جھاڑو دینے اور جھاڑو پھیرنے والے

جھاڑو دینے اور جھاڑو پھیرنے والے
جھاڑو دینے اور جھاڑو پھیرنے والے

  

روزانہ کئی مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں جو آ نکھوں سے اوجھل ہوتے ہی دماغ سے غائب ہو جاتے ہیں۔ چند ایسے بھی جو کمپیوٹر کی طرح دماغ میں محفوظ رہتے ہیں۔ اس طرح کے اکثر مناظر کسی حادثے یا واقعے کے نتیجے میں دماغ کی سکرین پر اچانک لوٹ آتے ہیں اور آنکھوں کے سامنے اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں کہ غائب ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ان دنوں اس طرح کے چند مناظر دوبارہ آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ آنکھیں بند بھی ہو جائیں تو نظر آتے رہتے ہیں اور لاکھ کوششوں کے باوجود غائب ہونے کا نام نہیں لیتے۔ صبح منہ اندھیرے سیر کیلئے نکلتے ہی مجھے روزانہ اس طرح کے مناظر دیکھنے پڑتے ہیں پہلے ان کا عکس مصنوعی یا عارضی محسوس ہوتا تھا۔ لیکن کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی وجہ سے روزمرہ کے یہ مناظر ایک دائمی حقیقت کے روپ میں ایک فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چوبیس گھنٹے مسلسل چلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔

میں روزانہ ایک بوڑھے شخص کو دیکھتا ہوں جس نے گندے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ دھوتی اس کے گھٹنوں سے اوپر ہوتی ہے اور اس کی کمزور اور سوکھی ہوٹی ٹانگوں کا نچلا حصہ واضح نظر آتا ہے۔ یہ ایک انسان کی نہیں بلکہ کسی بکری کی ٹانگیں محسوس ہوتی ہیں۔ میں اس بوڑھے خاکروب کو روزانہ غور سے دیکھتا ہوں جو میرے راستے کی روزانہ صفائی کرتا ہے۔ شاید اس کی کمر میں مستقل درد رہتا ہے۔ جب جھاڑو دینے کیلئے اسے زیادہ جھکنا پڑتا ہے تو اس کی زبان تو بند رہتی ہے لیکن چہرے کی آوازیں ضرور سنائی دیتی ہیں۔ یہ چہرہ ایک ایسے انسان کا ہے جو درد کی شدت سے کراہنا چاہتا ہے لیکن کسی خوف یا مجبوری کی وجہ سے ایسا کر نہیں سکتا۔ پھر وہ کمر اوپر کرتا ہے تو اپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر رکھتا ہے شاید اس کے گھٹنے میں بھی درد ہے۔ پھر اسے زور دار کھانسی آتی ہے اور جھاڑو اس کے ہاتھ سے سرک کر زمین پر گرتا ہے۔

کھانسنے سے اس کی میلی قمیض چھاتی سے اچھلنے لگتی ہے اور گردن کی رگیں کھانسی کی شدت اور سانس کی تنگی کی وجہ سے پھولنے لگتی ہے۔ شاید وہ دمے کا مریض ہے۔ میں روزانہ کئی افراد سے سلام لیتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ غریب ہو یا امیر۔ سب سے سلام لوں، لیکن میں اس خاکروب سے سلام نہیں لیتا۔ اس کی وجہ کا مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ میں خاکروب سے سلام کیوں نہیں لیتا۔ میں مزید آگے جاتا ہوں تو ایک خاکروب عورت کو دیکھتا ہوں۔ اکثر یہ اکیلی جھاڑو دیتی ہے۔ خوفزدہ چہرہ اور سہمی صورت۔ یہ مجھے دور سے ہی دیکھ کر جھاڑو دینا بند کر دیتی ہے۔ شاید اس لئے کہ خاک میرے صاف کپڑوں کو آلودہ نہ کرے۔ بوڑھے خاکروب کے برعکس یہ تیز تیز جھاڑو دیتی ہے۔ عمر زیادہ نہیں لیکن اس کا چہرہ جھریوں سے اس طرح بھرا پڑا ہے جیسے ساٹھ سال کی بوڑھی عورت کا ہوتاہے۔ اس کی آنکھیں غمناک ہیں۔ شاید ان میں خاک پڑتی رہتی ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے جو مجھے معلوم نہیں۔

 ایک دن میں نے دیکھا کہ یہ عورت ایک بچے کو بھی اپنے ساتھ لائی ہے۔ اس دن یہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ جھاڑو دیتی ہے۔ بچہ اس کو تنگ کرتا ہے۔ شاید گھر جانے کی ضد کر رہا ہے۔ بچہ اسے تنگ کرنے سے باز نہیں آتا تو وہ اس کو سمجھانے لگتی ہے۔ تمہیں نظر نہیں آتا آج کوڑا زیادہ ہے۔ ”گندگی زیادہ ڈالی ہوئی ہے۔ کل عید جو تھی۔ “ بچہ جواب دیتا ہے کہ ”گندگی تو گندے بچے ڈالتے ہیں۔“ ماں بچے کو گھورتی ہے اور دوبارہ جھاڑو دینے لگتی ہے۔ میں کئی اور بھی مناظر روزانہ دیکھتا ہوں۔ ایک سفید کپڑوں میں خوش لباس، صحتمند انسان ایک گندے نالے پر کھڑا ہے اور ایک نحیف و نزار میلا کچیلا انسان اس گندے نالے میں ننگے پاﺅں کھڑا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے گندے پانی سے آلائشیں نکال کر باہر رکھ رہا ہے تاکہ نالے کی صفائی ہو جائے اور پانی چلتا رہے۔ سفید کپڑوں والا شخص شاید نحیف ونزار انسان کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ وہ ہڈ حرامی نہ کرے اور ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دے۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ چند انسان بغیر دستانوں سے گٹر صاف کرتے ہیں۔ گندا کچرا اٹھاتے ہیں۔ میں جلدی سے وہاں سے گزرتا ہوں کیونکہ مجھے بدبو آتی ہے اور گندگی دیکھ کر متلی ہونے لگتی ہے۔ میں گھروں میں کام کرنے والی ان عورتوں کے بارے میں بھی سنتا اور پڑھتا رہتا ہوں جن کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ ان میں سے کئی کے جسموں پر استری کے نشان ہیں۔ ان کو جانوروں کی طرح جن کو مالک پہچاننے کے لئے نشان لگاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان عورتوں کے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے جو آپ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔میں ٹیلی ویژن آن کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ خاکروب مرد اور عورتیں ماتم کر رہی ہیں۔ آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ بچے آہ و بکا کر رہے ہیں اور ہر طرف قیامت صغریٰ کے مناظر ہیں۔ اس طرح کے مناظر دیکھنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔

میں ٹیلی ویژن بند کر دیتا ہوں اور کچھ دیر آرام کرتا ہوں۔ میں دوبارہ ٹیلی ویژن آن کرتا ہوں تو مجھے قیمتی آرام دہ گاڑیوں کے قافلے نظر آتے ہیں۔ ان میں ہٹے کٹے لوگ سوار ہیں۔ وہ جس روڈ سے گزرتے ہیں اپنی خوشحالی کے نشانات بھی چھوڑتے جاتے ہیں۔ ان کی آمد سے پہلے اور روانگی کے بعد سڑکیں اس طرح صاف ستھری اور اُجلی نظر آتی ہیں جیسے ان پر جھاڑو پھیرا گیا ہو۔ یہ شاید جھاڑو پھیرنے والے ہیں۔ کچھ لوگ اس ملک میں جھاڑو دیتے ہیں اور کچھ وطن عزیز پر جھاڑو پھیرتے ہیں اور اس کی اس طرح صفائی کرتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ خزانے پر جھاڑو پھیرنے اور سڑکوں پر جھاڑو پھیرنے والوں میں فرق تو ہونا چاہئے۔ یہ فرق ان کے معیار زندگی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے واضح ہو جاتاہے۔ سڑکوں پر جھاڑو دینے والے کسی شخص کو سلام کرنے کی مجھ میں کبھی ہمت نہیں ہوئی لیکن ملک میں جھاڑو پھیرنے والے ہر شخص کو میں سلام کرتا ہوں۔ اس کے گن گاتا ہوں۔ اس کی عزت کرتا ہوں۔ اسے جھک کر ملتا ہوں اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا میں زندگی کی بہت بڑی کامیابی تصور کرتا ہوں۔ آپ بھی شاید ایسا ہی کرتے ہونگے۔ ہم سب بہت سمجھدار ہیں۔ اپنے اچھے برے کو خوب سمجھتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں چڑیا کا گھونسلہ جلانے پر ہمیں نیند نہیں آتی تھی لیکن اب ترقی یافتہ دور میں جب انسانوں کے گھر جلتے ہیں تو ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔    ٭

مزید :

کالم -