عیدالاضحی اور قربانی 

  عیدالاضحی اور قربانی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   ہر زمانہ، وقت، عصر بلکہ صبح، دوپہر، شام،شب اور سحر کے علاوہ لمحوں، پلوں، ساعتوں اور گھڑیوں کے بھی اپنے اپنے موڈ، مزاج، سعد و نحس اثرات اور عواقب و نتائج ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں تو کچھ محسوس نہیں ہو پاتا، مگر سب کچھ ان کے اثرات کے حصار میں ہی ہوتا ہے۔

عید الاضحی ہمارا اہم ترین مذہبی تہوار ہے اور قربانی اس کی روح ہے۔ قربانی (Sacrifice) کی تعریف یہ ہے کہ "ثواب کی نیت سے مخصوص وقت میں مخصوص جانور کا ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے"۔ اس اعتبار سے ذی الحجہ کی 10، 11 اور 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرنے کے لئے جانور ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔ یہاں ایک اہم بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جیسا کہ ادوائن میں پیر کی انگلیاں پھنسا کر رگڑنے کی مانند، ہندوستان میں مخصوص گمراہ نظریات کے حامل بے ہدایتے لوگ صدیوں سے قربانی پر تنقید کرتے چلے آ رہے ہیں، اور کچھ اس طریقے سے کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قربانی کی "رقم" کسی دوسرے نیک کام میں Use کر لینی چاہیے وغیرہ۔

قربانی ہر صاحب حیثیت مسلمان پر "واجب" ہے اور یہ شعائر اسلام میں سے ہے، اور کوئی نیک عمل اس کا متبادل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اسلامی ہسٹری میں عہد سرکار دو عالم ﷺ سے آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ اسلام میں "قربانی" کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت ہے، کیونکہ یہ بارگاہ ایزدی میں مقبول و محبوب عمل ہے۔ مفر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

"آپ ﷺ فرما دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے"  (الانعام)

"جانوروں کا گوشت اور خون اللہ تعالیٰ کو ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے"  (الحج)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ سرکار ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ اے فاطمہ ؓ !  اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ، کیونکہ اس کے پہلے خون کے قطرے کی وجہ سے تمہارے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ ؓ نے عرض کی، کیا یہ فضیلت ہمارے لئے (اہل بیت کے لئے) خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لئے ہے، سرکار ﷺ نے فرمایا یہ (فضیلت) ہمارے لئے اور تمام مسلمانوں کیلئے ہے۔ (کنزالعمال)

عید الاضحی کے موقع پر "قربانی " (Sacrifice) کا حکم ہر اس مسلمان پر عائد ہوتا ہے، جو مالدار ہو، مطلب یہ کہ اس کے پاس اتنا مال ہو، جس سے وہ زکوۃ دینے والوں میں Count ہوتا ہو۔ سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "جو شخص طاقت کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے"۔ قربانی اخلاص، احسان، مروت اور تواضع جیسے محاسن سے مزین عمل ہے۔ صفحہ زیست پر شاید اس کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔ ایک اور اہم بات، فرض کریں کہ ایک ہی گھر میں کئی افراد ایسے ہیں جو "مالک نصاب" ہیں تو پھر سب کے لئے اپنی اپنی انفرادی قربانی ضروری ہے، صرف ایک ہی قربانی پر اکتفا نہیں ہو سکے گا۔ 

قربانی کا جانور صحت مند و خوبصورت اور بے عیب ہونا چاہیے۔ "سرکار ﷺ نے حکم دیا کہ اچھے، Healthy جانور ذبح کیا کرو، یہ پل صراط پر تمہیں سواری کا کام دیں گے۔" حضرت مولا علی ؓ سے روایت ہے کہ سرکارﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں (Eyes) اور کان (Ear) دیکھ کر قربانی کریں۔ (نسائی، ابن ماجہ)۔ حضرت مولا علی ؓسے ہی روایت ہے کہ سرکار ﷺ نے مقابلہ، مدابرہ، شرقاء، خرقاء اور جدعا کی قربانی دینے سے منع کیا ہے۔ (1) مقابلہ، جس جانور کا کان سامنے سے کٹا ہوا ہو (2) مدابرہ، جس جانور کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو۔ (3) شرقاء، جس جانور کے کان چرے ہوئے ہوں۔(4) خرقاء، جس جانور کے کانوں میں گول سوراخ (Hole) ہو۔ (5) جدعا، جس جانور کے کان کٹے ہوئے ہوں۔ 

قربانی کے لئے 3 دن مخصوص ہیں۔ 10ذی الحجہ کی صبح صادق سے لیکر 12 ذی الحجہ کی وقت مغرب شروع ہونے سے پہلے تک، لیکن پہلے دن (10ذی الحجہ) قربانی کرنا افضل ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک قربانی کے جانور کی خرید و فروخت کے وقت Age کو اصل اہمیت حاصل ہے نہ کہ دانتوں کو۔ دو دانتوں (دوندا) کے گرنے سے دراصل عمر کا ہی تعین کیا جاتا ہے۔ 

اونٹ کی عمر 5 سال پوری ہو اور وہ چھٹے میں داخل ہو۔ گائے 2 سال، بھیڑ بکری 1سال (احناف) مفتیان کرام کے نزدیک قربانی کی کھال کو مصلیٰ یا مشکیزہ بنا کر خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن کھال بیچنے کی صورت میں رقم صدقہ کر دینا "واجب" ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -