اگلی صبح میں نیویارک واپس آگیا جہاں کچھ کام نبٹانے تھے، ابتدائی کامیابی کے بعد ٹیم کے دوسرے افراد نے میری برتری کو تسلیم کر لیا تھا

 اگلی صبح میں نیویارک واپس آگیا جہاں کچھ کام نبٹانے تھے، ابتدائی کامیابی کے ...
 اگلی صبح میں نیویارک واپس آگیا جہاں کچھ کام نبٹانے تھے، ابتدائی کامیابی کے بعد ٹیم کے دوسرے افراد نے میری برتری کو تسلیم کر لیا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:131
اگلی صبح میں نیویارک واپس آگیا جہاں مجھے کچھ کام نبٹانے تھے پھر 2دن بعد عمر بھی وہاں آ گیا۔ یہاں میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر چلا گیا اور اپنے ایک پرانے دوست شبیر چیمہ سے ملا جو اس وقت وہاں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ وہ اقوام متحدہ کے UNDP کے حلقوں میں بڑے عزت اور احترام سے دیکھا جاتا تھا۔ اس نے کئی کتابیں بھی تحریر کی تھیں۔ ڈاکٹر چیمہ کے سیکریٹری نے مجھے بتایا UN HABITAT والے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کو کسی کام کے سلسلے میں آپ سے بات کرنا تھی۔ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ مجھے یمن میں ایک نئے قصبے کے لیے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کی پیشکش کر رہے ہیں۔میں نے اُنھیں کہا کہ دوبئی پہنچ کر اس پیش کش پر غورکروں گا۔ عمر کو ساتھ لے کر ہم ایک براڈوے شو اور پھر فلم دیکھنے چلے گئے 2 دن اس کیساتھ گزارنے اور کچھ خریداری کرنے کے بعد میں  دوبئی کے لیے روانہ ہو گیا۔ جب کہ عمر واپس اپنی یونیورسٹی چلا گیا تاکہ وہاں سے اپنا سامان سمیٹ سکے۔
مجھے UN HABITAT  والوں کی پیشکش میں کافی کشش محسوس ہو رہی تھی اس کی 3 بنیادی وجوہات تھیں۔ پہلی تو یہ کہ یہ ایک طرح سے میری ترقی ہوگی جس سے نہ صرف میراقد کاٹھ بڑھے گا بلکہ میری پینشن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ یوں میں دوبئی کا پرو جیکٹ بہت نیک نامی کے ساتھ چھوڑ سکوں گا اور پھر میں اپنے بچپن کے سیر و تفریح کے شوق میں ایک اور ملک یمن کا اضافہ کر سکوں گا۔ دوسری طرف جس جوش اور جذبے سے میں نے دوبئی کا پرو جیکٹ شروع کیا تھا اب ا س کو بیچ میں نا مکمل چھوڑ کر جانا اس چیلنج سے راہ فرار اختیار کرنا تھا۔ میں نے اس سلسلے میں وسیمہ اور مدیحہ سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا۔ وسیمہ نے تو یہ سب کچھ میری صوابدید پر چھوڑ دیا لیکن مدیحہ نے اس بات پر اس کی مخالفت کی یمن میں خانہ جنگی ہو رہی ہے اور سیکیورٹی کے حالات صحیح نہیں ہیں اور ابھی پچھلے دنوں ہی وہاں قتل عام ہوا تھا اس لیے وہاں جانا مناسب نہیں ہے۔ انعام اور ان کے گھر والے بھی مجھے دوبئی میں ہی ٹھہرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔کیوں کہ یہاں ہم سب اکٹھے رہ کر ایک بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ میں نے ان سب کی سفارشات کی روشنی میں اور کچھ اپنے ذہن میں سوچ بچار کرکے اس پیشکش کو قبول نہ کرنے کا  فیصلہ لیا۔ مجھے یقین تھا کہ اس پیشکش کا نوفل کو پتہ چل جاتا تو اس کو غشی کا دورہ پڑ جانا تھا۔ یہاں میرے لیے موقع تھا کہ میں اس پیشکش کی بنیاد پر یمن نہ جانے کی شرط پر نوفل سے ایک بڑے معاوضے کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ جو کہ وہ مان بھی جاتا لیکن یہ میری فطرت کے خلاف تھا۔ میر ی ابتدائی کامیابی کے بعد ٹیم کے دوسرے افراد نے میری برتری کو تسلیم کر لیا تھا۔ اور میں نے اُنھیں حسب ضرورت کام بھی تفویض کرنا شروع کر دیئے تھے تاکہ اس پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔
عمر پرو ڈیو یونیورسٹی سے فارغ ہو کر دوبئی آگیا تھا۔ اس دوران میں نے اس کے لیے مناسب ملازمت کے مواقع تلاش کرنے شروع کردئیے لیکن جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ وہ دوبئی میں ملازمت کے لیے پرجوش نہیں ہے۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ XILINX  نام کی ایک کمپنی نے اسے ملازمت کی پیشکش کی ہے۔ میں نے اس کمپنی کا پتہ کیا تو علم ہوا کہ چپ ڈیزائن اور اپلیکیشن میں کاروبار کرتی تھی۔   کچھ دنوں بعد وہ اپنی مجوزہ ملازمت کے لیے پوری طرح تیار ہو کر جانے کی تیاری کر چکا تھا۔ میں نے اسے ابتدائی اخراجات کے لیے کچھ رقم دینا چاہی لیکں اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے وہاں پہنچتے ہی کمپنی والے بطور بونس کچھ پیسے دیں گے جن سے اس کا کام چل نکلے گا۔ وہ بڑے پر اعتماد طریقے سے اپنے معاملات خود ہی نبٹا رہا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ اب انتہائی خود اعتماد ی اور بے باکی کے ساتھ ایک اعلیٰ   ایگزیکٹو کی حیثیت سے دنیا کی ٹیکنالوجی کا گڑھ مانے جانے والی سلیکون ویلی میں باہمی اور سخت مقابلے کے ماحول میں اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہے۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -