آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویز کو بجٹ کانام دیا گیا، حافظ نعیم الرحمن 

آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویز کو بجٹ کانام دیا گیا، حافظ نعیم الرحمن 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویزکو بجٹ کا نام دیا گیا ہے،وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاست قربان کردی،پی ڈی ایم دوبارہ مسلط کردی گئی، معیشت تاحال بہترنہ ہوسکی،وزیرخزانہ کی پریس کانفرنس ناکامیوں کی داستان تھی، معاشی اہداف حاصل نہ ہونے کا اعتراف انہوں نے خود کیا،حکمران آئی ایم ایف سے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر مذاکرات کی جرات نہیں رکھتے، حقیقت میں میز کے دونوں اطراف سامراج کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں، ملک میں وزرائے خزانہ درآمد کیے جاتے ہیں، حکومت ختم ہوتو توجہاز پکڑ کر واشنگٹن روانہ ہوجاتے ہیں،آئی ایم ایف امریکہ کا ذیلی ادارہ ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے 23پروگراموں سے معیشت بہتر نہ ہوئی، 24ویں سے بھی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے،ٹیکس آمدن اضافہ میں ایف بی آر کا کوئی کریڈٹ نہیں، تنخواہ دار طبقہ سے 326ارب سمیٹے گئے، پٹرولیم لیوی اورمہنگی گیس اور بجلی بلنگ سے غریب عوام کو نچوڑا گیا، بڑے صنعتکاروں اور تاجروں سے صرف 86ارب جمع ہوئے،طاقتور ٹیکس نہیں دیتے، جاگیرداروں کو چھوٹ ہے، ٹیکس آمدن کا 87فیصد قرض،سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، مہنگی بجلی آئی پی پیز سے کئے گئے ظالمانہ اور عوام دشمن معاہدوں کا نتیجہ ہے، نظرثانی کی جائے۔شرح سود میں معمولی کمی کی گئی، حکمران اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جب تک سود رہے گا، معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور سلمان شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو براہ راست اداروں میں مداخلت کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ بڑے ممالک ماحول تباہ کررہے ہیں اورموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے پاکستان براہ راست متاثر ہورہا ہے، حکمران ماحولیات تباہی کا کیس آئی ایم ایف اور طاقتور ممالک سے لڑنے میں ناکام ہیں۔ زراعت میں بہتری کا کریڈٹ بھی چھوٹے درمیانے کاشتکاراور محنت کش کو جاتا ہے، اب اسے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 

حافظ نعیم الرحمن 

مزید :

صفحہ آخر -