خواتین کی برابری: سب کی ترقی

خواتین کی برابری: سب کی ترقی

  

اللہ تعالیٰ سورہ¿ آل عمران میں صنفی مساوات کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:”مَیں تم سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیںہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو “۔

نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے سنہری دور میں زندہ درگور ہوتی ہوئی عورت کو انسانیت کا شرف ملا، سراُٹھا کر جینے کا سلیقہ اور رائے کی آزادی ملی، عورت کو مرکز خاندان ہونے کے ناتے مثالی اہمیت صرف دین اسلام کی عنایت ہے۔ عورت کو وراثت میں باقاعدہ حق صرف اسلام نے دیا ۔ خاتون خانہ کی محرومی، مجبوری اور تلخی کو آسودگی، وقار اور عظمت حاصل ہوئی ۔ کتاب حکمت میں جا بجا حقوق نسواں کا ذکر ہے ۔ دین حق نے گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ڈھوتی،معاشرتی جبر کی تنی رسی پر چلتی ، محرومیوں کے مہیب سایو ں کو پچھاڑتی اور معمولات زندگی سے ٹکراتی عورت کو باوقار مقام عطاکیا ۔

امریکہ میں فروری 1908ءمیں سماجی جبر کی شکار عورت نے پہلی بار ووٹ کے حق ، معاشی اور سماجی برابری کے لئے پہلی عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا۔1910ءمیں حقوق نسواں کے لئے سرگرداں سوشلسٹ خواتین کی دوسری عالمی کانفرنس میں17ممالک کی نمائندہ خواتین نے شرکت کی اور 8مارچ کو عالمی یوم خواتین کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ 1911ءمیں آسٹریا، ڈنمارک ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں 8مارچ کو پہلا عالمی یوم خواتین ڈے منایا گیا۔1973ءمیں اقوام متحدہ نے ہر سال عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے خصوصی دن منانے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد جنسی تخصیص کا خاتمہ اور حقوق نسواں کا شعور بیدار کرنا تھا۔ 1977ءمیں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو 8مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کا پابند کیا گیا اور خواتین سے متعلق تمام امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے کا کنونش سیڈا (CEDAW) تشکیل دیا گیا۔ رواں سال خواتین کا عالمی دن ”خواتین کی برابری....سب کی ترقی“ کے عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ صنف نازک نے جبر کا سامنا کرکے خود کو منوا لیا، اب صنف قوی کو بھی سوچ بدلنا ہو گی۔

صنفی امتیاز عوت کے بڑھتے قدم نہ روک سکا۔ رنگ و نسل ، عوت و مرد کی تخصیص ختم ہوئی، اب ذہانت اور صلاحیت ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ لیڈر شپ کو تسلیم نہ کئے جانے کے باوجود کارپوریٹ اداروں میں فیصلہ ساز عہدوں پر خواتین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جس کی وجہ بہترین انتظامی صلاحیتیں، موثر کنٹرول اور بہترین نظم و ضبط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ترقی کے سفر میں خواتین کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پہلی بار وومن امپاورمنٹ پیکیج 2012ءکا اعلان کیا، جس کے تحت متعدد انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں۔حکومت نے دیہی علاقوں میں اراضی کی تقسیم کے وقت ورثاءمیں اراضی کی منتقلی اور تقسیم کے لئے درخواست دینے کی شرط کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب ریونیوآفیسر پر یہ لازم ہو گا کہ وہ مالک اراضی کی وفات پر کسی درخواست کا انتظار کئے بغیر اراضی کے انتقال کا عمل شروع کرے اور ساتھ ہی اراضی کی تقسیم روبہ عمل لائے تاکہ تمام وارثوں، بشمول خواتین کو ان کا قانونی حق فوراً ملے۔ اِسی طرح خواتین کی وراثتی جائیداد ہتھیانے کی جعل سازیوں کے قلع قمع کے لئے تمام وارثان کے لئے ب فارم پیش کرنا ضروری ہے۔ صوبائی حکومت نے اراضی کی تقسیم میں بے قاعدگیوںکو روکنے اور ورثاءکے قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے ضلعی سطح پر خصوصی کمیٹیاںتشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ کمیٹی ہر ماہ کم ازکم ایک مرتبہ اپنا اجلاس منعقد کر ے گی۔ نئے قانون کے تحت عدالت شہری علاقوں میںتقسیم جائیدا د کی درخواست موصول ہونے کے فوراً بعد مدعا علیہ کو نوٹس جاری کرے گی، جس کے تحت وہ 60روز کے اندر مدعی کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا پابند ہو گا۔ شہری و دیہی علاقوں میں وارثتی جائیداد کی تقسیم کو آسان اور بدعنوانیوں سے پاک بنانے کے لئے جائیداد کی تقسیم پر عائد سٹیمپ ڈیوٹی واپس لی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کے وومن امپاورمنٹ پیکیج کے تحت اب سرکار کی طرف سے دی جانے والی ایسی ہر اراضی میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہو گی،جس میں دونوں کا حصہ برابر ہوگا۔ تمام سرکاری اداروں ، کمیٹیوں و ٹاسک فورسز میں خواتین کا 33فیصد کوٹہ لازم ہو گا، جبکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن میں بھی خواتین ممبرز کے لئے 33فیصد کوٹہ رکھا جائے گا۔ تعلیمی و سرکاری اداروں میں ہنگامی بنیادوں پر ڈے کیئر سنٹرز قائم کئے جائیں گے اور خواتین کی شکایات کے ازالے کے لئے خاتون محتسب مقرر کی گئی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر خواتین کی مناسب نمائندگی ، پنجاب 2014ءکا قانون منظور کیا ہے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے فوزیہ وقار کو صوبائی وومن کمیشن کی چیئرمین مقرر کردیا ہے ۔ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ کے ذریعے 4 اضلاع میں 4ہزار خواتین کے لئے ٹیکنیکل مارکیٹ ٹریننگ پروگرام میں لاہور سمیت 10 مزید اضلاع جلد شامل کئے جائیں گے۔ گھریلو ملازمہ خواتین کی ٹریننگ، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام لائیوسٹاک اور پولٹری کے لئے خواتین کی ٹریننگ، ورکرز ویلفیئربورڈ کے زیراہتمام ورکرز کی بیویوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ اوراقلیتی خواتین کی ٹیوٹا کے زیراہتمام مفت فنی تربیت بھی شامل ہے۔

انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام خواتین کی معاشی خود انحصاری کے لئے روزگار بنک خصوصی معاونت فراہم کرے گا، سنڈے اور رمضان بازار میں خواتین کے سٹالوں پر مشتمل منی وومن بازار لگائے جائیں گے۔ لیبر کالونیوں میں ہاتھ سے بنے کپڑوں، جیولری اور ہینڈی کرافٹ کی فروخت کے لئے کاٹیج ویلج قائم ہوں گے۔ دیہی خواتین کو مرغیوں اور مویشیوں کی مفت فراہمی جاری ہے۔ خواتین کے اداروں میں خواتین کنٹریکٹرز کو کینٹین کے ٹھیکے دیئے جائیں گے۔محکمہ صحت اور تعلیم میں خواتین ملازمین کو چھٹیوں کی منظوری کے لئے ڈویژنل سطح کے افسران کو اختیارات منتقل کئے جائیں گے۔ خواتین ملازمین کے لئے ریڈینشل واﺅچر سکیم متعارف کرائی جائے گی۔نجی اداروں میں خواتین کو ملازمت فراہم کرنے کے رحجان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ورکنگ وومن کے لئے پنجاب ڈے کیئر فنڈ کا اجراءاور ڈے کیئر سنٹر پر کام کرنے والی خواتین کی ٹریننگ بھی شامل ہے۔ٹریڈ یونین عہدیداروں میں خواتین کا حصہ حکومت کی پالیسی ہے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لئے رضاکارانہ پروگرام جاری ہے۔

دیگر اقدامات میں وومن ایکٹ 2014ءکے تحت خواتین کے مقام کے تعین کے لئے پنجاب کمیشن کا قیام، ہر پولیس سٹیشن میں خواتین کے لئے ہیلپ ڈیسک، خواتین کی شکایات کے ازالے کے لئے ٹال فری نمبر، ہر ضلع میں فیملی کورٹ کمپلیکس، فیملی لا اصلاحات، بچیوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی کے لئے رجسٹریشن فیس کا خاتمہ، تعلیمی نصاب میں خواتین اور مرد کے درمیان صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے خصوصی اسباق، ملازم خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے وومن امپاورمنٹ پیکیج 2012ءکے تحت ایم پی ڈی ڈی ریونیو اکیڈمی، پولیس ٹریننگ سینٹر اور دیگر ٹریننگ مراکز پر خصوصی تربیتی کورس، ملازم خواتین کے لئے سکوٹیز کی فراہمی کا پروگرام شامل ہے۔جدید دور کے تقاضوں کے تحت خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب طالبات کے لئے چار یونیورسٹیاں اور 57نئے گرلز کالج قائم کرچکی ہے، جبکہ گرلز سکولوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی کے 45 ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جارہے ہیں۔

حکومت پنجاب صنفی امتیاز کی نفی کرتے ہوئے ہر شعبہ ہائے زندگی میں مرد و خواتین کے لئے یکساں مواقع کی پالیسی پر گامزن ہے ، عورت کے ساتھ امتیازی سلوک اور سماجی ناانصافیوں کی تلافی کے لئے نئے قوانین کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کو بیدار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ خواتین کے حوالے سے ایسی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں، جن کو قانونی اور آئینی حیثیت حاصل ہو،کیونکہ وطن عزیز کو معاشی طور پر مستحکم اور باوقار مقام دینے کے لئے خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -