یورپی یونین نے روش نہ بدلی تو آئرلینڈ کیلئے بریگزٹ معاہدہ معطل کردیں گے: بورس جانسن کی دھمکی

یورپی یونین نے روش نہ بدلی تو آئرلینڈ کیلئے بریگزٹ معاہدہ معطل کردیں گے: ...
یورپی یونین نے روش نہ بدلی تو آئرلینڈ کیلئے بریگزٹ معاہدہ معطل کردیں گے: بورس جانسن کی دھمکی

  

کاربس بے (ویب ڈیسک) یورپی یونین نے گزشتہ روز وزیراعظم بورس جانسن کو دھمکی دی ہے کہ وہ شمالی آئرلینڈ کے ساتھ بریگزٹ سے متعلق تجارتی انتظامات کے حوالے سے اختلافات طے کرنے کے وعدے پر عمل کریں لیکن وزیراعظم بورس جانسن نے برسلز پر مصالحت کرنےاور زیادہ حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا ہے کہ یورپی یونین نے روش نہ بدلی تو وہ آئرلینڈ کیلئے بریگزٹ معاہدہ معطل کردیں گے۔

روزنامہ جنگ نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے لکھا کہ برطانیہ اور یورپی یونین نے گزشتہ سال یورپی سنگل مارکیٹ اور کسٹمز یونین سے نکلنے سے قبل تجارتی معاہدے پر دستخط کئے تھے، اس کے علاوہ شمالی آئرلینڈ کے ساتھ بھی ایک تجارتی معاہدہ طے پایا تھا لیکن برطانیہ ابھی تک انگلینڈ، سکاٹ لینڈاور ویلز سے آئرلینڈ جانے والی اشیا پر مکمل چیک قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور اس نےبرطانوی جما ہوا گوشت اور اس کی اشیا کی ڈلیوری کی میعاد توسیع کرنے کااشارہ دیا ہے۔ جس پر یورپی یونین نے جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ اس تنازعہ کی بازگشت گزشتہ روز G7 کی سربراہ کانفرنس میں بھی سنائی دی۔ ہفتہ کی صبح وزیراعظم بورس جانسن نے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے سربراہوں سے بات چیت کی اور ان سب نے ان سے براہ راست یہی کہا کہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے پر، جس پر خود انھوں نے دستخط کر رکھے ہیں، کی پاسداری کریں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ارسلا وون ڈر لیین اور یورپی کونسل کے سربراہ چارلس مچل نے کہا کہ دونوں فریقوں کو معاہدے پر عملدرآمدکرنا چاہئے۔ یورپی برادری اس پر متحد ہے۔ میکرون کے دفتر کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ صدر میکرون نے وزیراعظم بورس جانسن پر یہ واضح کردیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اپنے وعدے پر عمل نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ برطانیہ اپنے وعدے پر قائم رہے اور انھوں نے برطانیہ کی جانب سے لچک کے مطالبے کو مکمل طورپر رد کردیا لیکن ڈائوننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے یورپی رہنمائوں سے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے۔

وزیراعظم بورس جانسن نے یورپی رہنمائوں سے مذاکرات اور تلخ نوائی کے بعد کہا کہ ان لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے اور اپنے دماغ میں بٹھا لینی چاہئے کہ شمالی آئرلینڈ برطانیہ میں شامل ایک علاقہ ہے۔ میکرون سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے تمام فریقوں کی جانب سے مصالحت کمپرومائز اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنے اور برطانیہ کی اندرونی یکجہتی اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وونڈرلیین اور مچل کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ اس مسئلے کا عملی حل تلاش کرنے کا عزم رکھتا ہے، اس معاہدے کا مقصد شمالی آئرلینڈ کے راستے یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ اور کسٹمز یونین کو بلاروک ٹوک اشیا بھیجنے کو روکنا ہے، یہ چیکنگ پور ٹ کے عملے کی جانب سے دھمکیوں اور شمالی آئرلینڈ میں بدترین تشدد کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، اس معاہدے کی وجہ سے شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر ارلین فوسٹر اپنے عہدے سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور ان کے بعد یہ عہدہ سنبھالنے والے نے اس کی مخالفت کیلئے سخت طرز عمل اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپنے سفارتخانے سے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کی اس کے موقف پر تنبیہ کریں، کیونکہ ان کے مطابق اس سے امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔ 1998 میں آئرلینڈ کا کم وبیش تین عشروں سے جاری تنازعہ طے کرانے میں جسے گڈ فرائیڈے معاہدے کا نام دیا گیا تھا، بل کلنٹن انتظامیہ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ جوبائیڈن خود بھی آئرش ہیں اور ان کے دور دراز کے رشتہ دار اب بھی آئرلینڈ میں ہیں، وہ اس معاہدے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلق متاثر ہوسکتا ہے۔

فرانس کے صدر میکرون نے بھی برطانیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے سے پھر جانا مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس پر دوبارہ مذاکرات کئے جائیں۔ ہر معاملہ قابل عمل ہے۔ ادھر بورس جانسن نے جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کے بعد گزشتہ روز کسی بھی اختلاف کی تردید کی اور کہا کہ جوبائیڈن نے اس معاملے پر کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ گڈ فرائیڈے سمجھوتے کو برقرار رکھنے کی مشترکہ بنیادیں ہیں۔

مزید :

برطانیہ -