تضادات اور رویئے

 تضادات اور رویئے
 تضادات اور رویئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں سیاستدانوں نے اپنا چلن نہیں بدلا، وہی جھوٹے وعدے، وہی دھوکے اور وہی نعرے، مگر کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس ملک، اس معاشرے میں چلن بدلا کس نے ہے؟ رویئے کس نے تبدیل کئے ہیں ساڑھے چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی مجھے تو یہی لگتا ہے سب کچھ وہی ہے، جو دیکھتے آئے ہیں۔ بلکہ حالات پہلے سے خراب ہی ہوئے ہیں، کوئی اصلاح نہیں ہوئی، حالانکہ تعلیم کی شرح زیادہ ہو گئی ہے، ترقی زیادہ نظر آتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہر آدمی تک رسائی حاصل کر لی ہے، سب سے زیادہ موبائل استعمال کرنے والے یہاں ہیں مگر بدلا تو کچھ بھی نہیں، مجھے یاد ہے کہ جب بچپن میں ماں دکاندار سے سودا لینے بھیجتی تھیں تو وہ غلط یا خراب چیز دیتا تھا، واپس گھر آتا تو ماں جھڑکتی کہ یہ کیا لے آئے ہو، پھر وہ خود برقع پہن کر میرے ساتھ دکاندار سے کہتیں بچہ دیکھ کر تم نے خراب چاول، دال یا گوشت کیوں دیا، وہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے بضد رہتا کہ چیز ٹھیک ہے، آپ غلط ہیں، واپس بھی نہ کرتا اور تبدیل کرنے سے بھی انکاری ہو جاتا۔ چھوٹا موٹا جھگڑا بھی ہو جاتا، یوں اس رویے کی یاد آج تک ذہن پر نقش ہے۔ تھوڑا سا شعور سنبھالا تو بتایا گیا اس معاملے میں اسلام کی رروایات اور احادیث کیا ہیں۔ غلط مال دینے کی سختی سے ممانعت کی گئی اور ساتھ ہی اسوہئ حسنہ سے یہ درس بھی دیا گیا کہ اگر غلطی سے خراب چیز چلی گئی ہے تو اس کے گھر جا کر اسے اٹھاؤ اور واپس لو، سنا ہے یورپ اور امریکہ میں بھی کاروبار کا اصول ہی ہے، مگر یہاں دیکھیں کیا ہو رہا ہے، دکانداروں حتیٰ کہ بڑے برانڈ کے سٹورز پر یہ لکھا نظر آتا ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہوگا۔ آپ غور کریں اور جملے میں کتنی بد دیانتی اور رعونیت نظر آتی ہے۔ یعنی ہم نے مال دیدیا تو یہ پتھر پر لکیر کھینچ گئی، وہ صحیح ہے یا غلط آپ رکھیں اور پچھتاتے رہیں۔ چند روز پہلے اسلام آباد کے ایک بڑے بک سٹور کے بارے میں بھی ایک ایسی ہی پوسٹ لگی۔ وہ کتابیں مہنگی بیچ رہے تھے جبکہ ان کے عین سامنے جو دکان تھی وہ چالیس فیصد کم ریٹ پر کتابیں فروخت کر رہی تھی۔ خریدار کتابیں خرید کر باہر نکلا تو ایک کتاب جو اسے ملی نہیں تھی، اس کی تلاش میں سامنے والی دکان میں داخل ہوا، جہاں اسے باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ جو کتابیں وہ بڑے بک بنک سے خرید کر لایا ہے، وہ اڑھائی ہزار روپے سستی وہاں سے مل سکتی ہیں وہ چند منٹ بعد اس بڑے سٹور میں داخل ہوا تو نہ صرف کتابیں واپس لینے سے انکار کیا گیا بلکہ بدتمیزی بھی کی گئی ، اس حوالے سے جب سوشل میڈیا پر پوسٹ لگی تو خاصی لے دے ہوئی۔ خیر یہ صرف ایک واقعہ نہیں، حقیقت یہ ہے ہمارا کاروبار جھوٹ، دھوکہ دہی، دو نمبری اور جعلسازی کی بیساکھیوں پر کھڑا ہے، اس میں اخلاق، سچائی، دیانتداری اور ایمانداری کی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔رویوں کی بات ہوئی ہے تو آپ دیکھیں ایک حسد ہی ہمارے اندر سے نہیں جا رہا، کسی کو خوشحال دیکھ کر جلنا، کڑھنا تو اب ایک معمول نظر آتا ہے، حسد ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، اس لئے اس سے بچنے کی اسلام میں بھی تلقین کی گئی ہے مگر ہم نے اچھی باتیں مانی ہی کب ہیں؟ اس حسد کی پاداش میں ہم سازشیں کرتے ہیں دلوں میں نفرتیں پال لیتے ہیں، درس تو ہمیں یہ ملا تھا تقویٰ کے معاملے میں اپنے سے اوپر اور دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو، ہم نے اسے الٹ کر دیا، دنیاوی آسائشوں والے ہمارا آئیڈیل ٹھہرے اور تقویٰ و پرہیز گاری والے ہماری نظر میں محروم اور کمتر قرار پائے۔ ایک عالم دین فرما رہے تھے جس دن آپ کسی کی ایمانداری، سچائی اور نیکیوں پر رشک کرنا سیکھیں گے اس دن آپ کی زندگی میں ایک ٹھہراؤ اور سکون آ جائے گا، لیکن جب آپ کسی کی خوشحالی، مرتبے اور امارت پر حسد کریں گے تو زندگی میں بے سکونی اور بے اطمینانی آپ کا مقدر بن جائے گی۔ آج ہم میں سے اکثر لوگ اسی لئے بے چین نظر آتے ہیں، وہ شکر کرنے والوں کی بجائے حسد کرنے والے بن گئے ہیں اس میں کچھ عمل دخل ہمارے نظام کا بھی ہے جو دولت یا مرتبہ دیکھ کر عزت دیتا ہے، حالانکہ عزت ہر شہری کی یکساں ہونی چاہئے جب تھانوں میں با اثر ملزموں کو کرسیاں پیش کی جائیں اور مظلوموں کو ان کے سامنے کھڑا رکھا جائے تو تب یہ خیال انسان کو ضرور تنگ کرتا ہے کہ ہمارے پاس بھی دولت ہوتی تو آج یہ سلوک نہ ہوتا۔ یہ ریاست کی ایک بہت بڑی ناکامی ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے بے بس اور مظلوم کے سامنے بدمست ہاتھی بن جاتی ہے۔

اس پر تو بہت کہا سنا گیا ہے کہ ہماری بیورو کریسی کے رویئے میں بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد 76 سال گزر گئے، مگر یہ بیورو کریسی آج بھی انگریزوں کے نظام پر چل رہی ہے، ٹھیک ہے ہم نے انگریزوں کے قوانین نہیں بدلے لیکن رویئے تو انسان کے اپنے ہوتے ہیں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے عام گھرانوں کے نوجوان بھی افسر بنتے ہی اپنے رویئے میں تبدیلی اور گردن میں سریا کیوں لے آتے ہیں، یہ عقدہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔ نوکری ملنے سے پہلے جس نظام پر کڑھتے ہیں جس فرعونیت کا ماتم کرتے ہیں، افسر بنتے ہی اسے چادر کی طرح اوڑھ لیتے ہیں اس رویئے کو آپ کیا کہیں گے، مجھے تو لگتا ہے یہ نظام کی ایک ضرورت بنا دی گئی ہے، شاید سی ایس ایس کے بعد ٹریننگ کا یہ بھی حصہ ہوتی ہے کہ عوام سے فاصلہ رکھنا ہے کیونکہ اب تم سپیریئر ہو چکے ہو، پہلے تو اس سروس کا نام تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے، سپیئریر تب تھے جب انگریز افسر بنتے تھے، اب تو انہیں خادم بننا چاہئے۔ ایک امتحان پاس کر کے بندہ سپیریئر یعنی اعلیٰ کیسے ہو جاتا ہے، اعلیٰ ہونے کے لئے تو کردار، اوصاف اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرف یہ لوگ آتے نہیں اور پروٹوکول وائرس کا شکار ہو کر اسی طبقے کو ہیچ سمجھنے لگتے ہیں جس سے اٹھ کر گئے ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ دراصل تضادات کی بھٹی میں جل رہا ہے، وہ عالم دین جو نیکی، صبر اور ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جب کروڑوں روپے کی گاڑی سے گارڈز کے لاؤ لشکر کے ساتھ غریب عوام کے سامنے آتے ہیں تو وہ یہ ضرور سوچتے ہیں ہمیں روکھی، سوکھی کھا کر شکر ادا کرنے کی تلقین کرنے والا خود کیسی شاہانہ زندگی گزار رہا ہے۔ اب حضرت عمرؓ جیسی مثالیں تو خیر کہاں ملیں گی لیکن اتنا بڑا تضاد بھی لوگوں کو ایمان اور تقویٰ پر رشک کرنے سے محروم کر کے حسد کی بے رحم آگ میں چلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -