹر کیلئے ڈالر کا ایک ریٹ طے کیا ہوا ہے، اس کے بعد بعض ٹیموں کو واجبات کی ادائیگی کیلئے الگ الگ نوٹس جاری کر دئیے گئے۔

نجی خبر رساں ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ایس ایل 5 کے سینٹرل انکم پول سے ابتدائی شیئر مئی میں واجب الادا تھا مگر اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جواز یہ دیا گیا کہ ابھی ایونٹ کے چند میچز باقی ہیں ان کے بعد حسابات کو حتمی شکل دی جائے گی، دلچسپ بات یہ ہے کہ فرنچائزز کو جولائی یا اگست میں اگلے ایڈیشن کی بینک گارنٹی کا یاد دلانا ابھی سے شروع کر دیاگیا ہے، ٹیم اونرز کو اعتراض ہے کہ مارکیٹنگ، ٹکٹنگ ودیگر معاملات کی حکمت عملی پر ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوتی، افتتاحی تقریب اور دیگر اہم معاملات میں بھی رائے نہیں لی جاتی، فرنچائزز کے پاس 10 سال کے مالکانہ حقوق ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ اسے بڑھا کر 30 یا اور زیادہ کر دیا جائے کیونکہ انہوں نے اپنی ٹیم کو ایک برانڈ بنا دیا ہے، گورننگ کونسل کی آخری میٹنگ ہوئے بھی کئی ماہ بیت چکے اس لئے فوری طور پر میٹنگ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ فرنچائززکا کہنا ہے کہ فیس کیلئے بینک گارنٹی اس وقت لی جاتی تھی جب اعتماد کی فضا کا فقدان تھا، اب تو 5 سال ہو گئے لہٰذا یہ سلسلہ ختم کر کے ایونٹ سے قبل براہ راست فیس لی جائے،یاد رہے کہ گذشتہ برس بورڈ نے بینک گارنٹی نہیں لی تھی مگر اگلے سال کیلئے پھر یہ شرط رکھ دی، سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور فرنچائزز نے اس وعدے کو بھی پورا کرنے کا کہا ہے۔

حال ہی میں ایک نیا15 فیصد ٹیکس بھی عائد کیا گیا، اسے بھی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا گیا۔ٹیم مالکان نے ان مسائل کو لیگ کے مستقبل کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے،موجودہ مالی ماڈل کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے 5 سال میں کسی ٹیم کو کوئی مفافع نہیں ہوا،ذرائع کے مطابق بورڈ نے پانچویں ایڈیشن کے واجبات کی ادائیگی کیلئے بعض ٹیموں کو خطوط ارسال کر دیے لیکن سینٹرل پول سے شیئر دینے کی بات ایونٹ نامکمل رہنے کا جواز دے کر ٹال دی ہے۔

مزید :

کھیل -