جس کھیت سے روزی میسر ہو،اسے نہ جلاؤ!

جس کھیت سے روزی میسر ہو،اسے نہ جلاؤ!
جس کھیت سے روزی میسر ہو،اسے نہ جلاؤ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قومی امور میں مجموعی طور پر ہر قوم جذباتی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کھیل بھی شامل کرلئے جاتے ہیں اور اگر مقابلے کی نوعیت بین القومی سے بڑھ کر بین الاقوامی ہو جائے تو صورت حال اور بھی جذباتی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اگرچہ کھیل تو کھیل ہے جس میں جیت ہار کا ہونا بھی کھیل ہی کا حصہ ہے، جب کسی بھی کھیل میں دو ٹیمیں بالمقابل ہوں تو کسی ایک کی جیت اور دوسری کی شکست لازم ہے اور اگر مقابلہ حریفوں کے درمیان آ جائے تو حالات اور بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔ شائقین اپنے ملک کی ٹیم کی حمائت میں جذباتی ہوتے ہیں، کرکٹ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان ایشز سیریز بھی ایسے ہی جذبات کی حامل ہوتی ہے لیکن جو صورت حال پاک، بھارت مقابلوں کی ہے اس کا تقابل کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا لیکن کھیل تو کھیل ہے۔ اس کا طرۂ امتیاز یہ بھی ہے کہ مقابلے میں کسی کی فتح اور کسی کی ناکامی لازم ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم برصغیر کے لوگ اسے مرنے مارنے کی حد تک سنجیدہ لیتے ہیں حالانکہ کھیل کے فطری اصول کے مطابق ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن پاک بھارت مقابلوں میں ان ممالک کی سیاست کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ دنیا کے حالات کی روشنی میں بھارت کی حکومت کا رویہ بڑی جذباتیت کا باعث بنتا ہے کہ ایک تو بھارت کشمیر پر جبری قابض اور ظلم ڈھا رہا ہے دوسرے پاکستان کے حوالے سے دشمنی کا رویہ رکھا ہوا ہے۔ خصوصاً مودی اقتدار نے حالات زیادہ سنگین کر رکھے ہیں۔ دونوں ممالک میں سفارتی روابط ہونے کے باوجود حالات کشیدہ ہیں اور تعلقات معمول پر نہیں، بھارتی حکومت تجارت، بین الاقوامی امور، حتیٰ کہ کھیلوں تک تعصب کی حد تک رویہ برقرر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی مجبوری ہے۔ بھارتی حکومت اپنی کسی ٹیم کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اگرچہ پاکستان کی طرف ایسی کوئی ضد نہیں۔ پاکستان کی کبڈی اور ہاکی کی ٹیمیں بھارتی ویزا مل جانے کی صورت میں بھارت جا کر مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں لیکن بھارت کی بی جے پی حکومت اپنی ٹیموں کو اجازت نہیں دیتی اور یہ صورت حال کرکٹ کی حد تک بھی ہے، چنانچہ پاک بھارت کرکٹ مقابلے کسی تیسرے ملک میں ہوتے ہیں اور جب بھی دونوں ممالک کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں تو ماحول بہت ہی جذباتی ہو جاتا ہے۔

ان دنوں ٹی 20کرکٹ ورلڈکپ کے مقابلے جاری ہیں دنیائے کرکٹ ان مقابلوں میں بڑی تیاری کے ساتھ حصہ لے رہی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی تیاری کی اور کئی مراحل کے بعد ایک پندرہ رکنی ٹیم چن کر بھیجی۔ سب جانتے ہیں کہ یہ مقابلے دو ممالک امریکہ اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی میں جاری ہیں، 20ٹیموں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور پہلے گروپ مقابلے میں جاری ہیں، عالمی کرکٹ کونسل کے جاری پروگرام کے مطابق پاکستان اور بھارت کو ایک گروپ میں رکھا گیا، اس گروپ میں نوزائیدہ کرکٹ ٹیم امریکہ کی ہے جبکہ کینیڈا اور آئرلینڈ کی ٹیمیں بھی اسی کا حصہ ہیں، عالمی کرکٹ کی پروگرام کمیٹی نے اس گروپ کا دوسرا میچ امریکہ، پاکستان اور تیسرا پاک بھارت رکھا یوں ابتداء ہی جذباتی ماحول سے ہوئی اور میڈیا نے بھی یہی ہدف بنا لیا۔ پاک بھارت مقابلے کے لئے بڑی جذباتی فضا پیدا کر دی گئی اور سلسلہ مسلسل جاری ہے، شومئی قسمت پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے پہلے دونوں میچ ہار گئی، امریکہ سے پٹ جانے کے بعد بھارت سے بھی دل ناتواں ہار گیا اور یوں ہم پاکستانیوں کے دل مجروح ہو گئے۔

