آئی جی صاحب ! میں نے شاباش دیکر غلطی کردی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ازخودنوٹس کیس میں ریمارکس، آئی جی سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر فیصلہ محفوظ

آئی جی صاحب ! میں نے شاباش دیکر غلطی کردی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ...
آئی جی صاحب ! میں نے شاباش دیکر غلطی کردی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ازخودنوٹس کیس میں ریمارکس، آئی جی سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر فیصلہ محفوظ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے اے ٹی سی سرگودھا کی عدالت میں ناخوشگوار واقعہ پر آئی جی پنجاب سمیت دیگر فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر فیصلہ محفوظ  کرلیا۔چیف جسٹس ملک شہزاد نے کہاکہ جج صاحب نے کہا ہے کہ انہیں کام سے روکا گیا،دہشتگردی کا خطرہ تو پورے پاکستان کو ہے تو آپ ملک بند کردیں،آئی جی صاحب! عدالت کو مذاق نہ سمجھیں، آئی جی صاحب! صوبے کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ ہوا لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی،آئی جی پنجاب نے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ پر حملہ ناکام بنانے پر مجھے خود شاباش دی، میری تعریف کی، عدالت نے کہاکہ آئی جی صاحب ! میں نے شاباش دیکر غلطی کردی، آپ نے بندے کیوں گرفتار نہیں کئے،عدالت نے آئی جی سمیت دیگر فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر فیصلہ محفوظ  کرلیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اے ٹی سی سرگودھا کی عدالت میں ناخوشگوار واقعہ پر چیف  جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب اور ڈپٹی ہوم سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس ملک شہزاد نے اے ٹی سی سرگودھا کے جج محمد عباس کے لکھے خط پر نوٹس لیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد  نے کیس کی سماعت کی، 

جج اے ٹی سی سرگودھا نے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر فریقین نے عدالت کے باہر ہوائی فائرنگ کی،راستے بلاک کئے گئے، تحفظ فراہم کیا جائے، چیف جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا آئی جی صاحب! آفیسر نے جج کو فون کیوں کیا، آپ کیا کہتے ہیں؟آئی جی پنجاب نے کہاکہ سرگودھا میں دہشتگردی کا خطرہ تھا، اس لئے جوڈیشل کمپلیکس کے راستے بن کئے، سی ڈی آر ملنے اور جیو فینسنگ ہونے تک کچھ کہنا قبل ازوقت ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کمیونیکیشن کو ہمیں ڈیٹا دینے سے روک دیا ہے،آپ حکم جاری کردیں تو ہمیں سی ڈی آر اور جیو فینسنگ مل جائےگی۔

چیف جسٹس ملک شہزاداحمد خان نے کہاکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے،جج نے کہا ہے کہ انہیں آفیسر کا میسج آیا، کیا آپ نے اس آفیسر کو تلاش کیا؟آپ نے کس قانون کے تحت لوگوں کو عدالت آنے سے روکا؟آپ وہ قانون بتا دیں کہ سکیورٹی خدشات کے نام پر لوگوں کو عدالت آنے سے روکیں،آپ بار بار لاہور ہائیکورٹ کا ذکر کر دیتے ہیں قانون نہیں بتا رہے،آپ نے پنڈی میں بھی ایسے ہی کیا وہ جج بھی مینج نہیں ہو رہا تھا،آئی جی پنجاب نے کہاکہ بندے مر جائیں تو ہم جوابدہ ہیں۔

چیف جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ آپ پھر کرفیو لگا دیں،آپ کی جب مرضی ہوتی ہے تو تھریٹ لیٹر نکال دیتے ہیں،آئی جی پنجاب نے کہاکہ نہیں سر! ایسا نہیں ہے ، ہمارے بہت سارے بندے شہید ہوئے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے سرگودھا میں فائرنگ کیس میں دہشتگردی دفعات کیوں نہیں لگائیں،ابھی تک آپ نے کتنے ملزم گرفتار کئے؟آئی جی پنجاب نے کہاکہ جب تک جیو فینسنگ کی اجازت نہیں ملتی ملزم گرفتار ہونا مشکل ہے،چیف جسٹس ملک شہزاد نے کہاک بہاولپور میں جج کے گھر کا میٹر توڑ دیا گیا اس کا کیا بنا؟آئی جی پنجاب نے کہاکہ میں نے آر پی او بہاولپور سے بات کی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ باقی کتنے کام عدالت کے حکم کے بغیر کرتے ہیں؟ڈی پی او صاحب! آپ نے کیوں وکلا، سائلین اور قیدیوں کی وین کو عدالت جانے سے روکا،ڈی پی او نے کہاکہ دہشتگردی کا خطرہ تھا، اس لئے سب کو عدالت کے باہر روکا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا قیدیوں کی وین میں بم پھٹ جانا تھا؟آپ نے دہشتگردی خطرے کے نام پر لوگوں کے آئینی حقوق پامال کئے،ڈی پی او نے کہاکہ ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی زندگیاں بچانا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جج صاحب نے کہا ہے کہ انہیں کام سے روکا گیا،دہشتگردی کا خطرہ تو پورے پاکستان کو ہے تو آپ ملک بند کردیں،آئی جی صاحب! عدالت کو مذاق نہ سمجھیں،آئی جی صاحب! صوبے کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ ہوا لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی،آئی جی پنجاب نے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ پر حملہ ناکام بنانے پر مجھے خود شاباش دی، میری تعریف کی، عدالت نے کہاکہ آئی جی صاحب ! میں نے شاباش دیکر غلطی کردی، آپ نے بندے کیوں گرفتار نہیں کئے،عدالت نے آئی جی سمیت دیگر فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی پر فیصلہ محفوظ  کرلیا۔