ٹیچنگ ہسپتالوں کے بڑے پیرا سائٹس کیخلاف کریک ڈاؤن شروع 

ٹیچنگ ہسپتالوں کے بڑے پیرا سائٹس کیخلاف کریک ڈاؤن شروع 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

لاہور (جاوید اقبال)محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے ٹیچنگ ہسپتالوں کے بڑے پیراسائٹس کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے آغاز میں تین بڑے ہسپتالوں کے مختلف اوقات میں تعینات رہنے والے نو معروف میڈیکل سپرٹنذ نٹس کے خلاف شکنجہ سخت کر دیا ہے جن کو معطل کر کے ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا اغاز کیا جا رہا ہے جس کے لیے سمری منظوری کے لیے وزیراعلی کو بھجوا دی گئی ہے جن ہسپتالوں کے میڈیکل سپرٹینڈنٹس کے خلاف کاروائی کا اغاز کیا گیا ہے ان میں سروسز ہسپتال لاہور کے تین گنگا رام  ہسپتال کے تین اور عزیز بھٹی شہید ٹیچنگ ہسپتال گجرات کے تین میڈیکل سپرٹینڈنٹ کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے جو میڈیکل سپرٹینڈنٹ ہے اس کی زد میں ائیں گے ان میں حال ہی میں تعینات کیے گئے میڈیکل سپریٹینڈنٹ کے نام شامل نہیں ہیں محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سروسز ہسپتال کے موجودہ میڈیکل سپریٹینڈنٹ ڈاکٹر چوہدری مدبر کی تعیناتی سے پہلے تین میڈیکل سپرٹینڈنٹ کے خلاف پیڈا ایکٹ لگایا گیا ہے جبکہ ماضی میں تعینات رہنے والے ڈاکٹر عامر مفتی اور ڈاکٹر مختار میں فل حال ٹائی ہے کہ ان میں سے کس کو پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا کر سامنا کرنا پڑے گا ان میں سے ایک تیسرا میڈیکل سپرٹینڈنٹ ہوگا جس کے خلاف پیڈا  لگے گا کا کہنا ہے کہ گنگارام ہسپتال کے موجودہ میڈیکل سپرٹینڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ  معین الدین کی تعیناتی سے پہلے مختلف اوقات میں تعینات رہنے والے تین میڈیکل سپرٹنڈنٹس  کو پیڈا ایکٹ میں فکس کر دیا گیا ہے اسی طرح عزیز بھٹی ٹیچنگ  گجرات کے تین میڈیکل سپریٹینڈنٹ ہے پر بھی پیڈا ایکٹ لگا دیا گیا ہے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ قبل عظیم ہسپتالوں کے چھوٹے پیراسائٹ اخلاف کاروائی کی گئی جن کی تعداد ڈیڑھ سو ہے تاہم ابھی بہت سارے پیراسائٹس پائپ لائن میں ہیں جن کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم نو میڈیکل سپرٹینڈنٹ تعینات رہنے والے ڈاکٹرز کو بڑے پیراسائٹس قرار دیا گیا ہے ان میڈیکل سپرٹینڈنٹس پر مختلف الزامات ہیں انہوں نے ہسپتالوں کے خزانے کو نقصان پہنچایا کیونکہ یہ میڈیکل سپریٹینڈنٹس گریڈ  20 کے ہیں لہذا منظوری کے لیے سمری وزیراعلی کو بھیج دی گئی ہے منظوری اتے ہی انہیں فکس کر دیا جائے گا اور انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا ذرائع نے بتایا کہ ان ایم ایس حضرات پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ٹھیکیداروں سے ساتھ بندر بانٹ کی اور اؤٹ سورس کیے گئے ٹھیکوں میں مختلف کمپنیوں سے ساز باز کر کے بھاری فوائد حاصل کیے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا

کریک ڈاؤن

مزید :

صفحہ آخر -