فلسطینی نژاد خاتون یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب

فلسطینی نژاد خاتون یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب
فلسطینی نژاد خاتون یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن )فلسطینی نژاد خاتون ریما حسن یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوگئیں، وہ فرانس کی بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کی نمائندگی کرتی ہیں۔
غیر ملکی ویب سائٹ نیو عرب ڈاٹ کام کے مطابق 32 سالہ ریما حسن کی پارٹی ایل ایف آئی نے 9.9 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ انتہائی دائیں بازو کی نیشنل فرنٹ پارٹی نے 31 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔رپورٹ کے مطابق نومنتخب رکن پارلیمان ریما انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، وکیل اور پناہ گزینوں کی وکیل اور فلسطینی ورثے کی پہلی فرانسیسی شہری ہیں جو یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کے قانون ساز اداروں میں سے ایک ہے اور عام طور پر قانون منظور کرتی ہے۔
ریما حسن شام کے شہر حلب کے قریب نیرب کے فلسطینی کیمپ میں پیدا ہوئیں اور 9 سال کی عمر میں فرانس پہنچیں۔ ان کا کوئی ملک نہیں تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق موجودہ شمالی اسرائیل میں عکا سے ساڑھے 10 کلومیٹر دور مشرق میں واقع البروا گاو¿ں سے تھا۔ 2010 میں جب ان کی عمر 18 سال ہوئی تو وہ فرانسیسی شہری بن گئیں۔انہوں نے پیرس کی معروف سوربون یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون میں گریجویشن کی۔ انہوں نے نسلی امتیاز کو موضوع بناتے ہوئے جنوبی افریقہ اور اسرائیل میں قانونی موازنے پر مقالہ لکھا۔ انہیں 2023 میں فوربز فرانس سال کی بہترین خواتین کی فہرست میں بھی شامل کیا۔اپنے پورے کیریئر کے دوران، ریما حسن نے فرانس میں پناہ گزینوں کے حقوق کے لئے کام کیا اور ان کی وکالت کی۔ غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے آغاز کے بعد ایکشن فار فلسطین کلیکٹو نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث اب تک 37 ہزار سے زائد معصوم اور نہتے فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں ہی زخمی اور لاپتہ ہوچکے ہیں۔