پیٹرولیم لیوی میں فوری اضافہ نہیں ہو رہا،ہمارے پاس او رکوئی چارہ نہیں کہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں،وزیر خزانہ 

پیٹرولیم لیوی میں فوری اضافہ نہیں ہو رہا،ہمارے پاس او رکوئی چارہ نہیں کہ ...
پیٹرولیم لیوی میں فوری اضافہ نہیں ہو رہا،ہمارے پاس او رکوئی چارہ نہیں کہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں،وزیر خزانہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پیٹرولیم لیوی میں فوری طور پر اضافہ نہیں ہو رہا،پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا، ریٹیلرز پر ٹیکس 2022میں لگ جانا چاہئے تھا،ہمارے پاس او رکوئی چارہ نہیں کہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکس بیس بڑھانا ہے،ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13فیصد پر لے کر جانا ہے،نان فائلرز کیلئے بزنس ٹزانزیکشن پر ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے،معیشت کی ڈیجیٹائزیشن ترجیح ہے، ڈیجیٹائزیشن سے کرپشن کم ہو گی اور شفافیت بڑھے گی۔

وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہوگی،نان فائلرز کی اختراع کو ختم کرنے کی طرف یہ ایک قدم ہے،زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کا نفاذ ہوگا کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے،نان فائلرز کیلئے ٹیکس ریٹ میں اضافہ کیا گیا ہے،مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے،تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے خلاف صحافیوں کا نشستوں پر کھڑےہو کر احتجاج کیا، صحافیوں نے وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس شروع ہونے سے قبل ٹوکن احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کی رجسٹریشن رضاکارانہ طور پر شروع کی تھی،اب تک 31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جولائی سےٹیکس کا اطلاق ہوگا،ریٹیلرز پر یہ ٹیکس 2022میں لگ جانا چاہئے تھا،ہمارے پاس او رکوئی چارہ نہیں کہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں،پیٹرولیم لیوی میں فوری طور پر اضافہ نہیں ہو رہا،پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35فیصد ہے،ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہے،ان کا کہناتھا کہ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہے، 10فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح ناقابل برداشت ہے،غیردستاویزی معیشت کو ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے،ٹیکسوں کی کمپلائنس اور انفورسمنٹ نہیں ہوئی،اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کی جارہی ہے،اس سے انسانی مداخلت کم ہو گی، رشوت کم ہو گی۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ آئی ٹی سیکٹر کیلئے بہت بڑی رقم مختص کی ہے،پاکستان میں دنیا نی تیسری بڑی فری لانسرپاپولیشن ہے،مختص رقم سے آئی ٹی سیکٹر میں انفراسٹرکچر بہتر کیا جا سکے گا، ان کا کہناتھا کہ دوماہ میں بینک ایسوسی ایشن کے ساتھ پانچ میٹنگز کیں،مشاورت کی گئی کہ زراعت، آئی ٹی اور یوتھ کی فنانسنگ کس طرح کرنی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ بینکوں کے ساتھ تین اسکیمز جاری کرنے پر اتفاق ہوا ،بینک زراعت ، آئی ٹی اور ایس ایم ایز کے لیے اسکیمز شروع کریں گی ،ایگزیم بینکس ریفاننس اسکیم شروع کریں گی،ان کاکہناتھا کہ حکومت جس جس سیکٹر سے نکل جائے اتنا ہی بہتر ہے،حکومت کو پرائیوٹ سیکٹر کو آگے لانے کیلئے ماحول دینا ہوگا،ان کا مزید کہناتھا کہ ٹیکسسز لیکج کو کم کرنے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا گیا،مقصد تمباکو،سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں ٹیکس چوری روکنا تھا،سیلز ٹیکس میں بہت بڑی لیکج ہے جس کیلئے ڈیجٹل کررہے ہیں،شہریوں کے لائف اسٹائل کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس ہے،ڈیٹا کو کراس چیک کیا جائے گا اس کے بعد فیلڈ فارمیشن کو دیا جائے گا۔