دونوں میچوں میں شکست اور اب کینیڈا سے میچ جیت لینے کے بعد بھی بابر الیون کا سپر 8مقابلوں کے لئے کوالیفائی کرنا انتہائی دشوار ہے کہ یہ سب دوسروں کی غلطیوں کے طفیل ممکن ہے اور ایسا ہونا معجزہ ہی ہوگاکہ اب اگر امریکہ کی ٹیم بھارت اور آئرلینڈ سے دونوں میچ ہار بھی جائے اور پاکستان کینیڈا کے بعد آئرلینڈ کو بھی ہرا دے تو پھر بھی سکور کی شرح پر ہی فیصلہ ہوگا اور پاکستان کی شرح تاحال امریکہ سے کم ہے، ان حالات نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا ہے اور اب گفتنی ناگفتنی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے حتیٰ کہ ٹیم میں گروپنگ، اختلافات اور ایک دوسرے سے روٹھے رہنے کی بھی اطلاعات ہیں۔پاکستان کرکٹ کے سابق ہیرو بھی دکھی ہیں اور کھیل کی جزئیات کا تجزیہ کرتے ہوئے جذبات بھی ہو جاتے ہیں۔ شاہد آفریدی نے تو برملا ٹیم کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے ورلڈکپ کے اختتام پر اس سے پردہ اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ راشد لطیف نے واضح طور پر عماد وسیم کو ”مجرم؛ بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ وسیم اکرم نے تکنیکی بات کی اور یہی رویہ درست ہے۔

اب بات ٹیم کے اندرونی اختلافات کی  اطلاع اس حد تک سامنے آ گئی کہ خود چیئرمین بورڈ محسن نقوی نے بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا اور اندرونی کشمکش کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ اگرچہ مبینہ طور پر وہ خود بھی اس کا حصہ ہیں کہ عماد وسیم کی واپسی اور بابراعظم کی قیادت ان کی مرضی سے ہوئی اور انہوں نے برملا کہا کہ بابراعظم ان کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں حالانکہ بابراعظم کو پھر سے قیادت دینے کے لئے تھوڑا انتظار بہتر تھا اور یہ ورلڈکپ ٹیم کو شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی میں کھیلنا چاہیے تھا لیکن محسن نقوی کا فیصلہ ماننا پڑا اور بابر اعظم کو قیادت واپس مل گئی اس سے گروپنگ واضح اور تین دھڑے بن گئے اگرچہ  شاہین آفریدی نے جذباتی صدمہ برداشت کر لیا لیکن پھانس باقی رہی، البتہ شاداب خان اور عماد وسیم کے مزاج درست نہ ہوئے اور ماسوا نسیم شاہ کے باقی ایک گروپ بابر اعظم کو نیچا دکھانے کے لئے حد سے گزر گیا۔ اس سلسلے میں خود شاداب خان، عماد وسیم اور سب سے بڑھ کر افتخار احمد کی کارکردگی سامنے ہے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ ان حضرات نے کیاجو قوم کے ہیرو ہیں اور اس ملک نے ان کو زیرو سے ہیرو بنایا اور آج یہ لوگ دولت اور شہرت اسی بدولت حاصل کئے ہوئے ہیں اس کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کم تر حرکتوں پر اتر آتے ہیں، بات تو ٹیم کے چناؤ سے شروع کی جانا چاہیے کہ جو پندرہ کھلاڑی منتخب کئے گئے ان میں سے چار کی خراب کارکردگی کے بعد تبدیلی کی گنجائش نہیں تھی کہ اعظم خان کے باہر جانے کے بعد صرف صائم ایوب اور عثمان باقی بچتے تھے اور ان دو کو چار سے تو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس لئے کینیڈا کے خلاف مجبوراً عماد اور شاداب ٹیم میں تھے اور شاید آئرلینڈ کے خلاف بھی ہوں، اب لازم ہو گیا ہے کہ اس ٹیم کی تمام خرابیوں اور نام نہاد برائیوں اور اچھائیوں کی سلیکشن سے لے کر کارکردگی تک کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد باقاعدہ کارروائی کی جائے،ذمہ دار حضرات  پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا کر جرمانہ بھی کیا جائے، بابراعظم کو ایک بار پھر رضاکارانہ طورپر قیادت سے الگ ہو جانا چاہیے۔لکھنے کو بہت کچھ اور راز بھی بہت ہیں لیکن جگہ کی قلت ہے۔ آخری بات یہ کہ شائقین کو یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ بڑے کھیل کرکٹ ہو یا فٹ بال یہ جواری گروپوں کا بھی نشانہ ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -