"میں واپس آکر دکان کھولوں گا" بلوچستان سے 1947 میں انڈیا جانے والے ہندو کی دکان  آج تک کسی نے نہ کھولی، 73 سال سے دکاندار کے لوٹنے کا انتظار جاری

"میں واپس آکر دکان کھولوں گا" بلوچستان سے 1947 میں انڈیا جانے والے ہندو کی دکان ...

  

لورا لائی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے لورا لائی میں ایک ہندو کی دکان تقسیم کے وقت سے بند ہے ، 1947 میں تقسیم  کے وقت ہندو نے دکان کے مالک سے کہا تھا کہ وہ واپس آکر دکان کھولے گا تب سے آج تک یہ دکان اس ہندو کا انتظار کر رہی ہے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے اس عہد وفا کی دلچسپ داستان بیان کی ہے۔ صارف نے بتایا کہ یہ دکان  لورا لائی کے علاقے میختر میں موجود ہے۔ اس دکان کو ایک ہندو نے مسلمان  پشتون شہری سے کرائے پر لیا تھا۔ 1947 میں تقسیم ہند ہوئی تو ہندو اپنے گاؤں والے سے مل کر بہت رویا، اس نے دکان کے مالک سے کہا کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور خود ہی اپنی دکان کھولے گا۔ دکان کے مالک نے 1947 میں اپنے ہندو کرائے دار سے وعدہ کیا جو آج تک نبھایا جارہا ہے۔

تقریباً 73 سال گزرنے کے باوجود اس دکان پر آج بھی ہندو  کاکڑ کا تالا لگا ہوا، دکان کا مالک  جب فوت ہوا تو اس نے اپنے بچوں سے وعدہ لیا کہ وہ اس دکان کو کبھی نہیں کھولیں گے بلکہ اسے ہندو خود ہی کھولے گا۔ دکان مالک کے فوت ہونے کے بعد آج بھی اس کے بچے اپنے باپ کی دی ہوئی زبان کا پاس رکھ رہے ہیں اور تقریباً 73 سال سے یہ دکان اپنے دکاندار کا انتظار کر رہی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -