وزیر اعلیٰ پنجاب کی اعلیٰ پولیس افسران کو تبدیل نہ کرنے کی وجوہات؟

وزیر اعلیٰ پنجاب کی اعلیٰ پولیس افسران کو تبدیل نہ کرنے کی وجوہات؟
وزیر اعلیٰ پنجاب کی اعلیٰ پولیس افسران کو تبدیل نہ کرنے کی وجوہات؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 آئی جی آفس کے سامنے خود کو آگ لگانے والا شخص دوراج علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ اصغر سہیل نے چند روز قبل سینٹرل پولیس آفس کے سامنے خودسوزی کی تھی۔متوفی اپنی شکایت لے کر آئی جی آفس آیا تھا اور مبینہ طور پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اس نے دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگا لی جوکہ پانچ روز ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد دم توڑ گیا ہے۔ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ہسپتال سے لاش لے جانے اور تدفین تک پولیس کی اضافی نفری موجود رہی۔آئی جی آفس کے باہر خود کو آگ لگانے والا شہری لاہور کے علاقے کماہاں کا رہائشی تھاجو گروی پر لیے گئے مکان میں رہائش پذیر تھا اورمالک مکان کی جانب سے پیشگی نوٹس دئیے بغیر گھر خالی کروانے پر احتجاج کے لیے آئی جی آفس پہنچا تھا۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آئی جی آفس کے باہر سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی نااہلی  کے پیش نظر ایک انسان کی جان چلی گئی۔خودسوزی کرنے والے اصغر سہیل جیسے ہزاروں سائلین ہمیں روزانہ معمولی شکایات  کی درخواستیں اٹھائے تھانوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں نظر آتے ہیں۔جائزمطالبہ رکھنے والے ان افراد کی شکایات کا تدارک کرنے کے لیے اگر ہم تھوڑا ساعقلمندی سے کام لے لیں تویہ غریب ہمیشہ آپ کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔یوں تھانوں کی عمارات کو خوبصورت بنانے اور پولیس کی سربلندی کے جھوٹے دعویٰ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔حقیقت میں اس فورس کو خوبصورت تھانے یاکمروں کی بجائے ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے۔ خودسوزی کرنے والا اصغر سہیل اس ملک کا شہری،امن پسند اور ایک جائز مطالبہ لے کر ازالے کی غرض سے آئی جی آفس پہنچا،سیکورٹی پر مامور اہلکار دانشمندی سے کام نہ لے سکے انہیں چاہیے تھا کہ وہ اسے بٹھاتے ٹھنڈا پانی پلاتے۔ آئی جی آفس میں کسی بھی سینئر آفیسرز سے ملاقات کروادیتے،اگر آئی جی پولیس کی کوئی مصروفیت تھی یا وہ اس کی ملاقات کا اختیار نہیں رکھتے تو اسے کم ازکم انچارج کمپلینٹ سیل کے سربراہ،کسی دیگر سینئرپولیس آفیسرز یا آئی جی پولیس کے پی ایس او سے ملاقات کرواکر اس کی جان بچا سکتے تھے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جب تک ہم ذمہ داران افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں نہیں لائیں گے اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔محکمہ پولیس خودسوزی کرنے والے اصغر سہیل کے بچوں اور دیگر خاندان کامجرم ہے۔اب انہیں اس کے خاندان کی کفالت کا بیڑہ اٹھانا چاہیے۔پہلے تو اس آفیسرز کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جس کے پاس یہ علاقے میں اپنی شکایت لے کر پہنچا اور شنوائی نہ ہونے پر اس نے آئی جی پولیس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔اگر صوبائی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو دور دراز کے علاقوں میں صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ہم ادارے کی بربادی یا خرابی کا ذمہ دار کسی سینئر پولیس آفیسرز کو قرار نہیں دے سکتے۔یہ تو سب کمال کے آفیسرز ہیں یہ تو کوئی بھی غلط  یا غیر قانونی کام کرتے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی اپنی ٹیم کو کسی غیرقانونی کام کی ترغیب دیتے ہیں۔آپ سانحہ 9مئی کو دیکھ لیں ان سینئر افسران نے اس میں ملوث ملزمان کوگرفتار کرنے کے لیے کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کیا۔کسی ملزم کے گھر میں پولیس بلاوجہ داخل نہیں ہوئی،کسی کو ایک دن بھی  غیر قانونی حراست میں نہیں رکھا گیا،حراست میں لیتے ہی سب کی گرفتاریاں ڈالی گئیں۔بلکہ ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارنے سے قبل ان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے۔گرفتار ملزمان کو نہ صرف بروقت عدالتوں کے سپرد کیا گیا بلکہ14روز کے اندر ان کے چالان بھی مکمل عدالتوں میں جمع کروائے گئے۔ ایک سیاسی جماعت کے گرفتار یا آزاد رہنما ؤں،کارکنوں میں سے کوئی فرد واحد یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ پنجاب پولیس نے کسی کے ساتھ زیادتی یا  نا انصافی کی ہو۔ بلاوجہ کسی کو ہراساں یاکسی گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی ہو ۔ جنرل الیکشن کی بات ہو، ریلی یا ورکرز کنوشن کا انعقاد ہو پنجاب پولیس نے سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک رواں رکھا ہے۔ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی ۔صنم جاوید سے لے کر عالیہ حمزہ تک جتنی بھی ایک سیاسی جماعت کی خواتین گرفتار ہیں وہ خود یا ان کے اہلخانہ میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ پنجاب پولیس نے کسی کے خلاف کوئی جھوٹا مقدمہ درج کیا ہو۔ہمیں تو ان سینئر پولیس افسران کو سیلوٹ پیش کرنا چاہیے کونکہ ان افسران نے تو کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا جب بھی کوئی نیا وزیراعلیٰ حلف اٹھاتا ہے وہ سب سے پہلے اپنی ٹیم بالخصوص آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری اپنی مرضی کے تعینات کرتا ہے مگر پہلی دفعہ ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ ان سینئرافسران پر کسی قسم کا الزام نہیں ہے اورانہیں تبدیل کرنا آسان نہیں ہے۔ خبر ہے کہ لاہور پولیس رپورٹ میں مارچ 2023 اور مارچ 2024 کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا جس کے مطابق مارچ 2023 میں سنگین جرائم کی 4894 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جس کے مقابلے میں مارچ 2024 میں سنگین جرائم کی 3060 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔گزشتہ سال ڈکیتی مزاحمت پر 4 قتل جبکہ اس سال ایک ہوا،موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں گزشتہ سال 2448 تھیں جو اس سال 1787 پر آگئیں۔کارچوری کی وارداتیں 56 سے کم ہوکر اس سال میں 43 ہوئیں،رابری کی وارداتیں 1975 سے کم ہو کر 894 رہ گئیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق اس سال مارچ میں اغوا برائے تاوان کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی۔ موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتیں بھی 169 سے کم ہوکر 135 ہوگئیں شہر میں جرائم کی شرح میں کمی؎ لانے میں سب  سے زیادہ کردار آرگنائزڈ کرائم یونٹ کا ہے جب سے ڈی آئی جی عمران کشور نے اس شعبے کا چارج سنبھالا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ٹیم نے خطرناک گینگز کی گرفتاریوں کو یقینی بنایا ہے جس سے وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔دوروز قبل ان کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ وارداتوں میں ملوث46گینگز کے 598ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے 1ارب 27 کروڑ80لاکھ روپے نقدی اور دیگر مال مسروقہ برآمد کیا گیا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں ملزمان گرفتار ہونگے تو یقیناجرائم کی شرح  میں کمی واقع ہوگی۔ 

مزید :

رائے -کالم -