بڑھتا ہاتھ تھام لیں 

بڑھتا ہاتھ تھام لیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہرنے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نہ صرف اْن کے ساتھ جو کچھ ہوا اْسے معاف کرنے کو تیار ہیں بلکہ وہ مذاکرات کرنے کیلئے بھی رضامند ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وکلاء کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بیٹوں سے بات نہ کرائے جانے کا شکوہ کیا۔ اْن کے مطابق بانی پی ٹی آئی بارہا اِس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اْن کے ساتھ جو ہوا وہ معاف کرنے کو تیار ہیں، مذاکرات کے راستے کھولے جائیں، وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی سے بات کرکے مذاکرات کا آغاز کریں،یہ جماعت کا اپنا فیصلہ ہے لیکن محمود خان اچکزئی اور دیگر جماعتوں کیساتھ اتحاد ہے اِس لیے اْنہیں اعتماد میں لیں گے، مذاکرات اتحاد کی سطح پر بھی ہوں گے تاہم پی ٹی آئی اپنے طور پر بھی اِن کا آغاز کر سکتی ہے، پاور بروکرز کو اُن کی بات سننی چاہئے۔ بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے اور اُن کی جماعت نے اِس سے کبھی انکار نہیں کیا، برف پگھل رہی ہے، چاہتے ہیں حالات بہتر ہو جائیں لیکن ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کوئی ڈیل نہ سمجھا جائے۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ُان کے بانی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کیلئے کوئی خط نہیں لکھا البتہ اُن کی جماعت اِس کی طرف سے کی گئی مذاکرات کی بات کا جواب بھی دے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی اسے خوش آئند قرار دیا ہے، وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے نجی ٹی وی  پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے تو بات چیت ہی راستہ ہے، پی ٹی آئی کچھ عرصہ پہلے تک کچھ اور کہتی تھی، اداروں کے آپسی تناؤ کا خاتمہ ضروری ہے جبکہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی بھی کم ہونی چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی والے ملنا چاہتے ہیں تو وہ خود بھی اْن سے رابطہ کرسکتے ہیں، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کا پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت سے اچھا تعلق ہے، ماضی قریب میں وہ اِن جماعتوں کے ساتھ کھڑے تھے، بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرنا یقینا ایک حوصلہ افزاء بات ہے، اِس سے پہلے تو وہ ڈٹے ہوئے تھے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ کسی حال میں بھی مذاکرات نہیں کریں گے، بات وہاں کریں گے جہاں کرنی چاہئے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے درپے نظر آتی ہیں۔2013ء کے انتخابات ہوئے، مسلم لیگ ن برسر اقتدار آئی تو عمران خان صاحب نے اسے قبول نہیں کیا، 2014ء میں وہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے، اُنہوں نے پر زور تقاریر کیں، لوگوں کو لتاڑا، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبے کرتے رہے لیکن پھر جب 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور میں قومی سانحہ رونما ہوا تو وہ اپنی ضد چھوڑ کر ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی خاطر دوسری سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ میز پر آکر بیٹھ گئے۔سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور ملک سے اِس ناسور کو اُکھاڑ پھینکا۔2017ء میں میاں نواز شریف کو وزیر اعظم کی کرسی چھوڑنا پڑی وہ تا حیات نااہل ہو گئے اور2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیر اعظم تو بن گئے لیکن رویہ اپوزیشن لیڈر والا ہی رہا، اُن کی گفتگو اور نعروں نے لوگوں کو تقسیم کر دیا، جھوٹ سچ کی تمیز مشکل ہو گئی، پھر اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور اُنہیں  اقتدار چھوڑنا پڑا۔اِس کے بعد بہت کچھ ہوا، اُن کی گرفتاری عمل میں آگئی، مقدمے چلے اور سزائیں بھی ہوئیں، پی ٹی آئی کو اپنے انتخابی نشان سے ہاتھ دھونا پڑے۔یوں معلوم ہوا کہ تاریخ دہرائے جانے کے لئے بیتاب بیٹھی ہے، خدا خدا کرکے 2024ء کے انتخابات بھی ہو گئے لیکن سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا، دھاندلی کا شور مچ گیا، پارلیمان میں بھی دھما چوکڑی آج بھی جاری ہے۔عمران خان صاحب حکومتی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تو حکومتی رہنما بھی اٹھتے بیٹھتے بیان جاری کرتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے مل کر تحریک تحفظ آئین کا آغاز کیا تھا، اب انہیں اپنا رخ مذاکرت کی طرف موڑ دینا چاہئے اور پورے دل و جان سے اِس پر جُت جانا چاہئے۔ محمود خان اچکزئی یا مولانا فضل الرحمان میں سے کوئی بھی بات چیت کرنے کی کوشش کرے گا تو اْنہیں حکومت کی طرف سے مثبت جواب ہی ملے گا۔اِس وقت ملک میں سیاسی استحکام نا گزیر ہے کیونکہ معاشی استحکام بھی اِسی سے مشروط ہے،اب اگر پی ٹی آئی نے ایک قدم بڑھا ہی دیا ہے تو حکومت دو قدم آگے بڑھائے، اِس موقع سے فائدہ اٹھائے، مسلم لیگ ن کے رہنما بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے تو اب عملی قدم اٹھائیں، ساتھ ہی ساتھ یہ اُمید بھی کی جانی چاہئے کہ پی ٹی آئی دوبارہ کوئی یو ٹرن نہیں لے گی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے گی۔ بھارتی انتخابات کو ہی دیکھ لیں، انتخاب ہوئے، سب نے نتائج قبول کئے، نریندر مودی کی حلف تقریب برداری میں اپوزشن رہنما  پہلی صف میں بیٹھے تھے، کوئی دھاندلی کا شور نہیں مچا اور ایک نئے دور حکومت کا آغاز ہو گیا۔باوجود اِس کے کہ انتخابات کے نتائج وقعات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔اہل سیاست کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اختلاف رکھنا اچھی بات ہے، یہی جمہوریت کا حسن ہے لیکن اِس میں ہر حد پار کر جانا یقینا مسائل پیدا کرتا ہے، ہر کھیل کے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں اور انہی کے مطابق کھیلنا چاہئے۔قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جن کے رہنما دور اندیش، معاملہ فہم اور مخلص ہوتے ہیں، اگر بانی پاکستان اپنے عزم اور حوصلے کی بنیاد پر الگ ملک حاصل کر سکتے ہیں تو اُن کے اصولوں پر عمل کر کے ملک کو صحیح سمت میں آگے بڑھانے میں کیا قباحت ہے۔ ابھی بھی وقت ہے جمہوریت کی گاڑی کو آگے بڑھنے دیں، مذاکرات کریں، بات چیت کریں، معاملات کو آگے بڑھائیں، ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لیں، یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب ہی نے اِسے آگے بڑھانا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -