کامیاب کیریئر

 کامیاب کیریئر
 کامیاب کیریئر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 1970ء میں میں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے پولیٹیکل سائنس میں داخلہ لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رحیم یار خان سے لیکر پشاور تک اعلیٰ تعلیم کے متلاشیوں کیلئے پنجاب یونیورسٹی ہی بہترین ٹھکانہ تھا۔ ہماری کلاس غالباً 130 طلباء پر مشتمل تھی۔ شاید آپ کلاس کے سائز سے کچھ حیران ہوں گے لیکن اس کی ایک بڑی وجہ اُس زمانے میں رائٹ لیفٹ کی شدید تقسیم تھی، آج بھی ہماری سوسائٹی سیاسی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے لیکن آج کی تقسیم بڑی حد تک ایک شخصیت کے اِردگرد گھومتی ہے اُس وقت شخصیت کے علاوہ پس منظرمیں ایک عالمی نظریاتی تقسیم بھی تھی اُس وقت ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین بی اے خان لیفٹ سے بُری طرح متاثر تھے لہٰذا انہوں نے کسی طالب علم کو مایوس نہیں کیا جو اُن کا ہم خیال تھا۔یوں کلاس پھیلتی گئی۔ 1973ء میں ماسٹر کرنے کے بعداُس کلاس کے بہت سے لوگ اپنے اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ گئے کچھ وقت کی دُھول میں گم ہو گئے لیکن بہت سوں نے معاشرے میں اپنا مقام بنایا اور اپنا نقش پا چھوڑ گئے۔ ایک صاحب خوشنود لاشاری وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری بنے ، اختر بلند رانا صاحب پاکستان کے آڈیٹر جنرل بنے، یعقوب چوہدری صاحب آئی جی پولیس بن کر ریٹائر ہوئے، قاضی آفاق حسین مرحوم فیڈرل سیکرٹری ریٹائر ہوئے، چوہدری تصدق، نعیم خان، خالد صدیقی، شوکت نواز طاہراور ریاض اختر، مختلف محکموں میں سینئر پوزیشنز پر پہنچے۔ میں اور سرور منیر راؤ نے پی ٹی وی کا انتخاب کیا اور ڈائریکٹر نیوز کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پی ٹی وی اُس وقت ایک اُبھرتا ہوا ادارہ تھا۔ پی ٹی وی نے اپنی نشریات سے آبادی کے ہر طبقے کو متاثر کیا اور پاکستان کی پہچان بنا، ادارے کے طفیل ہم نے بھی اپنی پہچان بنائی، بڑے بڑے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا،بعض دفعہ وزیراعظم اور صدر کی ہم رکابی کا اتفاق ہوا۔ یوں پاکستان کے علاوہ دنیا گھومنے کا موقع ملا، ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ”پی ٹی وی میں مہ و سال“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ 2016ء سے مجیب الرحمن شامی کی زیرادارت لاہور سے چھپنے والے اخبار ”پاکستان“ میں کالم لکھ رہا ہوں۔ 1974-75ء میں نوائے وقت میں کچھ عرصہ لکھتا رہا۔پھرملازمت کے بکھیڑوں میں یہ جاری نہ رہ سکا، اب عنقریب کالموں پر مشتمل ایک کتاب مارکیٹ میں آ جائے گی، چند اور کتابیں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، یہ کہانی دہرانے کی وجہ دراصل ایک کلاس فیلو کے کامیاب کیریئرکا ذکر کرنا ہے۔

ہمارے یہ کلاس فیلو ڈاکٹر رسول بخش رئیس عملی زندگی میں کافی قدآور ثابت ہوئے اُن کا تعلق راجن پور سے ہے ، انہوں نے کلاس میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور پھر کچھ دیر وہیں پڑھایا بھی، پھر انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ کا رُخ کیا اور کیلیفورنیا یونیورسٹی سانتا باربراسے پی ایچ ڈی کر لی۔انہوں نے مختلف وقفوں سے امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیوں ہارورڈ، سٹینفورڈ، کولمبیا، ویک فارسٹ میں 10 سال پڑھایا۔پاکستان میں وہ قائداعظم یونیورسٹی اور لمز یونیورسٹی میں طویل عرصے تک پروفیسر رہے۔  Lums سے وہ چند ہفتے پہلے ریٹائر ہوئے ہیں۔ تقریباً پچاس سال پر محیط کیریئر میں انہوں نے افغانستان، پاکستان اور چائنا پاکستان تعلقات پر 6 کتا بیں لکھیں۔مختلف اخبارات دی مسلم، ٹربیون اور دی نیوز میں طویل عرصے تک کالم نگاری کی، بہت سے اداروں میں لیکچر دیئے اور اب بھی روزنامہ ”دنیا“ کے علاوہ عرب نیوز میں کالم لکھ رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن پروگراموں میں اِکا دَکا شرکت کے علاوہ آجکل دنیا ٹی وی کے پروگرام میں باقاعدہ پینل میں شریک ہیں۔ رسول بخش کی اوروں کے علاوہ میرے ساتھ کافی قریبی دوستی رہی جو اب بھی قائم ہے ،  ذہنی ہم آہنگی کے علاوہ اتفاق سے ہم دونوں اسلام آباد کے سیکٹر ایف 11 میں قیام پذیر ہیں ، ایف 11 میں رہائش کے میرے فیصلے میں اُن کی خواہش اور کوشش بھی شامل تھی۔ 

ڈاکٹر رسول بخش رئیس صرف ایک پروفیسر اور دانشور ہی نہیں بلکہ اُن کی شخصیت کے کئی اور پہلو بھی قابل ذکر ہیں وہ راجن پور میں اپنے آبائی گھر سے بھی مکمل طور پر وابستہ ہیں اور وہاں زراعت میں مشغول ہیں۔ زراعت اور باغبانی کا شوق پورا کرنے کیلئے اسلام آباد میں دو فارموں کے مالک ہیں اور زیادہ وقت فارم پر ہی گزارتے ہیں۔

پروفیسر رسول بخش رئیس کی لمز سے طویل وابستگی کے بعد ریٹائرمنٹ پر میں نے پچھلے ہفتے اسلام آباد کلب میں اُن کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کیا جس میں اسلام آباد میں مقیم ہمارے کلاس فیلوز نے شرکت کی۔ خوب محفل رہی نصف صدی پر محیط یادیں تازہ ہوئیں اور ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے کامیاب کیریئر پر انہیں خراج تحسین پیش کیاگیا۔

مزید :

رائے -کالم -