ایوان بالا میں بجٹ دستاویزات پیش، اپوزیشن کا احتجاج، علامتی واک آؤٹ، بجٹ مستر د کردیا

ایوان بالا میں بجٹ دستاویزات پیش، اپوزیشن کا احتجاج، علامتی واک آؤٹ، بجٹ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                            اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ دستاویزات ایوان بالا میں پیش کر دیں،چیئرمین سینیٹ نے کہا وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے رواں مالی سال کا فنانس بل ایوان میں پیش کیاہے،جس پر اراکین 14 جون تک اپنی سفارشات قائمہ کمیٹی خزانہ اور منصوبہ بندی کو جمع کراسکتے ہیں،چیئرمین سینیٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی اور خزانہ 22جون تک سفارشات مر تب کرنے کی پابند ہیں، تاہم قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے بجٹ مسترد کردیااور کہا اس بجٹ میں عوام پر مزید مہنگا ئی کا بوجھ پڑیگا، اس بجٹ میں ٹیکسز کی بھرمار کی گئی ہے۔شبلی فراز نے مزید کہا حکومت کی بیڈ گورننس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، یہ عوام کی نمائندہ حکومت نہیں، تحریک انصاف نے بجٹ پر سینیٹ میں احتجاج کیا، تحریک انصاف کے سینیٹرز نے چیئرمین ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، پی ٹی آئی سینیٹرز نے ایوان میں معاشی قتل نامنظور کے نعرے لگائے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سینٹ کااجلاس چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں شروع ہوا، وفاقی وزیر خزانہ وسنیٹر محمد اورنگزیب نے مالیاتی بل 2024بشمول سالانہ بجٹ گوشوارے کی نقل ایوان میں پیش کی،اس موقع پر بھی اپوزیشن نے حکو مت کیخلاف نعرے بازی اور احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ بھی کیا،اس سے قبل قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے آغاز پرہی سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کرتے ہوئے سپیکر کے ڈائس کا گھیر اؤ کیا ا و ر حکومت کیخلاف جبکہ بانی پی ٹی آئی کے حق میں شدید نعرے بازی کی،اپوزیشن کے رکن جمشید دستی نے بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں پھینک دیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے سکیورٹی عملے کو ایوان میں بلا لیا،اپوزیشن ارکان نے گو شہبازگو کے نعرے بھی لگائے۔اسی طرح جب سینٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینٹر محمد اورنگزیب خان نے مالی سال 25-2024کی تحریک کو اجلا س میں پیش کی تو قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہا اس بجٹ میں عوام پر ٹیکس لگا ئے گئے ہیں یہ بجٹ عوام کی کمر توڑ کر رکھ دیگا،ہم عوام کے ایما پر احتجاج کر رہے ہیں، حکومت عوام کو دیوار سے لگا رہی ہے، عوام کووضاحت کریں قرضے کیسے اتنا زیادہ بڑھے ہیں، اپوزیشن اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے،عام آدمی کیلئے جینا مشکل ہو جائیگا۔اس موقع پر انہو ں نے علامتی بائیکاٹ بھی کیا۔چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ فی الوقت احتجاج کریں نہ ہی اجلاس کی کاروائی کا بائیکاٹ کریں مجھے اجلاس کو ملتوی کرنا ہے،جس پر ایوان میں قہقہ گونج اٹھا۔انہوں نے کہا ہم مل کر ایوان چلانا چاہتے ہیں،تا ہم اپوزیشن نے چیئرمین سینٹ کی ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کرنعرے بازی شروع کر دی۔اس موقع پر اپوزیشن کے تمام سینٹرز نے شبلی فراز کی سربراہی میں احتجا ج شروع کر دیااور معاشی قتل نامنظور ظالمانہ ٹیکسز نا منظور کے نعرے لگائے گئے،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن سے کہا آپ احتجاج نہ کریں،آج بروز جمعرات کو ہونیوالے اجلاس میں سب سے پہلے اپوزیشن کو دعوت ددنگا کہ وہ اس بجٹ اجلاس پر اپنا نقطہ نظر بیان کرے،تا ہم اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔اس موقع پر سینٹ میں قائد ایوان وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا میں اپوزیشن لیڈر کی تنقید کو خوش آئند سمجھتا ہوں،اورپوچھنا چاہتا ہوں کیا چھوٹے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ نہ کریں،ہم اپوزیشن کی تجاویز کو خوش دلی سے سنیں گے، اپوزیشن کی مثبت تنقید کو ہم خوش آئند سمجھتے ہیں،تا ہم ان کے خطاب کے دوران بھی اپوزیشن نے اپنا احتجا ج جاری رکھا،جس کے بعد چیئرمین سینٹ نے اجلاس آج صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا۔

اپوزیشن احتجاج

مزید :

صفحہ اول -